بنیادی صفحہ » الیکشن »

جمعیت علماءاسلام ( ف )

Try WordPress Hosting Free for 30 Days | Cloudaccess.net

جمعیت علماءاسلام ( ف )

الیکشن کمیشن کے پاس رجسٹرڈ جماعتیں
جمعیت علماءاسلام بنیادی طور پر جمعیت علماءہند سے علیحدہ ہو کر بنائی گئی ایک جماعت ہے، جمعیت علماءہند چونکہ مسلم لیگ کی تقسیم ہند کے فارمولے سے متفق نہیں تھی، اس لیے 1945میں مولانا شبیر احمد عثمانی نے جمعیت علماءاسلام کی بنیاد رکھی۔
1947میں انگریز سے ہند کو آزادی ملی اور مسلمانان ہند کو پاکستان کی صورت میں الگ مملکت ملی تو تب سے آج تک جمعیت علماءاسلام ملکی سیاست میں ایک اہم سیاسی جماعت ہے۔ 1953کی تحریک ختم نبوت جو قادیانیوں کو غیر مسلم قرار دینے پر 1974میں منتج ہوئی، اسکی قیادت کا سہرا بھی جمعیت علمائاسلام کو جاتا ہے۔
1977میں ذوالفقار علی بھٹو کیخلاف تحریک مولانا مفتی محمودکی قیادت میں شروع ہوئی، جس میں پاکستان کی ساری مذہبی اور سیاسی جماعتیں شامل تھیں۔ پارلیمنٹ میں ذوالفقار علی بھٹو کے مقابلے میں ساری جماعتوں کی طرف سے متفقہ اپوزیشن لیڈر حضرت مولانا مفتی محمود تھے۔
مولانا مفتی محمود 1970میں صوبہ سرحد کے وزیر اعلی بنے، تو انھوں نے صوبے میں اسلامی اور مشرقی روایات کو قائم کرنے کے لیے عملی کام کیا، شراب پر پابندی لگائی، صوبے کی سرکاری زبان اردو کو قرار دیا، سرکاری لباس اورسکول یونیفارم قمیض شلوار کو لازمی قرار دیا، نصاب تعلیم میں عربی اور اسلامیات کو لازمی قرار دیا، سود کی لعنت پر پابندی عائد کی۔
مولانا مفتی محمود کے بعد 1984سے مولانا فضل الرحمان کی قیادت میں جمعیت علمااسلام تاحال اپنا کردار اداکر رہی ہے۔ 1988سے آج تک جمعیت علماءاسلام تقریباً تمام حکومتوں میں شریک رہی ہے۔ اس وقت جمعیت علماءاسلام کے موجودہ سیٹ اپ میں قومی اسمبلی، سینٹ، بلوچستان اسمبلی، خیبر پختون خواہ اسمبلی اور گلگت، بلتستان اسمبلیوں میں ممبران کی مجموعی تعداد 50 کے قریب ہے۔
جمعیت علماءاسلام ( ف ) کے علاوہ بھی جمعیت علما اسلام کئی شاخوں میں تقسیم ہو چکی ہے، ایک شاخ کے سربراہ مولانا فضل الرحمن ہیں، جبکہ ایک شاخ جمعیت علماءاسلام (س) سمیع الحق گروپ ہے، جس کے صدر مولاناسمیع الحقہیں۔ ان کے علاوہ ایک گروپ جمعیت علمائاسلام (نظریاتی) ہے، یہ شاخ بلوچستان تک محدود ہے، یہ گروپ جمعیت علمااسلام(فضل الرحمان) سے بعض اختلافات کے سبب علیحدہ ہوا۔
یہ جماعت 2008میں اس وقت وجود میںآئی جب عام انتخابات ہو رہے تھے۔ اس دوران جمعیت نظریاتی نے صوبے بھر میں جمعیت فضل الرحمن گروپ کے مقابلے میں اپنے امیدوار کھڑے کئے۔ ڑوب سے قومی اسمبلی کی نشست پر جمعیت فضل الرحمن گروپ کے صوبائی امیر مولانا محمد خان شیرانی کو جمعیت نظریاتی کی قیادت کرنے والے عصمت اللہ نے شکست دی جبکہ ڑوب ہی سے نظریاتی کے امیدوار عبد الخالق بشر دوست نے مخالف گروپ کے امیدوار کو شکست دی اور صوبائی اسمبلی کے رکن بنے اور اس وقت بلوچستان کابینہ میں وزیر بلدیات کی حیثیت سے شامل ہیں۔

اپنی رائے دیں

%d bloggers like this: