بنیادی صفحہ » الیکشن » 2013میں پیش کر دہ ایم کیو ایم کا منشور

2013میں پیش کر دہ ایم کیو ایم کا منشور

منصور مہدی
متحدہ قومی موومنٹ کی رابطہ کمیٹی نے الیکشن 2013 کے لیے 23نکات پر مشتمل انتخابی منشور بااختیار عوام خوشحال پاکستان کے عنوان سے اجراکیا تھا، جب کہ منشور میں ملک بھر کے مظلوم عوام کی توقعات ، خواہشات اور امنگوں کی ترجمانی کرتے ہوئے زندگی کے مختلف شعبوں میں ٹھوس اصلاحات کے جو انقلابی اعلانات کیے گئے تھے ،کہ وہ اگر بروئے لائے گئے تو یقیناً ملکی سماجی ماحول میں تبدیلی کا فائدہ عوام کو ہی پہنچے گا۔
ایم کیوایم کے انتخابی منشور کا اعلان اس وقت کے ڈپٹی کنوینر ڈاکٹر فاروق ستار نے کیا تھا، ڈاکٹر فاروق ستار نے منشور کے خاص خاص نکات واضح کرتے ہوئے شعبہ تعلیم کے حوالے سے دہرے تعلیمی نظام کے خاتمہ ، تعلیم پر اخراجات کو قومی پیداوار کے 5 فیصد تک لے جانے، صوبوں کے بجٹ کا 20 فیصد تعلیم کے لیے مختص کرنے ، زرعی آمدنی پر ٹیکس نافذ کرنے ، تمام شہروں میںماحول دوست بسیں متعارف کرانے ، ملک میں خودمختارمقامی حکومتوں کے نظام جب کہ مقامی حکومتی نظام کے انتخابات پاکستان میں عام انتخابات کے 3 ماہ کے اندر اندر کرائے جانے اور تمام میٹرو پولیٹن شہروں میں پولیس سے ٹریفک کے انتظام کے اختیارات واپس لے کرانھیں شہری اور ضلعی حکومتوں کے تحت رکھنے کی اہم تفصیلات جاری کی تھیں۔اسی طرح شہروں میں کم قیمت رہائشی منصوبوں کی حوصلہ افزائی ، عوام کو بہتر طبی سہولتیں فراہم کرنے کے لیے صحت کے شعبے پر سرکاری اخراجات میںاضافہ خوش آیند اقدام ہوگا۔
رعایتی میڈیکل انشورنس اسکیمیں ، مہنگائی پرقابوپانے کے سلسلے میں سرکاری اور نجی سفری ذرایع، تیل ، پیٹرول اور دیگراشیائے صرف کی قیمتوں کے ایک مقررہ مدت میں کم کیے جانے، توانائی کے بحران پر قابو پانے ، صنعتی شعبے کو مراعات دینے ، روزگارکے زیادہ مواقعے پیداکرنے کے منصوبے قابل عمل کہے جاسکتے ہیں۔یہ سلوگن کہ بغیر ٹیکسیشن کے کوئی نمایندگی نہیں شرمندہ تعبیر ہوا تو نظم حکمرانی میں صحت مند اقتصادی تبدیلی لائی جا سکتی ہے۔ فلاحی ریاست کا تصور بھی ایم کیوایم کے منشور کا حصہ بتایا گیا۔ منشور کے مطابق ہر ضلع میں اولڈ ایج ہوم بنائے جائیں گے، معذور افراد کے لیے قومی اسمبلی میں مخصوص نشستیں متعارف کروائی جائیں گی۔
صوبائی احتساب بیورو قائم کیے جائیں گے۔ دہشت گردی کے خاتمے کے لیے ایک قومی پالیسی فوری ترتیب دی جائے گی، ملک کو اسلحے سے پاک ، اس کی پیداوار، تجارت، غیر قانونی نقل وحمل اور درآمد کو روکا جائے گا۔ خواتین، بچوں اور مذہبی اقلیتوںکے حقوق: پر منشور واضح کرتے ہوئے انھوں نے خواتین پرتشدد، بچوں سے زیادتی، بچوں کی شادی، کارو کاری، وِنی، قرآن سے نکاح، تیزاب پھینکنا، بے گار لینا اور چائلڈلیبر کے خلاف مو¿ثر قانون سازی کا یقین دلایا۔
ڈاکٹر فاروق ستار نے بتایا تھا کہ فوری طور پر گیس اور بجلی کے منصوبوں کی تکمیل ممکن بنائی جائے گی، سی این جی پالیسی پر نظر ثانی کی جائے گی۔ نوجوانوں کے لیے ووکیشنل ٹریننگ سینٹر زقائم کیے جائیں گے اور میٹرک سے فارغ التحصیل طلبا وطالبات کو داخلہ دیاجائے گا،آئینی ترمیم کرکے دوہری شہریت کے حامل سمندر پارپاکستانیوں کے انتخابات میں حصہ لینے پر عائد پابندی ختم کی جائے گی ، سمندر پار پاکستانیوں کے ووٹ کے آئینی حق کویقینی بنایاجائے گا۔ انھوں نے کہاکہ ملک کی خارجہ پالیسی اور مسئلہ کشمیر پر بھی پارٹی پالیسی واضح کی۔

جواب لکھیں

آپ کا ای میل شائع نہیں کیا جائے گا۔نشانذدہ خانہ ضروری ہے *

*

%d bloggers like this: