بنیادی صفحہ » الیکشن »

پختونخوا ملی عوامی پارٹی

پختونخوا ملی عوامی پارٹی

الیکشن کمیشن کے پاس رجسٹرڈ جماعتیں
پختونخوا ملی عوامی پارٹی پاکستان کی ایک قوم پرست پشتون سیاسی جماعت ہے۔ محمود خان اچکزئی اسکے سربراہ ہیں۔ اس پارٹی کی بنیاد برصغیر پاک وہند کی آزادی کے عظیم رہنما عبدالصمد خان اچکزئی نے رکھی تھی۔اس جماعت کی سینٹ میں 3، قومی اسمبلی میں 3 اور بلوچستان کی صوبائی اسمبلی میں 14نشستیں ہیں۔
عبدالصمد خان اچکزئی جو 7 جولائی 1907کو پیدا ہوئے تھے، ایک معروف قبائلی شخصیت، سیاسی راہنما ،ادیب اور انسانی حقوق کے کارکن تھے۔عبدالصمد خان نے اسکول کی تعلیم کے ساتھ ساتھ پشتو، عربی، فارسی زبانوں کی تعلیم حاصل کی اور فقہ، احادیث کا بھی مطالعہ کیا۔
برطانوی راج کیخلاف متحدہ ہندوستان کی آزادی کے لیے جدوجہد کی اور تقریباََ 25 سال سے زیادہ عرصے تک عبدالصمد کو انگریزوں نے جیل میں رکھا۔ پاکستان بننے کے بعد ایوب خان کے مارشل لا کے خلاف احتجاج کرنے پر انہیں جیل بھیجا گیا۔
عبدالصمد خان اچکزئی کو پشاور، مچھ، ہری پور، لاہور کا شاہی قلعہ، منٹگمری، مالٹا اور جزائر انڈیمان کے جیلوں میں رکھا گیا تھا۔
موجودہ صدر محمود خان اچکزئی قومی اسمبلی کے ممبر ہیں۔ انھوںنے سیاست کا آغاز اپنے والد خان عبدالصمد خان اچکزئی کی شہادت کے بعد شروع کیا،وہ 2 فروری 1974کو ضمنی انتخاب میں بلوچستان صوبائی اسمبلی کے رکن بنے۔1993کے انتخابات میں محمود اچکزئی کوئٹہ سے ممبر قومی اسمبلی منتخب ہوئے، تاہم 1997کے انتخابات میں وہ الیکشن جیت نہ سکے، 2002کے انتخابات میں اچکزئی این اے 262سے جیت کر ممبر قومی اسمبلی منتخب ہوئے، تاہم این اے 259سے انتخاب ہار گئے۔ تاہم 2008 کے انتخابات کا بائیکاٹ کر دیا۔ 2013کے انتخابات میں اچکزئی نے پھر این اے 262قلعہ عبداللہ اور این اے 259کوئٹہ سے انتخابات میں حصہ لیا اور این اے 259کوئٹہ سے ممبر قومی سمبلی منتخب ہو گئے۔
الیکشن کمیشن آف پاکستان میں رجسٹریشن کے وقت اس پارٹی نے اپنے اغراض و مقاصد یوں بیان کیے ہیں کہ ہر قسم کی آمریت اور سماجی و استحصال سے آزاد ایک جمہوری اور غیر فرقہ وارانہ اور سماجی برابری پر مبنی معاشرہ کے قیام کیلئے جمہوری اور سیاسی نظام قائم کیا جائے گا اور شہری آزادی اور بنیادی حقوق پر پابندی کا خاتمہ کیا جائے گا۔
عورتوں کیخلاف تمام امتیازی قوانین منسوخ کر دیئے جائیں گے، پریس کی آزادی پر پابندی لگانے والے تمام قوانین منسوخ کر دیئے جائیں گے، اخبار و رسالہ کے ڈیکلریشن پر پابندی کا خاتمہ کیا جائےگا، اشتہارات اور کاغذ کے کوٹہ کو پریس کی آزادی میں رکاوٹ ڈالنے کی ممانعت ہو گی۔
ڈویڑن سے ضلع کی سطح تک تمام انتظامی یونٹوں کا منتخب، پنچائیت، جرگوں اور انتظامیہ و عدلیہ کی تشکیل و حاکمیت ہو گی، عدلیہ کی انتظامیہ سے علیحدگی و خود مختاری ہو گی، سول سروس اور دیگر تمام ماہرین کے ان منتخب اداروں کی رہنمائی اور کنٹرول میں عوام کی خدمت اولین ہو گی۔ لیویز نظام کے برقراری اور جدید جمہوری بنیادوں پر تشکیل کیساتھ ہر شعبہ زندگی میں خرد برد، کرپشن، سفارش، اقربا پروری اور ہر قسم کی بد عنوانی کا مکمل خاتمہ کیا جائے گا۔

جواب لکھیں

آپ کا ای میل شائع نہیں کیا جائے گا۔نشانذدہ خانہ ضروری ہے *

*

%d bloggers like this: