سومرو خاندان

پاکستان کے حکمران خاندان
اس خاندان کے افراد ممبر اسمبلی، سپیکر، وزیر اعظم اور صدر کے عہدہ پر فائز رہ چکے ہیں
منصور مہدی
سندھ کے سومرو خاندان کے افراد پاکستان کے قیام سے قبل ہی حکومت کے اعلی عہدہ پر فائز رہے۔ اس خاندان نے سندھ میں سالہا سال حکومت کی ہے۔ اس خاندان کی ایک شخصیت اللہ بخش سومرو جو1900میں پیدا ہوئے اور 14 مئی 1943میں وفات پائی، صوبہ سندھ کے دو مرتبہ وزیر اعلیٰ اور اتحاد پارٹی کے سرگرم سیاسی کارکن تھے۔ انھوں نے وزارت اعلی سندھ کا منصب پہلی بار 23مارچ 1938سے 18 اپریل 1940تک جبکہ دوسری دفعہ 7 مارچ 1941 سے 14 اکتوبر 1942تک سنھبالا۔
اس خاندان کے ایک اور فرد الہی بخش سومرو ہیں جو مولا بخش سومرو کے فرزند اور احمد میاں سومرو کے بھائی ہیں۔ پیشے کے اعتبار سے انجینئر ہیں۔ این ای ڈی انجیرنگ کالج کراچی کے پرنسپل اور ادارہ ترقیات کراچی کے ڈائریکٹر جنرل بھی رہے۔ جنرل ضیا الحق کے دور میں حکومت میں پہلی مرتبہ وفاقی وزیر بنے۔ 1985میں بلا مقابلہ قومی اسمبلی کے رکن منتخب ہوئے۔ 29 مئی 1988کو جنرل ضیا الحق نے جب محمد خان جونیجو کی وزارت کو برطرف کیا اور نگران کابینہ تشکیل دی تو اس میں بھی وزیراطلاعات و نشریات مقرر ہوئے۔
1990اور پھر 1997کے عام انتخابات میں مسلم لیگ کے ٹکٹ پر قومی اسمبلی کے رکن منتخب ہوئے۔ پرویز مشرف کے دور میں مسلم لیگ ق میں شامل ہونے اور مشرف کی چھتری تلے ہونے والے انتخابات میں بھی کامیاب ہوئے اور قومی اسمبلی کے سپیکر بنے۔ مگر 2007میں ہونے والے الیکشن میں اپنی نشست پر کامیابی حاصل کرنے میں ناکام رہے۔
اسی خاندان کے ایک اور معروف شخصیت میاں محمد سومرو ہیں، جنہوں نے 16 نومبر 2007کو پاکستان کے نگران وزیراعظم کا حلف اٹھایا۔ اس سے پہلے آپ چیئرمین سینیٹ پاکستان تھے۔ پیشے کے اعتبار سے بینکار رہے ہیں۔
پرویز مشرف کے استعفیٰ کے بعد میاں محمد سومرونے 18 اگست 2008کو پاکستان کے قائم مقام صدر کا عہدہ سنبھال لیا۔
سومرو سندھ کی قدیم قوم یا نسل ہے جو سندھ، کچھ، کاٹھیاواڑ، گجرات، بلوچستان میں کثرت سے آباد ہے۔ علامہ مولوی عبداللہ شائق سومروں کی اصل نسل کے بارے میں کہتے ہیں کہ،سومرا قوم کے مو¿رث اعلیٰ حضرت علی کرم اللہ وجہہ ہیں، اسی لیے انہیں علوی کہہ سکتے ہیں۔ سومروں کا سلسلہ نسب حضرت علی کرم اللہ وجہہ کے نامدار فرزندحضرت محمد ابن حنفیہ سے ملتا ہے۔ حضرت محمد حنیفہ خولد جعفر بن قیس کی بیٹی سے پیدا ہوئے۔ حضرت محمد بن حنفیہ سے حدیث کی روایتیں آپ کے والد ماجد سے ہیں۔حضرت محمد بن حنفیہ 65 برس کی عمر میں 81ھ بمطابق 662میں مدینہ شریف میں وفات کی اور جنت البقیع میں تدفین ہوئی۔
حضرت محمد حنفیہ کے دو بیٹے جعفر اور ابراہیم تھے۔ حضرت جعفر بن محمد حنفیہ نے مدینہ منورہ سے ہجرت کرکے سامرہ (عراق) میں سکونت اختیار کی۔ سلطان ابن سومار سومروں کے پہلے تاجدار کا سلسہ نسب اس طرح حضرت محمد ابن حنفیہ سے ملتا ہے۔عصام الدین بھونگر بن سومار بن سحدان بن عبدالرحمٰن بن کعب بن اشرف بن عبداللہ بن مقداد بن عمر بن مسلام بن مقیس بن نحاض بن حبیب بن ہارون بن جعفر بن حضرت محمد حنیفہ۔ عباسی خلیفہ مامون الرشید، علویوں کا بے حد احترام کرتا تھا، جس نے مقداد کو جو حضرت محمدحنفیہ کے بیٹے جعفر کی اولاد سے ساتویں پ±شت سے تھا، اسے سندھ کا گورنر مقرر کیا، جو 215ھ میں اپنے اہل و عیال، بھائیوں اور رشتے داروں سمیت سامرہ سے ہجرت کرکے سندھ میں آئے، جنہیں بعد میں سندھ کے باشندے سومرہ کہنے لگے۔

جواب لکھیں

آپ کا ای میل شائع نہیں کیا جائے گا۔نشانذدہ خانہ ضروری ہے *

*

%d bloggers like this: