بنیادی صفحہ » الیکشن »

الیکشن 2018اور سیاسی جماعتوں کی صف بندیاں

Try WordPress Hosting Free for 30 Days | Cloudaccess.net

الیکشن 2018اور سیاسی جماعتوں کی صف بندیاں

اینٹی بھٹو اور پرو بھٹو کی طرز پر اس بار اینٹی نواز اور پرو نواز انتخابی اتحاد میدان میں اتر سکتا ہے
منصور مہدی
2018 الیکشن کا سال ہے، اس کے شروع ہوتے ہی ملکی سیاسی جماعتوں نے نہ صرف اپنی سرگرمیاں تیز کر دیں بلکہ ایک دوسرے کا مقابلہ کرنے کیلئے صف بندیاں قائم کرنا شروع کر دی ہیں۔ ہم اگر گذشتہ چند ماہ میں ہونے والے ضمنی انتخابات خصوصاً لاہور کا ضمنی الیکشن دیکھیں تو محسوس ہوتا ہے کہ یہ ضمنی الیکشن کچھ جماعتوں کیلیے تو کچھ بھی نیا پن نہیں لایا لیکن کچھ ایسی جماعتیں بھی ہیں کہ جن کیلئے یہ الیکشن بہت کچھ نیاپن لایا ہے۔
حلقہ این اے 120میں ہونے والا ضمنی انتخاب میں پاکستان تحریک انصاف نے اگرچہ 2013کے مقابلہ میں پانچ ہزارکم ووٹ لیے، لیکن یہ کمی ٹرن آو¿ٹ کم ہونے کی وجہ سے زیادہ اہمیت کا حامل نہیں، لیکن یہ بات ثابت ہوتی ہے کہ پنجاب میں پاکستان تحریک انصاف ہی پاکستان مسلم لیگ ن کی اصل حریف ہے اور اس کا ووٹ بنک 2013 کے مقابلے میں قطعاً کم نہیں ہوا، بلکہ شائد معمولی سا بڑھاہے۔
لاہور شہر کی سیاست میں بظاہر جماعت اسلامی کا بڑا نام ہے مگر الیکشن میں کارکردگی مایوس کن ہے، 2013کے انتخابات میں جماعت اسلامی کا امیدوار صرف اس حلقے سے محض 950 اور اس ضمنی الیکشن میںصرف چھ سو کے قریب ووٹ لے سکا، اسکا مطلب ہے پنجاب میں اسکی صورتحال قطعی طور پر ٹھیک نہیں، یہ کسی بھی بڑی جماعت کی حریف نہیں بن سکتی اور نہ ہی اس کے حلیف بننے سے کسی کو فائدہ ہو سکتا ہے۔
اس ضمنی الیکشن میں پاکستان پیپلز پارٹی کی کارکردگی کو دیکھا جائے تو 2013کے الیکشن میں اس کے امیدوار نے ڈھائی ہزار ووٹ لیے تھے جبکہ اس میں محض چودہ سو ووٹ لے سکے، جس سے ظاہر ہوتا ہے کہ لاہور شہر اب پاکستان پیپلز پارٹی کے ہاتھوں سے نکل چکا ہے اور اس کے ووٹ بنک کا پاکستان تحریک انصاف کے ہاتھوں صفایاہو چکا ہے۔
اس ضمنی الیکشن میں اگر کسی پارٹی کیلئے کچھ نیا پن ہے تو ان میں ایک پاکستان مسلم لیگ ن ہے، کیونکہ 2013میں 40ہزار کی لیڈ لینے والی پارٹی ضمنی انتخاب میں حکومت ہونے کے باوجود صرف 14ہزار کی لیڈ لے سکی۔ دوسرے نمبر تحریک لبیک رسول اللہ ہے، جس نے اس الیکشن میں پہلی بار اپنا امیدوار میدان میں اتارا جس نے 7ہزار سے زائد ووٹ لیے، اس پارٹی نے ممتاز قادری کے نام پر بریلوی ووٹ بنک کو یکجا کرنے کی نیت سے سیاست کے میدان میں اترنے کا فیصلہ کیا اور نارمل کمپئن اور نارمل وسائل خرچ کر کے تیسری پوزیشن لی، اور دوسری نئی پارٹی ملی مسلم لیگ رہی ، اس نے بھی پہلی بار الیکشن میں حصہ لیا اور ان کے امیدوار نے 6ہزار کے قریب ووٹ لیے، ملی مسلم لیگ جو اہلحدیث مسلک کی جہادی و فلاحی تنظیم جماعت الدعوہ کو سیاسی شیلٹر دینے کیلیے بنائی گئی ہے، اس نے بھی اچھا ووٹ لیا۔
اب اگر انتخابات2018میں تمام مذہبی جماعتیں مل کر ایک پلیٹ فارم پر الیکشن لڑیں تو شاید خیبر پختونخوا اور بلوچستان میں زیادہ نشستیں حاصل کر لیں جبکہ پنجاب اور سندھ میں کافی نشستیں لے سکتی ہیں، مگر ان جماعتوں کا اتحاد ہونا پل صراط سے گزرنے کے مترادف ہے۔
نئی صف بندیوں میں ایک صورت یہ بھی ہو سکتی ہے کہ اس بار پرو ن لیگ اور انٹی ن لیگ کے نام پر الیکشن لڑا جائے، جیسا کہ ماضی میں پرو بھٹو اور انیٹی بھٹو کے نام پر انتخابات ہوتے آ ئے ہیں،اگر انتخابات 2018میں کوئی ایسی صورتحال بنتی ہے تو پاکستان مسلم لیگ ن کے ساتھ جمیعت علما اسلام ( ف ) جمعیت علما پاکستان، قوم پرست جماعتیں، ایم کیو ایم اور ساجد میر وغیرہ شامل ہو سکتے ہیں، جبکہ دوسرے گروپ میں پاکستان تحریک انصاف، پاکستان پیپلز پارٹی، پاکستان مسلم لیگ ( ق ) ، جماعت اسلامی، مجلس وحدت المسلمین، پاکستان عوامی تحریک، پاک سرزمین پارٹی اور شیخ رشید وغیرہ شامل ہوسکتے ہیں۔

اپنی رائے دیں

%d bloggers like this: