بنیادی صفحہ » الیکشن »

الیکشن 2018, فلور کراسنگ قانون میں موجود سقم دور ہو پائے گا؟

Try WordPress Hosting Free for 30 Days | Cloudaccess.net

الیکشن 2018, فلور کراسنگ قانون میں موجود سقم دور ہو پائے گا؟

منصور مہدی
قانونی ماہرین کا کہنا ہے کہ منتخب اراکین پارلیمان و صوبائی اسمبلیوں کی وفاداری تبدیل کرنے کے متعلق آئینِ پاکستان میں ایک بہت بڑاسقم موجود ہے۔ان کے مطابق آئین کی شق ’63 الف‘ کے مطابق وفاداری تبدیل کرنے والے رکن کو تو نااہل کیا جاسکتا ہے لیکن وفاداری تبدیل کرانے والے اور فائدہ حاصل کرنے والے کے لیے کوئی سزا موجود نہیں ہے۔
حالانکہ آئین کی شق63 الف کا مقصد ہی یہ تھا کہ کسی جماعت کے ٹکٹ پر منتخب ہونے والا کوئی رکن کسی اور جماعت کو ووٹ نہ دے سکے اور ‘فلور کراسنگ‘ کا راستہ روکا جاسکے۔ یہ شق 1997 میں میاں نواز شریف نے شامل کی تھی اور بعد میں صدر پرویز مشرف نے اس میں ترمیم کی۔
1997میں جو شق شامل کی گئی تھی اس کے تحت کسی بھی رکن اسمبلی کو پارٹی پالیسی کے خلاف ووٹ دینے یا اپنے لیڈر اور پارٹی کی پالیسی کے خلاف تقریر کرنے پر بھی نا اہل کیا جاسکتا تھا۔
مگر صدر پرویز مشرف نے اس میں نرمی کی اور موجودہ شق کے تحت کسی بھی رکن کو وزیراعظم یا وزیراعلیٰ کے انتخاب، ان کے اعتماد کا ووٹ لینے یا عدم اعتماد کے ووٹ یا فنانس بل کے معاملے پر پارٹی پالیسی کے خلاف ووٹ دینے پر نااہلی کی سزا تجویز کی گئی۔
قانونی ماہرین کا اس حوالے سے کہنا ہے کہ حکومت نے سترہویں ترمیم منظور کرواتے وقت آئین کی متعلقہ شق کو نرم کرتے وقت بھی یہ سقم دور کیوں نہیں کیا کہ وفاداری تبدیل کرنے پر اکسانے والے اور فائدہ حاصل کرنے والے شخص کو بھی سزا ملنی چاہیے۔ اس کے بعد بھی آئین میں کئی ترامیم ہوئیں مگر کسی بھی حکومت نے اس خامی کو دور نہیں کیا۔
آئین کی شق63 کہتی ہے کہ کسی پارٹی کے ٹکٹ پر منتخب ہونے کے بعد اس پارٹی کی رکنیت سے مستعفی ہونے یا کسی دوسری پارلیمانی جماعت میں شمولیت کرنے کی صورت میں متعلقہ رکن نا اہل ہوگا۔
آئین کی اس شق کے مطابق اگر کوئی رکن وزیراعظم یا وزیراعلیٰ کے انتخاب، ان کے اعتماد یا بے اعتمادی کی ووٹنگ کے دوران پارٹی قیادت کی مرضی کے خلاف ووٹ دے گا یا ووٹنگ کے دوران غائب رہے گا تو بھی وہ نا اہل ہوگا۔ اس شق کے تحت فنانس بل کے متعلق پارٹی پالیسی کے خلاف ووٹ دینے یا غائب رہنے پر بھی نا اہلی کی سزا مل سکتی ہے۔
آئین میں دیے گئے طریقہ کار کے مطابق اگر کسی جماعت کا کوئی رکن خلاف ورزی کا مرتکب ہو اس جماعت کا پارلیمانی لیڈر متعلقہ رکن کو شو کاز نوٹس دے گا اور اس کے بعد وہ متعلقہ اسمبلی کے سپیکر کو نا اہلی کا اعلامیہ بھیجے گا۔ آئین کے مطابق سپیکر دو روز کے اندر وہ اعلامیہ چیف الیکشن کمشنر کو بھیجنے کا پابند ہے اور چیف الیکشن کمشنر ا±سے فیصلے کے لیے کمیشن کے پاس پیش کریں گے۔
آئین کے مطابق الیکشن کمیشن ایک ماہ کے اندر فیصلہ کرنے کا پابند ہے اور اگر الیکشن کمیشن نے متعلقہ رکن کی نا اہلی کے اعلامیہ کو جائز قرار دے دیا تو متعلقہ رکن اسمبلی کا ممبر نہیں رہے گا۔ کمیشن کے فیصلے کے خلاف فریقین کو سپریم کورٹ میں اپیل کا حق ہوگا اور عدالت عظمیٰ تین ماہ کے اندر فیصلے سنائے گی۔
شاہد حسن ایڈووکیٹ کا کہنا ہے کہ پاکستان میں فلور کراسنگ کا قانون جتنا سخت ہے وہ ملک میں ہارس ٹریڈنگ کو روکنے میں اتنا ہی بے اثر بھی ثابت ہوا ہے۔ اس قانون کے تحت کوئی رکن پارلیمان اپنی نشست سے محروم ہو سکتا ہے، اگر وہ اپنی پارٹی سے مستعفی ہو جائے یا کسی دوسری پارلیمانی پارٹی کا رکن بن جائے، وہ پارٹی ہدایت کے خلاف کسی آئینی ترمیم یا وزیراعظم یا وزیراعلیٰ کے انتخاب یا ان پر عدم اعتماد کی تحریک کے دوران ووٹ دے یا دینے سے گریز کرے۔
ارکان پارلیمان کو سیاسی وفاداریاں تبدیل کرنے سے روکنے کے لیے گزشتہ 20 برس میں اس قانون میں متعدد تبدیلیاں کی گئیں، لیکن فلور کراسنگ کا عمل پھر بھی جاری رہا، اس کی وجہ یہ ہے کہ اپنی پارٹی سے بے وفائی کرنے والوں نے ہر بار اس قانون میں پائے گئے سقم کا سہارا لیا۔
ابھی حال ہی میں پاکستان تحریک انصاف کی باغی رکن قومی اسمبلی عائشہ گلالئی اس قانون کی زد میں آنے سے بچ نکلیں، اس کے باوجود کہ ان کے خلاف ریفرنس خود عمران خان نے بھیجا، جو ان کی پارٹی کے سربراہ ہیں، لیکن عائشہ گلالئی کے پاس اس قانون سے بچ نکلنے کا ایک اور راستہ موجود تھا اور انہوں نے اس قانون میں ایک چھوٹے سے سقم کا سہارا لیا۔
اس حوالے سے قانون کہتا ہے کہ ووٹنگ کے وقت پارٹی کی طرف سے ملنے والی "ہدایت” کے خلاف کوئی رکن ووٹ نہیں ڈال سکتا۔ عائشہ گلالئی کے مطالبے پر عمران خان الیکشن کمیشن میں کوئی ایسی دستاویزی شہادت جمع نہ کرا سکے، جس میں انہوں نے یا ان کی طرف سے پارٹی کے چیف وہپ یا کسی دوسرے رہنما نے انہیں ہدایت کی ہو کہ وزیر اعظم کے انتخاب میں وہ شیخ رشید کو ووٹ دیں۔
شاہد حسن کا کہنا ہے اس قانون میں اس سقم کو کسی بھی پارٹی نے ختم کرنے کی شاید اس لیے حقیقی کوشش نہیں کہ وہ کسی بھی وقت اس قانون سے فائدہ اٹھا سکیں گے۔ یہی وجہ ہے کہ تقریبا تمام پارٹیوں خصوصاً بلوچستان سے تعلق رکھنے والے ارکان کی بہت تعداد میں پھسلنے کے خطرات ہیں، لہٰذا اس بنیاد پر سینٹ کی نشست کے حصول کےلئے سرمایہ کاری کرنے والے بھی اس سنہرے موقع کو ہاتھ سے جانے نہیں دیں گے، کیونکہ انھیں معلوم ہے کہ اس قانونی سقم کی وجہ سے ان کے خلاف کوئی کارروائی نہ ہو سکے گی۔

اپنی رائے دیں

%d bloggers like this: