بنیادی صفحہ » الیکشن »

پاکستان پیپلز پارٹی

Try WordPress Hosting Free for 30 Days | Cloudaccess.net

پاکستان پیپلز پارٹی

الیکشن کمیشن کے پاس رجسٹرڈ جماعتیں
پاکستان پیپلز پارٹی پاکستان کی ایک سیاسی جماعت ہے اوراس وقت پاکستان کی تیسری بڑی جماعت ہے۔ ذوالفقار علی بھٹو نے ’اسلام ہمارا مذہب، سوشلزم ہماری معیشت، جمہوریت ہماری سیاست، اور طاقت کا سرچشمہ عوام ہے‘ کا منشور لے کر30 نومبر1967 کو لاہور میں پاکستان پیپلز پارٹی کی بنیاد رکھی اور ‘روٹی کپڑا اور مکان’ کا نعرہ لگایا ۔جو جلد ہی ایک انقلابی عوامی جماعت کا روپ دھار گئی۔
پاکستان پیپلز پارٹی اب50برس کی ہو گئی ہے۔ اس عرصے میں اس نے چار فوجی آمر دیکھے ہیں۔جن میں سے دو فوجی آمروں یعنی جنرل ایوب خان اور جنرل ضیا الحق کی شدید مخالفت کی اور اس باعث شدید تکلیفیں برداشت کی ۔ حتیٰ کہ اپنے بانی کو پھانسی پر چڑھتے ہوئے بھی دیکھا۔جبکہ دو آمروں یعنی جنرل یحیٰی خان اورجنرل پرویز مشرف کے لیے اس پارٹی نے نرم گوشہ اختیار کیا۔چار مرتبہ یہ جماعت برسر اقتدار آئی اور تقریباً30برس تک حزب مخالف کا کردار ادا کیا ہے۔
ذوالفقار علی بھٹو کی باتوں نے پاکستان کی پسی ہوئی اکثریت کو ایک نیا حوصلہ دیا تھا۔ اُس دور میں کسی غریب اور چھوٹے کام کرنے والے سے یہ پوچھنے کی ضرورت ہی نہیں ہوتی تھی کہ ان کی وابستگی کس سیاسی جماعت سے ہے اور نہ ہی یہ پوچھنے کی کہ ان کا لیڈر کون ہے؟ کیونکہ سب کو پتا تھا کہ کون سی جماعت ہے اور کون لیڈر ہے۔ چنانچہ جونہی یہ جماعت انقلابی تحریک میں تبدیل ہوئی توحکمران طبقات اور سامراجی آقاوں نے اس انقلابی تحریک کا زور توڑنے اور اسے زائل کرنے کے لیے انتخابات کی جانب اس کا رخ موڑنا چاہا۔
1970ءکے انتخابات میں پاکستان پیپلز پارٹی نے مغربی پاکستان اور شیخ مجیب الرحمن کی عوامی لیگ نے مشرقی پاکستان میں اکثریت سے کامیابی حاصل کی اور انتخابی سیاست پر چھائے ہوئے روایتی سرمایہ داروں ، جاگیر داروں اور اشرافیہ کا تختہ الٹ دیا۔ مگر اشرافیہ نے اکثریتی پارٹیوں کو اقتدار دینے سے انکار کر دیا۔ اس انقلاب کو ٹھنڈا کرنے کے لیے جنگ اور پاکستان کی تقسیم کا سہارا لیا گیا۔جس کا نتیجہ مشرقی پاکستان کی علیحدگی کی شکل میں نکلا۔ اس مشکل صورت حال میں پیپلز پارٹی نے ذوالفقار علی بھٹو کی قیادت میں ملک کی باگ ڈور سنبھالی اور ایک نئے پاکستان کی بنیاد رکھی۔بھٹو نے حکومت سنبھالتے ہی فوری طور پر صحت، تعلیم، لیبر، زمین اور معیشت اور سماج کے دیگر کئی شعبوں میں انتہائی ریڈیکل اصلاحات کیں۔
تاہم جوں جوں یہ جماعت جوان ہوتی گئی ، اسی طرح بدلتی بھی رہی ۔50سالوں میں یہ مختلف نظریاتی راستوں سے ہوتی ہوئی کارپوریٹ دنیا میں داخل ہوچکی ہے۔اس بات میں بھی کوئی شک نہیں کہ پاکستان پیپلز پارٹی ہو یا کوئی بھی جماعت ہو۔وقت ہر ایک کو بدل دیتا ہے۔
1988ءکے انتخابات، 1993ءاور2008ءکے انتخابات میں اکثریت حاصل کی ، 2013کے انتخابات میں سندھ میں حکومت قائم کی۔ پیپلز پارٹی میں ابھی بھی یہ کشش پائی جاتی ہے کہ جو بھی اس سے وابستگی اختیار کر تاہے ،تو یہ اس کے دل میں جا بستی ہے۔ کیونکہ پیپلز پارٹی عام معنوں میں کوئی سیاسی جماعت نہیں ہے بلکہ یہ ایک خاندان کے عشق میں مبتلا ہجوم کا نام ہے۔ وہ خاندان کہ جس کے نہ صرف مردوں بلکہ عورتوں نے بھی اس ملک اور جمہوریت کے لیے اپنی جانوں کے نذرانے پیش کیے ہیں۔
آج کی پاکستان پیپلز پارٹی اپنے بانی کے نظریات پر اتنی ہی عمل پیرا ہے کہ جتنا آج کی مسلم لیگ کاتحریک پاکستان کے ورثے سے تعلق ہے؟،یا عوامی نیشنل پارٹی کا باچا خان کی سوچ یا جماعت اسلامی کا مولانا مودودی کے افکار سے ناتا ہے؟
اب پاکستان پیپلز پارٹی کے قائد ذولفقار علی بھٹو یا بے نظیر بھٹو نہیں رہے۔اب یہ بھٹو خاندان سے نکل کر زرداری خاندان میں چلی گئی ہے۔

اپنی رائے دیں

%d bloggers like this: