بنیادی صفحہ » الیکشن »

برابری پارٹی پاکستان

Try WordPress Hosting Free for 30 Days | Cloudaccess.net

برابری پارٹی پاکستان

الیکشن کمیشن کے پاس رجسٹرڈ جماعتیں
غریب اور امیر کا طبقاتی فرق مٹانے بغیر ملک میں تبدیلی نہیں لائی جا سکتی
الیکشن کمشن نے ”برابری پارٹی پاکستان“کے نام سے گلوکار جواد احمد کی جماعت کو رجسٹر کر کے باضابطہ نوٹیفکیشن جاری کر دیاہے۔گلوکار جواد احمد اب سیاست میں قسمت آزمائیں گے۔ وہ کہتے ہیں کہ پارٹی کی رجسٹریشن کے بعد دمادم مست قلندر ہوگا۔
ان کا کہنا ہے کہ ہماری پارٹی کا منشور غریب آدمی اور ورکنگ کلاس کے لیے ہوگا۔ ملک میں صرف ذاتی سیاست کھیلی جارہی ہے مسائل پر کوئی بات نہیں کرتا۔ سی پیک کے اثرات بھی ورکنگ کلاس کے لیے فائدہ مند نہیں ہیں۔
پاکستان کی تینوں بڑی جماعتوں کا ایجنڈا ایک ہی ہے۔ انہوں نے مستقبل کی حکمت عملی بتاتے ہوئے کہا کہ ہم کوئی الیکشن جیتنے نہیں آرہے۔ ہم صرف عام عوام کو سیدھا اور متبادل راستہ دکھانے آرہے ہیں۔
ہم اپنی پارٹی میں کوئی ایسا شخص نہیں لینگے جنہوں نے ملک کا قرضہ واپس کرنا ہے، لیکن ہم الیکشن میں ہر صورت جائیں گے۔
90کی دہائی کے آخر میں اور 2000کے عشرے میں پاکستان میں موسیقی کے منظرنامے میں بہت سے نئے فنکار ا±بھرے جنہوں نے اپنی محنت سے نام بنایا۔ انہی میں سے ایک جواد احمد بھی ہیں، جنہوں نے پوپ میوزک میں پنجابی رنگ شامل کرکے اسے ایک الگ انداز دیا۔
لاہور میں یو ای ٹی سے انجینئرنگ کی ڈگری لینے کے بعد موسیقی کے میدان میںآئے۔جواد احمد کی موسیقی نے صرف پاکستان میں ہی نہیں بلکہ بھارت میں بھی دھوم مچائی اور ان کے چند گانوں کو بھارتی فلموں کا بھی حصہ بنایا گیا۔
جواد احمد نے پاکستانی فلموں ’موسیٰ خان‘، ’میں ایک دن لوٹ کے آو¿ں گا‘ اور ’ورثہ‘ کے لیے موسیقی ترتیب دی۔ جواداحمد سماجی کاموں میں بھی بڑھ چڑھ کر حصہ لیتے ہیں۔ ماضی میں بھی انہوں نے ’تعلیم فار آل‘ کے نام سے ایک ادارہ بنایا تھا جس کا مقصد بچوں کے لیے تعلیم تک رسائی کو آسان بنانا تھا۔
جواد احمد کہتے ہیں کہ ہم سب ایک مختلف اور تبدیل شدہ پاکستان چاہتے ہیں مگر یہ تبدیلی کیسے آئے گی؟ بغیر اصلاحات کے تبدیلی نہیں لائی جا سکتی۔ اس کے لیے عمل کی ضرورت ہے۔ جب تک اس ملک میں غریب اور امیر کا طبقاتی فرق مٹانے کے لیے کاوشیں نہیں کی جائیں گی۔ ایسا ممکن نہیں ہوگا۔
یہی فرق مٹانے کے لیے جواد احمد نے برابری پارٹی پاکستان کے نام سے یہ جماعت بنائی ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ مزدور اور کسان ہماری ملک کی ایک بڑی آبادی ہیں اور یہ کہنا بھی بے جا نہ ہوگا کہ یہ ملک انہی کے دم سے چلتا ہے مگر بدلے میں انہیں کیا ملتا ہے؟ غربت اور افلاس؟
جواد احمد مزید کہتے ہیں کہ ملک میں تبدیلی کے لیے ان لوگوں کا مقدر سنوارنا ہوگا، کسانوں اور غریبوں کو ان کے حقوق کا احساس دلانا ہوگا اور انہیں بتانا ہوگا کہ اپنے حقوق حاصل کرنے کے لیے کسان اور مزدور جدوجہد کیسے کریں؟ ورنہ پاکستان کا طبقاتی نظام بد سے بدتر ہوتا چلا جائے گا۔
جواد احمد کی موسیقی کے شعبے کے لیے خدمات کا اعتراف کرتے ہوئے حکومت ِپاکستان نے انہیں 2006میں تمغہ ِامتیاز سے نوازا۔ 2006میں ہی جواد احمد کو وزارت ِصحت کی طرف سے پولیو کا سفیر مقرر کیا گیا جبکہ حکومت ِپاکستان نے 2005کے زلزلے کے بعد ان کی خدمات کے صلے میں انہیں ’ستارہ ِایثار‘ سے نوازا۔

اپنی رائے دیں

%d bloggers like this: