بنیادی صفحہ » الیکشن »

الیکشن 2018اور عوام کی امیدیں

الیکشن 2018اور عوام کی امیدیں

عوام حکمرانوں کی اجارہ داری اور عوامی وعدوں سے پھر جانے کی عادت سے نالاں ہیں!
اقتدار میں رہنے والی سیاسی جماعتوں کے پاس کچھ ایسا نیا نعرہ نہیں ہے کہ جس سے عوام کو ایک بار پھر بے وقوف بنایا جاسکے
منصور مہدی
جب بھی نئے الیکشن ہوتے ہیں تو عوام بھی نئی امیدیں باندھ لیتے ہیں، پرانی حکومت اور نئی آنے والی حکومت کے درمیان موازنہ شروع ہوجاتا ہے کہ پرانی حکومت نے عوام کو کیا دیا اور نئی آنے والی حکومت کس کی ہوگی تو عوام کو کیا کچھ مل سکے گا، موجودہ حکومت جو مئی کے آخر میں سابقہ ہو جائے گی نے عوام کو کیا کچھ دیا اور اس نے عوامی مفاد میں کیا کیا اقدامات اٹھائے، ان کے پانچ برس کیسے گزرے، اس پر اتنا کچھ لکھا جاچکا ہے کہ اس پر مزید رائے دینے کرنے کی ضرورت نہیں ہے۔
اب جب کہ الیکشن کا سال شروع ہو چکا ہے تو ہر طرف یہ سوال کیا جا رہا ہے کہ آنے والے الیکشن میں پاکستان تحریک انصاف، پاکستان مسلم لیگ ن، پاکستان پیپلز پارٹی، ایم کیو ایم، پاک سر زمین، پاکستان مسلم لیگ ق ، عوامی نیشنل پارٹی اور دیگر جماعتیںاپنی سیاسی مہمات میں کون سا لائحہ عمل اختیار کریں گی کہ جس کی بدولت وہ عوام کو پھر اپنی جانب کر لیں۔
اگر عوامی مسائل کو دیکھا جائے اور حکومت میں رہنے والی جماعتوں کے سابقہ ادوار کو دیکھا جائے تو شاید ان کے پاس کوئی ایسی نئی بات نہیں کہ یہ عوام کو قائل کر سکیں، تاہم اگر اپوزیشن جماعتوں کو دیکھا جائے تو قومی سطح پر پاکستانتحریک انصاف وہ سیاسی قوت ہو سکتی ہے جو عوام کے ذہنوں میں جگہ بنا لے، اسی طرح کراچی کے حالات میں پاک سرزمین پارٹی بھی اپنی جگہ بنا سکتی ہے۔
اگر ہم ان سیاسی پارٹیوں میں جمہوری کردار کا جائزہ لیں تو پاکستان تحریک انصاف اور جماعت اسلامی کو چھوڑ کر پاکستان پیپلز پارٹی اور پاکستان مسلم لیگ ن سے لیکر تمام تر جماعتوں میں الیکشن کے بجائے صرف اور صر ف سلیکشن کا عمل دخل زوروں پر رہا ہے۔ ان سیاسی جماعتوں میں ایسے لوگوں کو آگے لایا گیا، پارٹی عہدے دیے گئے اور اسمبلیوں کا ممبر بنوایا گیا جو اپنی اپنی سیاسی جماعتوں کے شاہ سے زیادہ شاہ کے وفادار کے اصول پر اترتے تھے، پاکستان تحریک انصاف نے انٹرا اپارٹی الیکشن کروا کر زیادہ نہیں تو کم از کم کچھ تو جمہوری کردار ادا کیا ہے۔
اگر عوامی رویہ کی بات کریں تو اس میں کوئی شک نہیں عوام کی یاد داشت انتہائی کمزور ہے اور وہ بہت جلد باتیں بھلا دیتی ہے ، جبکہ عوام سبز باغ دیکھنے کی بھی بہت عادی ہے ، آسانی سے لیڈروں کی باتوں کے خوبصورت اور لچھے دار جال میں پھنس جاتی ہے، مگر چند سال کے عوامی رویے کو دیکھا جائے تو اس میں قدرے مثبت تبدیلی دیکھنے میں آ رہی ہے، چند سالوں میں کچھ ایسے واقعات ہوئے کہ اول تو عوام نے لیڈروں کی لاکھ کوششوں کے باوجود بھی انہیں نہیں بھلایا اور دوسرے عوام اٹھ کھڑی ہوئی، جیسے پانامہ کیس، حالیہ نقیب اللہ اور سانحہ قصور کیس اسی کی مثالیں دی جا سکتی ہیں۔
اب عوام کچھ تبدیلی چاہتے ہیں، وہ ایک عرصہ سے ہر بار چند حکمرانوں کا چہرہ دیکھ دیکھ کر تنگ آ چکے ہیں، وہ چاہتے ہیں بار بار کے چلے ہوئے سیاسی کارتوسوں کے بدلے اس بار کوئی نیا کارتوس استعمال کیا جائے، کیونکہ عوام تواتر سے برسراقتدار رہنے والے حکمرانوں کی اجارہ داری اور عوامی وعدوں سے پھر جانے کی عادت سے نالاں ہو چکے ہیں، وہ باریاں لگا لگا کر اپنی حالت تو بدل چکے ہیں مگر ملک اور عوام کی حالت آج تک نہیں بدل سکے۔
پاکستان تحریک انصاف سے اگرچہ عوام کی ایک بڑی تعداد نے امیدیں وابستہ کی ہوئی ہیں مگر اس جماعت سے اندیشے بھی بہت ہیں، عوامی حلقوں کا کہنا ہے کہ پاکستان تحریک انصاف اگرچہ خود کوعام عوام کی نمایندہ ہونے کا کہتی ہے اور اشرافیہ کے خلاف آواز بلند کرتی ہے، لیکن پاکستان تحریک انصاف میں بھی ایسے افراد کی کوئی کمی نہیں کہ جنہوں نے ماضی میں دوسری سیاسی جماعتوںمیں رہ کر عوامی وعہدوں کا خون کیا، عوامی امنگوں کا قتل عام کیا، یہ لوگ پاکستان تحریک انصاف کی مالی مدد کرتے ہیں، کیا برسراقتدادار آنے کے بعد یہ بڑے لوگ اپنے مفادات کے لیے پاکستان تحریک انصاف کو استعمال نہیں کریں گے؟ کیا اقتدار میں آنے کے بعد پاکستان تحریک انصاف اس دولت مند افراد کے ہاتھوں یرغمال نہیں بنے گی؟
تاہم اس بات میں بھی کوئی شک نہیں عرصہ دراز سے اقتدار میں رہنے والی سیاسی جماعتوں کے پاس کچھ ایسا نیا نعرہ نہیں ہے کہ جس سے عوام کو ایک بار پھر بے وقوف بنایا جاسکے۔
 

جواب لکھیں

آپ کا ای میل شائع نہیں کیا جائے گا۔نشانذدہ خانہ ضروری ہے *

*

%d bloggers like this: