Try WordPress Hosting Free for 30 Days | Cloudaccess.net
031003-D-9880W-031 Pakistani Prime Minister Mir Zafarullah Khan Jamali (right) meets with Secretary of Defense Donald H. Rumsfeld (left foreground) at the Pentagon on Oct. 3, 2003. Under discussion is a broad range of bilateral security issues, many relating to the global war on terrorism, in which Pakistan is playing a significant role. Among others participating in the talks, on the Pakistani side, are Minister of Foreign Affairs Khurshid M. Kasuri (center) and Honorary Advisor to the Prime Minister Syed Sharifuddin Pirzada (seated at the left). DoD photo by R. D. Ward. (Released)

جمالی خاندان

پاکستان کے حکمران خاندان
اس خاندان کے آباﺅ اجداد قائد اعظم کے ساتھ تحریک پاکستان میں شریک رہے
منصور مہدی
جمالی خاندان قیام پاکستان سے ہی ملکی سیاست میں سرگرم رہا ہے۔ اس خاندان کے بزرگ جعفر خان جمالی قائداعظم کے قریبی ساتھی تھے۔جمالی خاندان کے افراد ہر دور میں صوبائی اور وفاقی سطح پر حکومتوں میں شامل رہے ہیں۔ شاہنواز جمالی جو میر جعفر خان جمالی کے بھائی تھے، انھوں نے بھی تحریک پاکستان میں بھرپور حصہ لیا تھا۔
جب محترمہ فاطمہ جناح ایوب خان کے خلاف اپنی انتخابی مہم کے سلسلے میں ان کے علاقے میں آئیں تو سابق وزیر اعظم پاکستان ظفراللہ جمالی ان کے ساتھ تھے۔ میر تاج محمد جمالی ذوالفقار علی بھٹو کے دور میں وفاقی وزیر رہے۔ میر عبدالرحمٰن جمالی اور میر فائق جمالی صوبائی کابینہ میں رہے ہیں۔
1988 کے بعد سے روجھان جمالی سے تین وزراءاعلیٰ بلوچستان منتخب ہو چکے ہیں، جن میں تاج محمد کے علاوہ جان محمد جمالی اور ظفراللہ جمالی شامل ہیں۔
فریداللہ جمالی جو ظفر اللہ جمالی کے بیٹے ہیں، 1997 میں رکن قومی اسمبلی بھی منتخب ہو چکے ہیں۔
اس خاندان کی اہم شخصیت میر ظفر اللہ جمالی ہیں، جو 1977میں بلا مقابلہ صوبائی اسمبلی کے ممبر منتخب ہوئے اور صوبائی وزیر خوراک اور اطلاعات مقرر کئے گئے۔ 1982میں وزیر مملکت خوراک و زراعت بنے۔ 1985کے انتخابات میں نصیرآباد سے بلا مقابلہ قومی اسمبلی کے ممبر منتخب ہوئے۔ 1986میں وزیراعظم محمد خان جونیجو کی کابینہ پانی اور بجلی کے وزیر رہے، وزیر ریلوے بھی رہے۔ 1986کے انتخابات میں صوبائی اور قومی اسمبلی کی نشست پر منتخب ہوئے۔ قومی اسمبلی کی نشست سے مستعفی ہوگئے اور صوبائی اسمبلی کے ممبر بنے۔ 1988میں وہ بلوچستان کے نگران وزیر اعلیٰ مقرر ہوئے۔ 1990کے انتخابات میں قومی اسمبلی کے امیدوار تھے لیکن ناکامی کا سامنا کرنا پڑا۔ جبکہ 1993میں کامیاب ہوگئے۔ 9 نومبر 1996تا 22 فروری 1997دوبارہ بلوچستان کے نگراں وزیراعلیٰ رہے۔ 1997میں سینٹ کے ممبر منتخب کئے گئے۔
1999نواز شریف کی جلاوطنی کے بعد جب مسلم لیگ دو حصوں میں تقسیم ہو گئی تو جمالی مسلم لیگ (ق) لیگ کے جنرل سیکریٹری بنے۔ انتخابات 2002اکتوبر کے نتیجے میں ان کو پارلیمنٹ نے 21 نومبر 2002 میں وزیر اعظم منتخب کیا۔ 2013کے انتخابات میں پھر ممبر قومی اسمبلی منتخب ہوئے۔
تاج محمد جمالی کا تعلق بھی ضلع جعفرآباد سے ہے،یہ بلوچستان کے 17 نومبر،1990سے لے کر 20 مئی 1993تک بلوچستان کے وزیر اعلیٰ رہے تھے۔۔ وہ جان محمد جمالی، چیئرمین سینٹ اور ظفر اللہ خان جمالی کے کزن بھی تھے۔جو 2009میں وفات پا چکے ہیں۔
میر جان محمد جمالی بھی اسی خاندان سے ہیں، جن کا تعلق ضلع جعفرآباد سے ہے۔جو 15 جون 1998سے لے کر 12 اکتوبر 1999تک بلوچستان کے وزیر اعلیٰ رہے تھے۔ وہ ڈپٹی چیئرمین سینٹ بھی رہے۔ 2013 کے انتخابات میں وہ بلوچستان اسمبلی کے ممبر منتخب ہوئے اور بلوچستان اسمبلی کے سپیکر مقرر ہوئے، بعد ازاں 2015میں انھوں نے سپیکر شپ سے استعفیٰ دے دیا۔

اپنی رائے دیں

%d bloggers like this: