بزنجو خاندان

یہ خاندان 1839میں 45برس تک مکران کا حاکم رہا
منصور مہدی
بزنجو بلوچستان سے تعلق رکھنے والا ایک قبیلہ ہے، اس خاندان کے افراد میں ایک نمایاں شخصیت میر غوث بخش بزنجو کی ہے، جو 15 فروری 1917کوبلوچستان کے گاو¿ں شانک میں پیدا ہوئے، یہ گاو¿ں ضلع آواران کے جھاو¿ علاقے میں واقع ہے، میر صاحب کے والد کا نام سفر خان تھا۔ میر غوث بزنجو ایک مضبوط اعصاب رکھنے والے عوام دوست شخصیت تھے، میر غوث بخش بزنجو ایک نہیں کئی عوامی تحریکوں کے روئے رواں رہے ہیں۔
آپ کے دادا سردار فقیر محمد بزنجو 1839 میں محراب خان حکومت میں مکران کے گورنر تھے، وہ تقریباً 45 برس تک گورنر رہے۔
میر غوث بخش بزنجو ابھی ایک برس کے تھے کہ یتیم ہوگئے، وہ اسکول کے زمانے میں فٹبال کے کھلاڑی بنے اور اسی فٹبال کی وجہ سے سینڈیمن سے ہوتے ہوئے علی گڑھ جا پہنچے اور وہاں فٹبال ٹیم کے کیپٹن ہوگئے، اور جب تک علی گڑھ میں رہے، فٹبال کا گولڈ میڈل علی گڑھ کو ہی ملتا رہا۔
علی گڑھ میں پرامن سیاسی ہلچل کے زمانے میں بزنجو مسلم لیگ کے بجائے کانگریس کے حامی بنے اور پھر آہستہ آہستہ ان کا رجحان بائیں بازو کی طرف ہوا۔ وہ چار سال وہاں رہے اور پھر 1938 میں میٹرک کرنے کے بعد واپس آگئے۔1938 میں کراچی کی ایک سرگرم تنظیم بلوچ لیگ میں شامل ہوگئے۔ اس تنظیم کے پلیٹ فارم سے قلات میں قلات نیشنل پارٹی کے سالانہ کنونشن میں شریک ہوئے اور پھر اس کے عہدیدار ہوگئے۔
مارچ 1948 انگریز حکومت نے بزنجو کو گرفتار کرکے خضدار جیل میں ڈال دیا۔1954 میں پاکستان نیشنل پارٹی میں شامل ہوگئے،1957 میں پاکستان نیشنل پارٹی (پی این پی) عوامی نیشنل پارٹی (اے این پی) بن گئی، لفظ عوامی کا اضافہ مولانا بھاشانی کے مطالبے پر ہوا۔
1972 سے 1973 تک بلوچستان کے گورنر رہے۔
میر غوث بخش بزنجو کے بیٹے میر حاصل بزنجونے 70کی دہائی میں بلوچ اسٹوڈنٹس آرگنائزیشن کے پلیٹ فارم سے سیاست کا آغاز کیا۔1972میں بی ایس او نال زون کے صدر اوربعدمیں تنظیم کے مرکزی جوائنٹ سیکرٹری منتخب ہوئے۔ 1987 میں بی ایس او اور بی ایس او عوامی کے اتحاد کے خلاف تنظیم سے علیحدگی اختیار کی۔ حاصل بزنجو جامعہ کراچی میں اسلامی جمعیت طلبہ کے خلاف تشکیل دیئے جانے والے قوم پرست اور ترقی پسند طلبا کے اتحاد یونائیٹڈ اسٹوڈنٹس موومنٹ کے چیئرمین بھی رہ چکے ہیں۔
1985 تحریک بحالی جمہوریت (ایم آر ڈی ) میں متحرک رہے۔ 1988 میں پاکستان نیشنل پارٹی میں شمولیت اختیار کی اور نال سے انتخابات میں حصہ لیا۔1989 میں والد کی وفات کے بعد پاکستان نیشنل پارٹی کی سرگرمیو ں میں زیادہ فعال ہوگئے، جس کی قیادت ان کے بڑے بھائی میر بیزن بزنجو نے سنبھالی۔
بیزن بزنجو 1990 کے عام انتخابات میں قومی اسمبلی کی دو نشستوں پر کامیاب ہوئے بعد ازاں ایک نشست چھوڑ دی، جس پر حاصل بزنجو نے انتخاب لڑا اور پہلی دفعہ قومی اسمبلی کے رکن منتخب ہوئے۔ 1996 میں حاصل بزنجو پاکستان نیشنل پارٹی کے صدر منتخب ہوئے۔1997 کے عام انتخابات میں وہ دوسری بار قومی اسمبلی کے رکن منتخب ہوئے۔ 2002 میں ان کی پارٹی اور بلوچ نیشنل موومنٹ کا الحاق ہوا اور نیشنل پارٹی کی بنیاد رکھی گئی جس کے چیف آرگنائزر ڈاکٹر عبدالحئی بلوچ اور ڈپٹی آرگنائزر حاصل بزنجو منتخب ہوئے۔
اسی خاندان کی ایک اور شخصیت میر عبدالقدوس بزنجو آجکل بلوچستان کے وزیر اعلیٰ ہیں، انہوں نے پہلی بار 2002 میں پرویز مشرف دور میں صوبائی حلقے پی بی 41سے کامیابی حاصل کی۔ 2013 کے عام انتخابات میں عبدالقدوس بزنجو نے مسلم لیگ( ق)کے ٹکٹ پر انتخاب لڑا اور پاکستان کی انتخابی تاریخ میں سب سے کم یعنی 544 ووٹ لے کر صوبائی اسمبلی کے رکن منتخب ہوئے۔ اس حلقے میں ڈالے گئے ووٹوں کا تناسب ایک اعشاریہ ایک 8 فی صد رہا۔ عبدالقدوس بزنجو 2013 سے 2015 تک صوبائی اسمبلی کے ڈپٹی اسپیکر رہے جو بعد میں مستعفی ہو گئے۔

جواب لکھیں

آپ کا ای میل شائع نہیں کیا جائے گا۔نشانذدہ خانہ ضروری ہے *

*

%d bloggers like this: