بنیادی صفحہ » الیکشن »

پاکستان پیپلز پارٹی نے اپنے منشور پر کتنا عمل کیا؟

Try WordPress Hosting Free for 30 Days | Cloudaccess.net

پاکستان پیپلز پارٹی نے اپنے منشور پر کتنا عمل کیا؟

2013 میں پیش کردہ منشور
منصور مہدی
انتخابات 2013کے موقع پر پاکستان پیپلز پارٹی پارلیمنٹیرینز نے غربت کے خاتمے کے لیے سات نکاتی انتخابی منشور کا اعلانکیا تھا‘ منشور میں کہا گیا تھا کہ روٹی‘ کپڑا اور مکان کے ساتھ مزدور کی کم از کم تنخواہ 18 ہزار روپے ماہانہ اور مزدوروں کو قومی اور صوبائی اسمبلیوں میں نمایندگی ملے گی۔
پاکستان پیپلز پارٹی ایک سوچ اور نظریہ کا نام ہے، ذوالفقار علی بھٹو نے جب پاکستان پیپلز پارٹی کی بنیاد رکھی تو عوام کے حقوق کیلئے ایک منشور بنایا گیا، جس کے تحت ذوالفقار علی بھٹو نے عہد کیا کہ غریب عوام کے حقوق کے ساتھ وطن عزیز کی خوشحالی اور ترقی کیلئے کوششیں کرنا ہونگی، پاکستان پیپلز پارٹی نے ہمیشہ کشمیر کے مسئلہ کو نہ صرف اپنے منشور کا حصہ بنایا بلکہ پی پی پی کے قائدین ذوالفقار علی بھٹو، محترمہ بے نظیر بھٹو شہید نے کشمیر کے مسئلہ کو بین الااقوامی سطح پر اجاگر کیا اور بین الاقوامی برادری کو باور کرانے کی کوشش کرائی کہ مسئلہ کشمیر مذہبی نہیں انسانی حقوق کا مسئلہ ہے۔
منشورمیں یہ بھی کہا گیا کہ 2018 تک لازمی پرائمری تعلیم یقینی اور پولیو کا مکمل خاتمہ کیا جائے گا۔ 50 لاکھ افراد کو ٹیکس نیٹ میں لایا جائے گا‘ حکومتی قرضوں میں کمی اور بجٹ خسارہ 5 فیصد سے کم کیا جائے گا۔ نئے صوبے کا قیام آئین کے مطابق یقینی بنایا جائے گا۔ منشور میں بلوچستان اور فاٹا کے لیے اعلیٰ اور فنی تعلیم کے لیے 10 ہزار اسکالر شپ فراہم کرنے کا وعدہ کیا گیا ہے‘ منشور کے تحت تمام شہریوں بالخصوص خواتین اور اقلیتوں کو بااختیار بنایا جائے گا اور پیپلز ایمپلائمنٹ پروگرام شروع کیا جائے گا۔ منشور کے تحت روز گار کے مواقع پیدا کرنے کے لیے خصوصی اقتصادی زونز قائم کیے جائیں گے جب کہ 2018 تک ٹیکس ٹو جی ڈی پی کی شرح کو 15 فیصد تک بڑھانے اور اضافی 12 ہزار میگاواٹ سستی بجلی کا بھی وعدہ کیا گیاہے۔
منشور سے الیکشن نہیں جیتے جاتے، اور عام ووٹرز تو ان کو پڑھنے کے قابل بھی نہیں ہیں۔ اس کے باوجود بھی وہ سب اس سارے عمل کا ناگزیر حصہ بنے ہوئے ہیں، جسے اقبال نے جمہوری تماشہ کہا تھا۔کیونکہ عام انتخابات میں حصہ لینے کے لیے کسی سیاسی جماعت کا منشور جاری کرنا‘ لازمی آئینی ضرورت ہوتی ہے۔
پاکستان پیپلز پارٹی جب سے بنی تب سے روٹی کپڑا اور مکان کا نعرہ اس کے منشور کا حصہ رہا، پاکستان پیپلز پارٹی چار بار اقتدار میں آئی ہے‘ اس لیے اس کی ماضی کی کارکردگی ووٹرز کے سامنے ہے۔ 2008کا انتخاب جیتنے کے بعد 2013تک اس نے پانچ برس ملک پر حکمرانی کی، جبکہ 2013سے اب تک صوبہ سندھ پر اس کی حکمرانی ہے، پیپلز پارٹی نے سندھ میں عوام کیلئے کیا کیا، اس کی کارکردگی سب کے سامنے ہے۔ اپنے پہلے وفاقی حکومت کے دور میں اقتصادی میدان میں بھی عوام کی توقعات پوری نہیں ہو سکی تھیں۔
پیپلز پارٹی کے منشور میں یہ وعدہ کیا گیا تھا کہ اقلیتوں کو بااختیار بنایا جائے گا‘ یہ بڑی مبہم سی بات ہے‘ پاکستان میں تمام پسماندہ طبقات کو بلاامتیاز قوم و قومیت اور مذہب ترقی کی دوڑ میں شریک کرنے کے لیے آئین میں تبدیلیاں لانے کی ضرورت ہے۔ آئین میں بہت سی آئینی پیچیدگیاں موجود ہیں جن کی بنا پر اقلیتوں اور کمزور طبقات کو نشانہ بنانا آسان ہوگیا ہے۔ پاکستان میں اقلیتوں اور کمزور طبقات کے خلاف جو کچھ ہو رہا ہے‘ اس کے پس منظر میں ایسے قوانین کی موجودگی ہے جن کی بنا پر انھیں ٹارگٹ بنانا خاصا آسان ہو گیا ہے۔
بدقسمتی سے پیپلز پارٹی بے نظیر کی قیادت سے محروم ہوچکی ہے، لیکن اس کے پاس ان کا تیار کردہ سال 2008 کا انتخابی منشور آج بھی ایک متاثر کن دستاویز ہے، اس لیے کہ اس میں پاکستان کی آئندہ نسل کے لیے غیر مشروط ضمانت دی گئی ہے۔ اگر پیپلز پارٹی اقتدارمیں واپس آجاتی ہے تو اس کے پاس واضح انتخاب موجود ہے۔
اور یہ انتخاب ہے قائداعظم کے پاکستان اور مذہبی شدت پسندوں اور مرکز گریز قوتوں کے درمیان، “ایک متحرک، متحمل اور مضبوط وفاق” اور ایک ایسے پاکستان کے درمیان جو “بنیاد پرستی اور طوائف الملوکی” کی دلدل میں گر گیا ہو۔
اس منشور کودوام بخشنے کے لیے دو انمول اثاثے اس کے پاس ہیں، جن میں بھٹو کا ورثہ اور اس جماعت کا یہ پہلو کہ یہ واحد اور حقیقی معنوں میں ایک قومی پارٹی ہے۔
یہی وجہ ہے کہ یہ پارٹی پاکستانی عوام کو ان کے دل کی گہرائیوں ساتھ اپنی طرف کھینچتی ہے، لیکن اقتدار اس کے لیے گلے کا پھندا بن جاتا ہے۔
پاکستان پیپلز پارٹی سندھ کے جنرل سیکرٹری وقار مہدی نے کہاکہ پاکستان پیپلز پارٹی عوام قوت کا نام ہے ہمارا منشور پاکستان کی ترقی اور عوامی خوشحالی ہے ‘پیپلز پارٹی ملک کی واحد عوامی جماعت ہے جو عوام کے دلوں میں رہتی ہے اور انشاء اللہ 2018الیکشن میں چیئر مین بلاول بھٹو کی قیادت میں پیپلز پارٹی پورے ملک سے بھاری اکثریت سے کامیابی حاصل کرے گی ، ان کا کہنا ہے کہ بھان متی کا ٹولہ 2018کے الیکشن میں غائب ہو جائے گا عوام اپنی ووٹوں کے ذریعے مسترد کردیں گے وقار مہدی نے کہاکہ کارکنان عام انتخابات کی تیاری کریں۔

اپنی رائے دیں

%d bloggers like this: