بنیادی صفحہ » الیکشن »

پاکستانی خواتین کا انتخابی عمل میں کردار

Try WordPress Hosting Free for 30 Days | Cloudaccess.net

پاکستانی خواتین کا انتخابی عمل میں کردار

خواتین کی شرکت بڑھانے کیلئے حکومت ووٹروں کی رجسٹریشن اور نامزدگی کے کاغذات کو مزید آسانبنائے
منصور مہدی
2013 کے عام انتخابات میں، پاکستان بھر سے 147 خواتین نے قومی اسمبلی (این اے) کی نشستوں کے لیے انتخابات میں حصہ لیا اور 300 سے زیادہ نے صوبائی اسمبلی کی نشستوں کے لیے انتخاب لڑا۔ ان میں سے 6 خواتین قومی اسمبلی پہنچنے میں کامیاب رہیں ، بعد ازاں ضمنی انتخابات کے ذریعے مزید 4خواتین کامیاب ہوئی، جبکہ دیگر 10 صوبائی اسمبلیوں کے لیے منتخب ہوئیں۔خواتین امیدواروں کی تعداد میں مسلسل اضافہ ہو رہا ہے، 2008 میں 73 نے انتخاب لڑاتھا اور 2002 کے عام انتخابات میں 57 خواتین نے حصہ لیا تھا۔
2017میں لاہور میں این اے 120 کی نشست کے لیے لڑے جانے والے ایک انتخاب میں، دو خواتین نے 17 ستمبر کے ضمنی انتخابات میں مقابلہ کیا، یہ نشست معزول کیے جانے والے وزیراعظم نواز شریف کی نہ اہلی کے بعد خالی ہوئی تھی، پاکستان مسلم لیگ ن کی بیگم کلثوم نواز شریف جو کہ سابقہ وزیراعظم کی اہلیہ ہیں، نے 61,745 ووٹوں سے کامیابی حاصل کی۔ ان کی حریف ڈاکٹر یاسمین راشد، جن کا تعلق پاکستان تحریک انصاف سے ہے، نے 47,099 ووٹ حاصل کیے، اس ضمنی انتخاب میں کلثوم نواز کے لیے انتخابی مہم ان کی بیٹی مریم نواز نے چلائی تھی، اس انتخاب میںیہ بات بھی قا بل ذکر ہے کہ مرد امیدواروں میں سے کسی کو بھی 7,200 سے زیادہ ووٹ نہیں ملے۔
دریں اثنا، خواتین کی بڑی تعداد نے 26 اکتوبر2017 کو ہونے والے پشاور کے این اے 4 کے ضمنی انتخابات کی مہم میں سرگرمی سے حصہ لیا، ان خواتین نے اپنے امیدواروں کے لیے پولنگ سے ہفتوں پہلے اپنے امیدواروں کے لیے جارحانہ مہم چلائی، حالانکہ این اے 4 پشاور کا قدامت پسند ترین حلقہ ہے، اس میں نہ صرف خواتین ووٹرز سارے پولنگ اسٹیشنوں میں ووٹ ڈالنے آئیں بلکہ خواتین نے اپنے امیدواروں کے لیے مہمات بھی چلائیں، اس دوران کچھ خواتین نے زیادہ خواتین ووٹروں کو متوجہ کرنے کے لیے روایتی برقع میں مہم چلائی۔
الیکشن 2018میں گذشتہ انتخاب کی نسبت مزید زیادہ خواتین کے حصہ لینے کی توقع ہے، کیونکہ جس کی ایک بڑی وجہ قومی اسمبلی نے انتخابی اصلاحات کا قانون پاس ہونا ہے، اس قانون میں خواتین کی انتخابات میں شمولیت کو بہتر بنانے کے لیے بہت سے اقدامات کیے گئے ہیں، جن میں سیاسی جماعتوں کے لیے عمومی نشستوں میں سے کم از کم 5 فیصد نشستوں کو خواتین کے مختص کرنے کی شرط بھی شامل ہے، یہ قانون 2014 میں انتخابی اصلاحات کے لیے بنائی جانے والی 33 ارکان پر مبنی پارلیمانی کمیٹی کی طرف سے فراہم کی جانے والی تجاویز پر بنایا گیا ہے، اس کمیٹی نے 118 میٹنگز کیں اور انتخابی عمل کے لیے 105 ترامیم تجویز کی تھیں۔
سیاست میں سرگرم خواتین کا کہنا ہے کہ جو خواتین عوامی حقوق کے لیے کام کر رہی ہیں، ان کی نہ صرف ووٹروں، کارکنوں اور حکومتی شعبوں کی طرف سے حوصلہ افزائی کی جانی چاہیے بلکہ سیاسی جماعتوں کی اعلی قیادت کو بھی ایسا کرنا چاہیے، انتخابی عمل میں خواتین کی شرکت کو صرف اصلاحات اور سیاسی جماعتوں اور حکومت کی مخلصانہ کوششوں سے ہی بہتر بنایا جا سکتا ہے، ووٹ دینے کے حق اور مقابلہ کرنے کے حق کے بارے میں آگاہی اور پولنگ اسٹیشنوں پر خواتین کی طرف سے ووٹ دینے کی کوششوں کو باسہولت بنانے سے ہی انتخابی عمل میں بطور ووٹ دہندہ اور امیدوار کے طور پر ان کے کردار کو مزید بہتر بنایا جا سکتا ہے۔
حکومت کو ووٹروں کی رجسٹریشن اور نامزدگی کے کاغذات کو مزید آسان بنانے کی ضرورت ہے تاکہ قبائلی علاقوں اور خیبر پختونخواہ کے دور دراز کے علاقوں سے خواتین کی شرکت کو بڑھایا جا سکے۔

اپنی رائے دیں

%d bloggers like this: