بنیادی صفحہ » الیکشن » 2013میں پیش کر دہ پختونخوا ملی عوامی پارٹی کا منشور

2013میں پیش کر دہ پختونخوا ملی عوامی پارٹی کا منشور

منصور مہدی
پختونخوا ملی عوامی پارٹی پاکستان کی ایک قوم پرست پشتون سیاسی جماعت ہے۔ محمود خان اچکزئی اسکے سربراہ ہیں۔ اس پارٹی کی بنیاد برصغیر پاک و ہند کی آزادی کے عظیم رہنما عبدالصمد خان اچکزئی نے رکھا تھا۔
پارٹی کے منشور میں تحریر ہے کہ مملکت پاکستان اور پشتونخوا وطن میں موجود جابر و استعماری و استحصالی سماجی و معاشی نظام کا خاتمہ کر کے اس کی جگہ انسانی اور اسلامی اصولوں پر مبنی سماجی معاشی نظام کا قیام عمل میں لایا جائے گا۔
وفاقی یونٹوں کے مابین برابری، اعتماد، جمہوریت، ترقی، امن اور سماجی انصاف کے انسانی اور اسلمای اصولوں پر مبنی سماج کا قیام، قرآن و سنت کے خلاف تمام قوانین کو منسوخ کر دیا جائے گا۔ زبان ، ثقافت اور تاریخ کی بنیاد پر وفاقی یونٹوں ( صوبوں ) کا قیام عمل میں لایا جائے گا، آزاد پشتون ایجنسیوں کی موجودہ خود مختار حیثیت کا تحفظ کیا جائے گا اور ان کے عوام کی بالغ رائے دہی کی بنیاد پر تشکیل شدہ خود مختاری سیاسی اداروں کی حاکمیت کے ذریعے سماجی تبدیلی و ترقی عمل میں لائی جائے گی۔
بلوچستان میں عبوری دور کیلئے زندگی کے ہر شعبے میں پشتون اور بلوچ کے مابین برابری کی بنیاد پر آئینی اور روایتی نظام تشکیل دیا جائے گا، تمام ملک خصوصاً کراچی میں پشتونوں کے سیاسی، معاشی اور ثقافتی حقوق اور سر و مال کی حفاظت کیلئے اقدامات کیے جائیں گے، رضاکارانہ اور مساویانہ وفاق کے اندر دفاع ، خارجہ، مواصلات اور کرنسی کے محکموں پر وفاق اور باقی تمام محکموں اور امور پر صوبوں کا اختیار بھی ہو گا۔
پشتو، بلوچی، سندھی، سرائیکی اور پنجابی کو قومی زبانیں تسلیم کر کے اپنے اپنے وفاقی یونٹ ( صوبہ ) میں ان کو سرکاری، تعلیمی اور تدریسی زبانین قرار دی جائیں گی، بلوچستان میں پشتو اور بلوچی کو سرکاری اور تدریسی زبان قرار دی جائے گی، تمام پشتونخوا وطن میں آباد لسانی گروپوں کے زبان و ثقافت کا تحفظ اور ترقی کی جائے گی۔
ہر قسم کی آمریت اور سماجی و استحصال سے آزاد ایک جمہوری اور غیر فرقہ وارانہ اور سماجی برابری پر مبنی معاشرہ کے قیام کیلئے جمہوری اور سیاسی نظام قائم کیا جائے گا اور شہری آزادی اور بنیادی حقوق پر پابندی کا خاتمہ کیا جائے گا۔
عورتوں کیخلاف تمام امتیازی قوانین منسوخ کر دیئے جائیں گے، پریس کی آزادی پر پابندی لگانے والے تمام قوانین منسوخ کر دیئے جائیں گے، اخبار و رسالہ کے ڈیکلریشن پر پابندی کا خاتمہ کیا جائےگا، اشتہارات اور کاغذ کے کوٹہ کو پریس کی آزادی میں رکاوٹ ڈالنے کی ممانعت ہو گی۔
ڈویژن سے ضلع کی سطح تک تمام انتظامی یونٹوں کا منتخب، پنچائیت، جرگوں اور انتظامیہ و عدلیہ کی تشکیل و حاکمیت ہو گی، عدلیہ کی انتظامیہ سے علیحدگی و خود مختاری ہو گی، سول سروس اور دیگر تمام ماہرین کے ان منتخب اداروں کی رہنمائی اور کنٹرول میں عوام کی خدمت اولین ہو گی۔ لیویز نظام کے برقراری اور جدید جمہوری بنیادوں پر تشکیل کیساتھ ہر شعبہ زندگی میں خرد برد، کرپشن، سفارش، اقربا پروری اور ہر قسم کی بد عنوانی کا مکمل خاتمہ کیا جائے گا۔

جواب لکھیں

آپ کا ای میل شائع نہیں کیا جائے گا۔نشانذدہ خانہ ضروری ہے *

*

%d bloggers like this: