بنیادی صفحہ » الیکشن »

انجینئر اقبال ظفر جھگڑا

Try WordPress Hosting Free for 30 Days | Cloudaccess.net

انجینئر اقبال ظفر جھگڑا

 
انجینئر اقبال ظفر جھگڑا17 مئی 1947 کو پشاور کے نواحی گاو¿ں جھگڑا میں پیدا ہوئے۔ان کے دادا ابراھیم خان جھگڑا اور والد ملک مظفر خان جھگڑا تحریک پاکستان کے کارکن تھے۔اقبال ظفر جھگڑا صوبہ خیبر پختونخوا کے گورنر ہیں،وہ صوبے کے انتیسویں اور اس صوبے میں مسلم لیگ کے چوتھے گورنر ہیں، ان کا شمار پاکستان مسلم لیگ ن کے ان رہنماﺅں میںہوتا ہے جنھوں نے قیادت کی جلاوطنی کے دوران پارٹی کو زندہ رکھا۔یہ پارٹی کے سیرٹری جنرل بھی رہے ۔انھوں نے پرویز مشرف حکومت کے خلاف آل پارٹیز ڈیمو کریٹک موومنٹ میں سرگرم کردار ادا کیا تھا۔وہ اتحاد برائے بحالی جمہوریت (اے آر ڈی) کے سکریٹری جنرل بھی رہے ہیں۔
1969 میں اقبال ظفر جھگڑا نے پشاور انجنیئرنگ کالج سے سول انجینئرنگ کی۔ 1970 میں ائریگیشن ڈیپارٹمنٹ میں بطور ایس ڈی او فرائض سرانجام دیے اور 1977 میں سعودیہ عربیہ میں ملازمت کی، 1984 میں مسلم لیگ ن میں شمولیت اختیار کی، 1988 میں مسلم لیگ ن پشاور کے صدر، 1996 میں صوبائی سنئیر نائب صدر ،1997 میں پہلی دفعہ سینٹر منتخب ہوئے۔
دوسری بار 2009 میں سینیٹ کے رکن منتخب ہوئے۔انہوں نے 2012 میں سینیٹ رکنیت کے لیے انتخاب لڑا مگر کامیاب نہ ہوسکے۔یہ ایوان بالا کی قائمہ کمیٹی برائے دفاع و دفاعی پیداوار اورایوی ایشن کے چیئرمین بھی رہ چکے ہیں۔ اس کے علاوہ سینیٹ کی مختلف قائمہ کمیٹیوں کے بھی رکن رہے ہیں۔ جن میں پیٹرولیم و قدرتی وسائل، داخلہ، نارکوٹکس کنٹرول، اسٹیٹس اینڈ فرنٹیئر ریجن کی کمیٹیاں شامل ہیں۔
اقبال ظفر جھگڑا پاکستان کے تاریخ میں کسی بھی جمہوریت کیلئے جدوجہد کی تحریک کے طویل ترین عرصہ سیکرٹری جنرل کے عہدے پر فائز رہنے والے رہنما ہیں۔
2008 کے انتخابات کے بعد جب پاکستان مسلم لیگ ن ، پیپلز پارٹی کی زیرِ قیادت مخلوط حکومت میں حکومتی بنچوں کا حصہ تھی، تب اقبال ظفر جھگڑا نے پیشگوئی کی تھی کہ بہت جلد دونوں جماعتیں ایک دوسرے کی سیاسی حریف ہوں گی۔ وہ جنرل پرویز مشرف کی فوجی حکومت کی حمایت پر طویل عرصے تک پاکستان مسلم لیگ ق کے سخت خلاف رہے ہیں۔
2012میں یہ دوسری مرتبہ مسلم لیگ ن کے سکریٹری جنرل منتخب کیے گئے۔مارچ 2013 کے عام انتخابات کے واسطے قائم ہونے والے پارٹی کے مرکزی پارلیمانی بورڈ کا انہیں سیکریٹری جنرل بھی نامزد کیا گیا تھا۔ جس کا مقصد عام انتخابات کے لیے پارٹی امیدواروں کا انتخاب کرنا تھا۔

اپنی رائے دیں

%d bloggers like this: