بنیادی صفحہ » الیکشن » 2013میں پیش کر دہ قومی وطن پارٹی کا منشور

2013میں پیش کر دہ قومی وطن پارٹی کا منشور

منصور مہدی
قومی وطن پارٹی کا پرانا نام پاکستان پیپلز پارٹی (شیرپاو) ) ہے،جو سابق وزیر داخلہ آفتاب احمد شیر پاو¿ نے پاکستان پیپلز پارٹی سے علیحدگی کے بعد قائم کی۔
قومی وطن پارٹی کے چیئرمین آفتاب شیر پاﺅ نے الیکشن 2013کے موقع پرپارٹی منشور میں 12نکات پیش کیے تھے، جس کے مطابق خطے میں مکمل اور دیرپا امن کا قیام پہلی ترجیح ہے۔ سول اور ملٹری تعلقات کو بہتر بنانے کے لیے کام کی ضرورت ہے۔ توانائی بحران کے خاتمے کے لیے پن بجلی پیداواری منصوبے شروع کرنے کے ساتھ ساتھ بجلی کی تقسیم کے موجودہ فارمولے پر نظر ثانی کی جائیگی۔
قومی وطن پارٹی کے سربراہ نے منشور پیش کرتے ہوئے کہا تھا کہ ان کی جماعت پرامن کراچی پر یقین رکھتی ہے۔ کراچی میں پختونوں کی حالت زار بہتر بنانا ان کے پارٹی منشور کا حصہ ہے۔ پختون کراچی میں اقلیت نہیں بلکہ اکثریت میں ہیں۔
آفتاب شیر پاﺅ کا کہنا تھا کہ ڈرون حملوں کی شدید مخالفت کی جائیگی جبکہ قبائلی علاقوں میں عدلیہ اور مقننہ کو الگ کیا جائے گا۔ آفتاب شیر پاﺅ کا کہنا تھا کہ خواتین کے لیے ہر ادارے میں 35 فیصد کوٹہ مختص کیا جائیگا جبکہ نوجوانوں کو روزگار کے مواقع فراہم کیے جائینگے۔ ان کا کہنا تھا کہ ملک کے لیے آزاد خارجہ پالیسی مرتب دی جائیگی۔
انھوں کا کہنا تھا کہ ہمارا منشور پختونوں اور خیبر پختونخواکی ترقی و خوشحالی اور بہتر مستقبل پر مبنی ہے اور ان کو دنیا کے باوقار قوموں کی صفوں میں برابر کھڑا کرنے تک ہماری جدوجہد جاری رہے گی۔
قومی وطن پارٹی کے مرکزی چیئرمین آفتاب احمد خان شیرپاﺅ نے اپنے پیش کر دہ منشور کے حوالے سے جولائی 2017میں کہا تھا کہ قومی وطن پارٹی اپنے پروگرام اور منشور پر عمل پیرا ہے اور کسی دوسرے کے پروگرام،منشور اور فیصلوں کی پابند نہیں۔
قومی وطن پارٹی کی طرف سے صوبے کے حقوق کے حصول ،دہشت گردی سے متاثرہ علاقوں کی ترقی و خوشحالی اور متاثرہ افراد کی مستقل امداد کیلئے ٹرسٹ کے قیام کے معاہدے کے بعد صوبے کی حکومت میں شامل ہونے کا فیصلہ کیا گیا۔
قومی وطن پارٹی خیبر پختونخوا اور فاٹا کے حقوق کی محافظ اور علمبردار ہے۔صوبے کے حقوق کیلئے جدوجہد کی وجہ سے قومی وطن پارٹی آئندہ الیکشن میں سرخرو ہوکر عوام کے پاس جائے گی۔
صوبے کے لوگوں،وکلاء،ڈاکٹروں،مزدوروں،کسانوں ،طلباءاور نوجوانوں نے قومی وطن پارٹی کا ساتھ دینے کا تہیہ کرلیا ہے۔قومی وطن پارٹی آئندہ الیکشن میں بھرپور کامیابی حاصل کرے گی اور 2018کا سال قومی وطن پارٹی کا ہے۔
قومی وطن پارٹی جمہوریت کی علمبردار جماعت ہے اور کسی غیر جمہوری عمل کا حصہ نہیں بنے گی۔قومی وطن پارٹی عدالت عظمیٰ کے فیصلہ کی حمایت کرتی ہے۔
پارٹی کے رہنماﺅں نے آئندہ الیکشن کی تیاری شروع کرتے ہوئے پارٹی کارکنوں پر زوردیاکہ پارٹی منشور اور پروگرام کو گھر گھر پہنچانے کا سلسلہ تیز کردیں۔ انہوں نے کہا کہ قومی وطن پارٹی پختونوں کی نمائندہ ہے اور ان کے مسائل و مشکلات کے خاتمے کیلئے ہم نے پہلے بھی کردار ادا کیا ہے اور اب بھی اپنی جدوجہد جاری رکھیں گے۔ رہنماﺅں کا کہنا ہے کہ آئندہ انتخابات میں پختون ان کے حق میں ووٹ کا استعمال کریں گے کیونکہ پارٹی نے اپنے منشور پر عمل کرتے ہوئے ہر آڑے وقت میں ان کا ساتھ دیا اور ان کے زخموں پر مرہم رکھنے کیلئے کردار ادا کیا۔ قومی وطن پارٹی عوام کی طاقت سے برسراقتدار آکر خطے سے بد امنی و پسماندگی اور ناانصافیوں کا خاتمہ کرکے اسے امن، ترقی اور خوشحالی کی راہ پر گامزن کرے گی۔

جواب لکھیں

آپ کا ای میل شائع نہیں کیا جائے گا۔نشانذدہ خانہ ضروری ہے *

*

%d bloggers like this: