بنیادی صفحہ » الیکشن » 2013میں پیش کر دہ نیشنل پیپلز پارٹی کا منشور

2013میں پیش کر دہ نیشنل پیپلز پارٹی کا منشور

منصور مہدی
نیشنل پیپلز پارٹی پاکستان کی ایک سیاسی جماعت کا نام ہے جو صوبہ سندھ اور جنوبی پنجاب میں بہت فعال ہے۔ یہ جماعت غلام مصطفی جتوئی نے پاکستان پیپلز پارٹی چھوڑنے کے بعد1986میں قائم کی۔ اس وقت کے پارٹی کے چیئرمین غلام مرتضیٰ خان جتوئی ہیں۔
غلام مصطفی جتوئی کے بڑے بیٹے غلام مرتضیٰ خان جتوئی نے 12فروری 2008کے انتخابات میں نوشہرو فیروز کے حلقہ این اے 211سے نیشنل پیپلزپارٹی کے جھنڈے تلے کامیابی حاصل کی تھی۔ انہوں نے پیپلزپارٹی کے امیدوار کو شکست دی تھی جبکہ ان کے دوسرے بیٹے عارف مصطفی جتوئی نے پی ایس 19 سے اور تیسرے بیٹے مسرور جتوئی نے پی ایس 23 سے کامیابی حاصل کی۔ عارف مصطفی سابق وزیر خوراک و زراعت بھی رہے جبکہ آصف مصطفی جتوئی سینیٹر بنے اور جتوئی خاندان کے لیے یہ ایک ریکارڈ ہے کہ ایک وقت میں چار بیٹوں نے کسی بھی قانون ساز فورم میں کامیابی حاصل کی۔
چند ماہ قبل ہونے والے پارٹی کے انٹرا پارٹی الیکشن میں غلام مرتضیٰ خان جتوئی کو پھر پارٹی چیئرمین منتخب کر لیا گیا، مرکزی جنرل سیکریٹری کے عہدے پر نعیم الرحمن اور مرکزی سیکریٹری اطلاعات کے عہدے پر اسلم گجر منتخب ہوئے۔ فرح ناز شعبہ خواتین کی صدر منتخب ہو گئیں۔ چاروں صوبوں کے تنظیمی عہدیدار ان کا انتخاب بھی عمل میں لایا گیا۔
نیشنل پیپلز پارٹی کے چیئرمین غلام مرتضیٰ جتوئی نے اپنے ایک بیان میں کہا ہے کہ این پی پی ملک میں جمہوریت کی بالادستی کے لئے اہم کردار ادا کررہی ہے اور کرتی رہے گی۔ ہم عوام کے مسائل حل کرنے کے لئے اپنی کوششیں جاری رکھیں گے۔
نیشنل پیپلز پارٹی کا اپنے منشور میں کہنا ہے کہ وہ ملک میں توانائی کے بحرانوں پر قابو پانے کیلئے توانائی کے وسائل کے انتظامی امور میں بہتری لائے گی اورنوجوانوں کو تعلیم یافتہ بنایاجائے گا تاکہ وہ دور حاضر کے تقاضے پورے کرسکیں۔ خواتین کو بااختیار بنایا جائے گا تاکہ وہ معاشرے میں اپنا جائز مقام حاصل کرسکیں۔ ملکی معیشت کی بحالی کیلئے تمام ممکنہ اقدامات کئے جائینگے تاکہ امیراور غریب کے درمیان فرق کوکم کیاجاسکے۔ جبکہ اقلیتوں کے تحفظ کے لئے قومی اسمبلی میں بل لایا جائے گا۔
نیشنل پیپلز پارٹی نے اپنے منشور میں پارلیمنٹ، عدلیہ اور الیکشن کمیشن کو مضبوط کرنے پر بھی زور دیا اور حکومتی اداوں کی گورننس بہتر کرنے کے لئے بھی اقدامات کئے جائیں گے۔ خارجہ پالیسی ایسی بنائی جائے گی جس سے خطے میں امن ہو۔
منافع بخش صنعتوں اور حساس مالی و صنعتی اداروں کی نج کاری سے گریز کیا جائے گا، اور ضروری ہوا تو نجکاری اس انداز میں کی جائے گی جس سے اجارہ داری اور استحصال نہ ہو۔
نجکاری میں متعلقہ ادارہ کے کارکنوں کو ہرحال میں ترجیح دی جائے گی اور ان کے مفادات کا تحفظ کیا جائے گا۔ نج کاری کی آمدنی قرضوں کی ادائیگی اور تعلیم و صحت عامہ سے متعلق فلاحی منصوبوں پر خرچ کی جائے گی۔ بجٹ سازی ، نج کاری اور دیگر معاملات کے لئے ٹریڈ یونین رہنماﺅں سے مشاورت ضروری قرار دی جائے گی۔ افرادی قوت کے بہترین استعمال کے لئے کارکنوں کی تعلیم و تربیت کا نظام رائج کیا جائے گا۔
لیبر عدالتوں کی کارکردگی کو بہتر بنایا جائے گا۔ مزدوروں کو رہائشی اور علاج کی سہولیات فراہم کی جائیں گی اور ان کے بچوں کی مفت تعلیم کا انتظام کیا جائے گا۔ بعد از ملازمت ، مزدور کی پنشن کا نظام نافذ کیا جائے گا۔

جواب لکھیں

آپ کا ای میل شائع نہیں کیا جائے گا۔نشانذدہ خانہ ضروری ہے *

*

%d bloggers like this: