بنیادی صفحہ » اہم واقعات »

بیواﺅں کا عالمی دن

بیواﺅں کا عالمی دن

منصور مہدی
آج بیواﺅں کا عالمی دن ہے۔ اس دن کو منانے کا فیصلہ اقوام متحدہ نے 21دسمبر2010کو کیا گیا اور پہلا دن 23جون2011کو منایا گیا۔ دراصل یہ خراج عقیدت ” لومبا فاﺅنڈیشن ” کے بانی لارڈ لومبا کی والدہ شری متی پشپا وتی لومبا کو ہے جو خود بھی بیوہ تھی اور انھوں نے بیوﺅں کی فلاح و بہبود کے کام کا آغاز کیا۔ اس دن کے منانے کا مقصد دنیا بھر کی 245ملین سے زائد بیواﺅں کی دل جوئی اور ان کی فلاح کا عزم کرنا ہے جن کے شوہر اب دنیا میں موجود نہیں ہیں اور وہ ان کی غیر موجودگی میںان کے بچوں کی پرورش میں اپنی باقی ماندہ زندگی صرف کر رہی ہیں۔ اقوام متحدہ کی رپورٹ کے مطابق 115ملین سے زائد بیوائیں نہایت کسمپرسی میں زندگیاں گزار رہی ہیں۔ بھارت میں 50ملین جبکہ پاکستان میں 6ملین کے قریب بیوائیں موجود ہیں۔
اقوام متحدہ کی رپورٹ کے مطابق ایسی بیوائیں کہ جن کے شوہر حکومتی ملازمتوں کے دوران انتقال کر جاتے ہیں ان کے لیے تو حکومتیں پنشن اور دیگر فنڈز کی مد میں مدد کرتی ہیں مگر جن کے شوہر پرائیویٹ سیکٹر سے تعلق رکھتے ہیں ،ان کی باقی کی زندگی گزارنے کے لیے کوئی ادارہ موثر طور کام نہیں کر رہا اور ایسی بیواﺅں کی تعداد کثرت میں ہے کہ جو شوہر کے انتقال کے بعد نہایت مجبوری اور مایوسی کے عالم میں جی رہی ہیں۔
اس دن کے منانے کا مقصد بھی ہے کہ ایسی خواتین اور ان کے بچوں کی فلاح بہبود کے لیے نہ صرف حکومتی سطح پر بلکہ عوامی سطح پر بھی ایسے ادارے قائم کیے جائیں کہ جہاں سے ان خواتین کو سپورٹ کیا جا سکے۔ اقوام متحدہ کی رپورٹ کے مطابق دنیا میں بھارت جیسے بہت سے خطے ایسے ہیں کہ جہاں پر بیواﺅں کے ساتھ ناروا سلوک رکھا جاتا ہے بلکہ زمانہ قدیم میں تو بیوہ عورت کو اس کے مرے ہوئے شوہرکے ساتھ ہی زندہ جلا دیا جاتا یا زمین میں دفن کر دیا جاتا تھا۔ اگرچہ اسلام نے جہاں پر عام خواتین کے حقوق کی پاسداری کی وہاں بیواﺅں سے اچھے سلوک کی تلقین کی۔

جواب لکھیں

آپ کا ای میل شائع نہیں کیا جائے گا۔نشانذدہ خانہ ضروری ہے *

*

%d bloggers like this: