مینگل خاندان

پاکستان کے حکمران خاندان
اس قبیلہ کے افراد بلوچستان کے گورنر اور وزیر اعلیٰ رہ چکے ہیں
منصور مہدی
مینگل خاندان بلوچستان کا بہت بڑا اور مشہور قبیلہ ہے، اس خاندان کے بیشتر افراد بلوچستان میں بڑے بڑے عہدوں پر فائز رہ چکے ہیں۔ سردار عطاءاللہ خان مینگل بلوچستان کے علاقے وڈھ سے تعلق رکھنے والے ممتاز سیاستدان اور مینگل قبیلے کے سربراہ ہیں، وہ 1 مئی 1972سے 12 مئی 1973 تک بلوچستان کے وزیراعلیٰ رہ چکے ہیں ۔ وہ عوامی نیشنل پارٹی سے تعلق رکھتے ہیں۔
اس خاندان کے ایک اور اہم شخصیت امیر الملک مینگل ہیں جو بلوچستان کے ممتاز وکیل، جج اور دو مرتبہ صوبے کے گورنر رہے۔ پہلی مرتبہ 1997میں اور دوسری دفعہ21 اکتوبر 1999 سے یکم فروری 2003تک گورنر بلوچستان رہے۔ اسی خاندان کے ایک اور شخصیت محمد نصیر مینگل 19 جولائی 1993تا 20 اکتوبر 1993تک گورنر رہے، اسی خاندان کے ایک اور فرد اختر مینگل 22 فروری 1997تا 15 جون 1998 بلوچستان کے وزیر اعلیٰ رہ چکے ہیں، امیرالملک مینگل12 اکتوبر 1999 تایکم دسمبر، 2002گورنر رہے۔
سردار اختر مینگل بلوچستان نیشنل پارٹی ( مینگل ) کے قائد ہیں، یہ ممتاز بلوچ قوم پرست ااور مینگل قبیلے کے نواب زادہ ہیں، وہ عطاءاللہ مینگل کے صاحب زادے ہیں۔ یہ 25مارچ 2013کو خود ساختہ جلاوطنی ختم کر کے پاکستان واپس آئے۔ انھوں نے 2013کے انتخابات میں حصہ لیا اور صوبائی اسمبلی کی نشست پر کامیاب ہوئے۔ جبکہ ان کی پارٹی نے دو صوبائی اور دو قومی اسمبلی کی نشستیں حاصل کیں۔
مینگل قبیلہ تین جتھوں شاہی زئی ، ذگر، اور سمالانی پر مشتمل ہے۔ شاہی زئی مینگل جھا لا وان کی پہاڑوں میں وڈ کے مقام پر رہتے ہیں۔ ذگر مینگل ضلع چاغی میں رہائش پزیر ہیں ۔ سمالانی خانہ بدوش ہیں اور کچھی خاران اور چاغی کے ضلعوں میں نئی نئی چراگاہوں کی تلاش میں پھرتے رہتے ہیں۔
مینگل رند بلوچوں کی ایک شاخ ہیں اور اس بات کا دعویٰ کرتے ہیں کہ جب میر چاکر اور اس کے ساتھی رندوں نے قلات کو فتح کیا تھا تو مینگل اس کی فوج کا باقا ئدہ حصہ تھے۔ جب میر چاکر کو قلات سے نکلنا پڑا تو مینگل اور دوسرے بلوچ قلات ہی میں رہ گئے۔
جب بجار میروانی بروہی نے قلات پر قبضہ کرلیااور میر چاکر کے مقرر کردہ گورنر کو وہاں سے نکال دیا تو مینگلوں نے اس نئے بروہی حکومت کے ساتھ صلح کر لی اور بزور شمشیر بزنجو قبیلہ سے وڈ اور وہیر کے علاقے چھین لیے۔
مینگل جو قلات کے جھالاوان علا قہمیں رہتے ہیںان کے مختلف گروہ مثلاً لہڑی، عمرانی ، حمل زئی ، بارانزئی، گورانی، اور احمدانزئی، کے ناموں سے یہ ظاہر ہوتا ہے کہ بلوچوں کے بعض دوسرے بڑے بڑے قبیلوں کی طرح یہ بھی بہت سے بلوچ قبیلوں کا جتھا ہے۔ اس قبیلے کی اکثریت جھالاوان کی پہاڑیوں میں عرصہ دراز سے رہنے کی وجہ سے اب عموماًبروہی زبان بولتے ہیں۔

جواب لکھیں

آپ کا ای میل شائع نہیں کیا جائے گا۔نشانذدہ خانہ ضروری ہے *

*

%d bloggers like this: