بنیادی صفحہ » الیکشن »

شاہد خاقان عباسی

Try WordPress Hosting Free for 30 Days | Cloudaccess.net

شاہد خاقان عباسی

سینئر رہنما و سیاستدان
وزیراعظم شاہد خاقان عباسی کا تعلق فوجی پس منظر رکھنے والے خاندان سے ہے،اپنے والد اور سابق وزیر خاقان عباسی کے انتقال کے بعد سیاست میں حصہ لیا اور 1988سے اب تک 6مرتبہ الیکشن جیت کر اہم عہدوں پر فائز رہے۔ ان کا تعلق پاکستان مسلم لیگ ن سے ہے۔
شاہد خاقان عباسی27 دسمبر 1958 کوکراچی میں ایر کموڈور خاقان عباسی کے گھرپیدا ہوئے۔وہ تعلیمی اعتبار سے الیکٹریکل انجینئر ہیں،انہوں نے کراچی میں کچھ عرصہ پیلے اسکول میں بھی تعلیم حاصل کی۔
لارنس کالج مری سے تعلیم حاصل کرنے کے بعد یونی ورسٹی آف کیلی فورنیا سے بیچلرز آف الیکٹریکل انجینئرنگ جبکہ 1985 میں جارج واشنگٹن یونی ورسٹی سے الیکٹریکل انجینئرنگ میں ماسٹرز کیا۔
خاقان عباسی نے امریکا میں مختلف عہدوں پر کام کے بعد سعودی عرب میں تیل و گیس کے شعبے میں بھی کام کیا، اپنے والداور وفاقی وزیر خاقان عباسی کے انتقال کے بعد 1988 میں الیکشن میں کامیابی سے سیاسی کیریر کا اغاز کیا۔
اس سے قبل ان کے والد خاقان عباسی مرحوم 1985 کے انتخابات میں جنرل ضیاء الحق کی کابینہ کے وزیر اطلاعات راجہ ظفر الحق کو شکست دے کر رکن اسمبلی منتخب ہوئے تھے۔
1986 میں راولپنڈی میں اوجڑی کیمپ سانحہ میں خاقان عباسی کے جاں بحق ہونے کے بعد شاہد خاقان عباسی نے اپنے والد کا کاروبار اور سیاست بھی سنبھال لیا بعد ازاں انہیں بار بار اسی حلقے سے کامیابی حاصل ہوئی، سوائے 2002 کے انتخابات میں جب وہ پیپلز پارٹی کے امیدوار غلام مرتضی ستی سے شکست کھا گئے ۔
شاہد خاقان عباسی پائلٹ بھی ہیں، یہی وجہ ہے کہ نواز شریف نے انہیں1997میں پی آئی اے کا چیئرمین مقرر کیا، بارہ اکتوبر 99 کو جنرل مشرف نے مسلم لیگ کی حکومت ختم کی گئی تو طیارہ سازش کیس میں شاہد خاقان عباسی کو بھی گرفتار کیا گیا۔
انہوں نے کاروبار کو توسیع دینے کے ساتھ ساتھ اپنی نجی ائیرلائن ائیر بلیو قائم کی۔
وہ نواز شریف کے قابلِ اعتماد ساتھی شمار کئے جاتے ہیں، شہباز شریف ان کے حلقے کے رکن صوبائی اسمبلی اور صوبائی وزیر راجہ اشفاق سرور پر زیادہ اعتماد کرتے ہیں۔
سپریم کورٹ کے حکم پر 2017میں نوازشریف کے نا اہل ہونے کے بعد سے اب تک وزیر اعظم کے عہدہ پر فائز ہیں۔ شاہد خاقان عباسی اپنے دھیمے مزاج اور صلح جو طبیعت کی وجہ سے مسلم لیگ ن کے ان گنے چنے ارکان میں شامل ہیں جو ہمیشہ تحمل اور غیر جذباتیت کے داعی رہے ہیں۔

اپنی رائے دیں

%d bloggers like this: