بنیادی صفحہ » الیکشن »

پاکستان عوامی تحریک

Try WordPress Hosting Free for 30 Days | Cloudaccess.net

پاکستان عوامی تحریک

الیکشن کمیشن کے پاس رجسٹرڈ جماعتیں
ڈاکٹر محمد طاہرالقادری کی قائم کردہ سیاسی جماعت، جس نے پاکستان کو اسلامی فلاحی ریاست بنانے کے لئے 1990اور 2002کے عام انتخابات میں حصہ لیا۔ 25 مئی 1989پاکستان عوامی تحریک کا یوم تاسیس ہے، اس روز موچی دروازہ لاہور میں منعقدہ تاریخی کانفرنس کے دوران طاہرالقادری نے پاکستان عوامی تحریک کے نام سے سیاسی جدوجہد کا آغاز کیا گیا۔
1990کے قومی انتخابات میں ملک بھر سے اپنے نمائندے کھڑے کیے۔ ان الیکشن میں تحریک کو کوئی سیٹ تو نہیں ملی، 1993کے انتخابات سے قبل پاکستان عوامی تحریک کی قیادت نے سیاسی و دینی جماعتوں کو مجتمع کرنے کی کوشش کی تاکہ قوم کو ایک متبادل قیادت میسر آ سکے۔ مگر انھیں کوئی کامیابی نہیں ہوئی چنانچہ پارٹی کی جنرل کونسل نے یہ فیصلہ کیا کہ ملک میں رائج انتخابی سیاست سے انقلاب کی منزل کو نہیں پہنچا جا سکتا، لہٰذا الیکشن کا بائیکاٹ کرتے ہوئے انتخابی سیاست سے لاتعلقی اختیار کرتے ہوئے پاکستان کے غریب عوام میں شعور بیدارکیا جائے، جو سرمایہ داریت اور جاگیرداریت کے خول میں قید ہیں۔
پاکستان عوامی تحریک نے 4 سال کی قلیل مدت میں ملک بھر میں سیکڑوں عوامی تعلیمی مراکز، پرائمری و سیکنڈری اسکولز قائم کر کے فروغ تعلیم اور عوامی شعور کی بالیدگی کیلئے وسیع نیٹ ورک قائم کیا۔
1997 سے 1999 تک قائم ہونے والی نواز شریف کی حکومت نے اپنے سیاسی مخالفین کا راستہ ہر طرف سے تنگ کرنا شروع کر دیا اور تاریخی سیاسی مقدمات قائم کیے گئے ، تب شہید جمہوریت بینظیر بھٹو نے پاکستان عوامی تحریک کے 1989 کے الیکشن میں ووٹ بنک کی بنیاد پر ڈاکٹر طاہر القادری کی صدارت میں 17 جماعتوں پر ایک وسیع اتحاد بنام ”پاکستان عوامی اتحاد“ بنایا۔ گو یہ اتحاد اپنے قیام کے وقت ”گو نواز گو“ کے ایجنڈے کے تحت معرض وجود میں آیا تھا مگر بعد ازاں آگے چل کر 4 نکاتی "اسلامک سوشل آرڈر” جاری کیا۔ یہ فیصلہ کیا گیا کہ نئی حکومت بنانے تک یہ اتحاد قائم رہے گا۔
12 اکتوبر کے فوجی انقلاب پر جنرل پرویز مشرف کی فوجی حکومت کا پاکستان عوامی تحریک نے صرف اس لیے ساتھ دیا کہ سیاسی لٹیروں کا احتساب کرکے قوم کی لوٹی ہوئی دولت واپس قومی خزانے میں پہنچائی جائے اور قوم کو صالح، ایماندار، دیانت دار اور باصلاحیت قیادت میسر آجائے۔ پاکستان عوامی تحریک نے پاکستان عوامی اتحاد، جی ڈی اے، صدارتی ریفرنڈم اور لوکل باڈیز الیکشن میں اپنا فعال کردار ادا کیا۔
2002ءکے عام انتخابات میں پاکستان عوامی تحریک نے انتخابی میدان نہ چھوڑا اور جاگیرداروں، سرمایہ داروں اور وڈیرہ شاہی کا ڈٹ کر مقابلہ کیا۔پاکستان عوامی تحریک نے انتخابی ٹکٹ اپنے نظریاتی، غریب و متوسط طبقے کو اہلیت و قابلیت کی بنیاد پر تقسیم کئے۔ تمام مخالفتوں اور رکاوٹوں کے باوجود پارٹی کے چیئرمین لاہور کے حلقہ این اے127 سے کامیاب ہوئے۔
2008کے انتخابات کا بھی بائیکاٹ کیا اور 2013کے الیکشن میں بھی حصہ نہ لیا۔

اپنی رائے دیں

%d bloggers like this: