بنیادی صفحہ » الیکشن »

ہزارہ ڈیموکریٹک پارٹی

Try WordPress Hosting Free for 30 Days | Cloudaccess.net

ہزارہ ڈیموکریٹک پارٹی

الیکشن کمیشن کے پاس رجسٹرڈ جماعتیں
ہزارہ ڈیموکریٹک پارٹی( ایچ ڈی پی ) ہزارہ قوم کی ایک سیاسی جماعت ہے ، جس کی بنیاد ستمبر 2002میں رکھی گئی، یہ پارٹی اس وقت بلوچستان خصوصاً کوئٹہ شہر میں سرگرم ہے، یہ جماعت الیکشن کمیشن آف پاکستان میں رجسٹرڈ ہے۔
ہزارہ قوم کے 6لاکھ سے زائد افراد کوئٹہ، خضدار، زوب اور ڈیرہ مراد جمالی میں مقیم ہیں۔ ایچ ڈی پی کی تشکیل سے قبل ہزارہ قوم قومی یا صوبائی سیاست میں اتنی زیادہ سرگرم نہیں تھی۔ تاہم ہزارہ قبائل پر مظالم کے بڑھنے کے بعد ہزارہ قوم کے سیاسی کارکنوں ، سکالرز اور دیگر اہم شخصیات نے اپنی آواز حکومتی ایوانوں تک پہنچانے کیلئے ہزارہ ڈیموکریٹک پارٹی بنانے کا فیصلہ کیا۔ اس پارٹی کے دیگر 9ونگز بھی ہیں، جن میں ایک خواتین کا ونگ بھی ہے، یہ پارٹی ایک لبرل اور ڈیموکریٹک ہے، یہ خواتین کی قومی حوالے سے سیاست میں شرکت پر یقین رکھتی ہے۔
اس پارٹی کے بانی چیئرمین محمد جواد ایسر تھے جو ستمبر 2002سے 2008تک اپنے عہدہ پر فائز رہے، 26ستمبر 2008 میں حسین ولی یوسفی چیئر مین بنے، جنہیں 26جنوری 2009میں ایک کالعدم تنظیم کے افراد نے قتل کر دیا، نومبر 2010میں عبدل الخالق ہزاہ پارٹی چیئر مین بنے ، 2017میں پھر ہزارہ ڈیموکریٹک پارٹی کے انٹرا پارٹی الیکشن جنرل موسی خان کالج میں ہوئے، جس میں عبدالخالق ہزارہ چیئرمین منتخب ہوئے۔
الیکشن کمیٹی کے نتائج کے مطابق احمد کوہزاد مرکزی سیکرٹری جنرل منتخب ہوئے۔ مرکزی کونسل کے 21 ارکان کیلئے بھی انتخابات ہوئے اور تمام ارکان بلامقابلہ منتخب ہوئے ۔بعد ازاں ایگزیٹیو کونسل اور مرکزی کابینہ کے انتخابات میں تین عہدیداروں کیلئے امیدواروں کے درمیان مقابلہ ہوا جبکہ دیگر 5 عہدیدار بلامقابلہ منتخب ہوئے، اراکین کمیٹی کے مطابق چیرمین عبدالخالق ہزارہ وائس چیرمین اول محمد رضا وکیل ، وائس چیرمین دوم عزیز اللہ ہزارہ ، مرکزی سیکریٹری جنرل احمد کوہزاد ، ڈپٹی سیکریٹری محمد یونس چنگیزی ، سیکریٹری اطلاعات مرزا حسین ہزارہ ، فنانس سیکریٹری محمد رضا ہزارہ اور مرکزی آرگنائزنگ سیکریٹری غلام مہدی ہزارہ منتخب ہوئے۔
ہزارہ ڈیموکریٹک پارٹی نے 2013کے انتخابات میں حصہ لیا تھا تاہم کوئٹہ کی نشست پی بی 2 میں ان کے امیدوار کو ہرانے کیلئے دھاندلی کا الزام لگایا اورپی بی 2 کے نتائج روکنے، دھاندلیوں کی تحقیقات اور ووٹوں کی دوبارہ گنتی کے لئے الیکشن کمیشن کے سامنے باقاعدہ درخواست جمع کراوئی تھی۔ ایچ ڈی پی کا موقف تھا کہ ان کی واضح برتری کو رات بارہ بجے کے بعد اچانک شکست میں تبدیل کر دیا گیا جب کہ ووٹوں کی گنتی رات دس بجے تک مکمل ہو چکی تھی اور کئی ٹیلی ویڑن چینلوں پر اس کا اعلان بھی ہو چکا تھا۔
پارٹی کے دیگر اہم رہنماﺅں میں محمد رضا وکیل، عزیز اللہ ہزاہ، احمد علی خوضاد، یونس چنگزئی، محمد رضا ہزارہ، غلام رضا، جاوید رضا، مرزا ہزارہ وغیرہ شامل ہیں۔

اپنی رائے دیں

%d bloggers like this: