بنیادی صفحہ » الیکشن »

شیخ رشید احمد

Try WordPress Hosting Free for 30 Days | Cloudaccess.net

شیخ رشید احمد

بار بار جیتنے والے سیاستدان
سابق کونسلر، وزیر ثقافت، وزیر ریلوے، وزیر اطلاعات و نشریات، وزیر صنعت و حرفت اور 7مرتبہ ممبر قومی اسمبلی
شیخ رشید احمد 1950میں راولپنڈی میں ایک متوسط گھرانے میں پیدا ہوئے۔ سیاست کے میدان میں طالب علمی کے زمانے ہی میں قدم رکھ دیا تھا۔ صدر ایوب کے خلاف عوامی تحریک شروع ہوئی تو اس میں بڑھ چڑھ کر حصہ لیا۔ پھر جب گورڈن کالج میں داخلہ لیا تو کالج کی طلبہ یونین کے صدر منتخب ہوئے۔
1992 میں ایم اے سیاسیات کرنے کے بعد تحریک استقلال میں شمولیت اختیار کی۔ لیکن جلد ہی ان سے علیحدہ ہو گئے۔ 1984 میں بلدیاتی کونسل کے رکن منتخب ہوئے۔ 1985 کے غیر جماعتی انتخابات میں قومی اسمبلی کے رکن منتخب ہوئے۔
محمد خان جونیجو کے عہد میں آزاد پارلیمانی گروپ کے سب سے فعال رکن تھے جس کے سربراہ فخر امام تھے۔ 1988کے عام انتخابات میں اپنی شعلہ بیانی اور پر زور عوامی خطابات کے بل پرپیپلز پارٹی کے امیدوار جنرل ٹکا خان کو شکست دے کر قومی اسمبلی کے رکن منتخب ہوئے۔ 1990، 1993اور پھر 1997کے انتخابات میں کامیابی حاصل کی۔
نواز شریف کے پہلے دور میں شیخ رشید صاحب کو پہلے مشیر اطلاعات و نشریات، پھر وزیر صنعت و حرفت مع اضافی چارج سیاحت و ثقافت مقرر ہوئے۔ محترمہ بے نظیر بھٹو نے اسمبلی اور اسمبلی سے باہر ان کی بلند بانگ تنقید کو روکنے کے لیے ان کی لال حویلی میں ایک عدد کلاشنکوف رکھنے کے جرم میں جیل بھیج دیا۔ چند ماہ کی قانونی کارروائی کے بعد رہائی پائی۔
1997کے الیکشن میں کامیاب ہو کر میاں نواز شریف کی کابینہ میں بطور وزیر شامل رہے۔ 2002میں پرویز مشرف کی چھتری تلے ہونے والے انتخابات میں آزاد حیثیت سے کامیاب ہوئے بعد میں مسلم لیگ ق میں شمولیت کا اعلان کیا۔ پہلے وزیر اطلاعات اور پھر وزیر ریلوے بنے۔پرویز مشرف کے مداحوں میں ان کا شمار ہوتا تھا۔
2008کے انتخابات میں جناب مخدوم جاوید ہاشمی کے ہاتھوں شکست کھائی۔ جس کے بعدمسلم لیگ ق سے علاحدہ ہو کر عوامی مسلم لیگ نام کی ایک نئی جماعت کی بنیاد ڈالی۔ 2010میں سیاست میں ایک دفعہ پھر سرگرم ہوئے اور ایک بار پھر سے پنڈی کے حلقے سے ضمنی انتخابات میں حصہ لیا مگر 24 فروری کو ہونے والے ان انتخابات میں ایک بار پھر مسلم لیگ ن کے شکیل اعوان کے ہاتھوں شکست ہوئی۔ ان کی وجہ شہرت ان کا عوامی انداز ، سکینڈلز ، لال حویلی اور سیاسی پیشن گوئیاں ہیں۔
2013کے انتخابات میں تحریک انصاف کی حمایت سے اپنی جماعت عوامی مسلم لیگ سے حصہ لیا اور قلم دوات کے نشان پر حلقہ این اے۔55 نششت پر کامیابی حاصل کی۔

اپنی رائے دیں

%d bloggers like this: