بنیادی صفحہ » الیکشن »

پاکستان کسان اتحاد

Try WordPress Hosting Free for 30 Days | Cloudaccess.net

پاکستان کسان اتحاد

الیکشن کمیشن کے پاس رجسٹرڈ جماعتیں
پاکستان کسان اتحاد نامی جماعت صوبہ پنجاب کے سیاسی افق پر بلدیاتی انتخابات میں نمودار ہوئی تھی۔اب یہ الیکشن کمیشن آف پاکستان کے پاس ایک رجسٹرڈ جماعت ہے۔اس پارٹی نے بلدیاتی انتخابات میں پنجاب کے بیشتر اضلاع میں اپنے امیدوار انتخابی میدان میں اتارے تھے اور تقریباً ہر ضلعی کونسل میں نشستیں جیتیں تھی۔
چوہدری انور پاکستان کسان اتحاد نامی تنظیم کے سربراہ ہیں۔ پنجاب میں جاری بلدیاتی انتخابات میں دو بڑی سیاسی جماعتوں میں مقابلہ تھا۔ تاہم ایسے میںیہ چھوٹی سی نومولد سیاسی جماعت بھی پیچھے نہ رہی۔ یہ جماعت کسانوں کی نمائندگی کی دعویدار ہے ۔جماعت کے چیئرمین کا اس حوالہ سے کہنا ہے کہ پہلے تو ہماری بات کرنے والا ہی کوئی نہیں ہوتا تھا۔ اب اگر چیئرمین اور کونسلر سطح کے دو چار یا پانچ سات بندے منتخب ایوان میں بیٹھے ہیں تو وہ ہماری بات تو کریں گے، تبدیلی تو آئے گی۔ پہلے تو ہمارا نمائندہ ہی نہیں تھا۔ کوئی ہماری بات ہی نہیں کرتا تھا۔
اس نئی پارٹی کے حوالہ سے پنجاب کے کسان ملک کی تقریباً تمام بڑی سیاسی جماعتوں کو اپنا مجرم سمجھتے ہیں۔ان کا کہنا ہے کہ گزشتہ کئی سالوں سے چھوٹا کسان کبھی کھاد اور کبھی کیڑے مار دوائیوں اور کبھی فصلوں کی قیمتوں کے بحران کا شکار رہا ہے لیکن بڑی سیاسی جماعتوں نے ووٹ لینے کے باوجود ان کے لیے کچھ نہیں کیا۔ ایسے میں ان کے پاس اپنے امیداوار براہ راست انتخاب میں لانے کے علاوہ کوئی چارہ نہیں تھا۔
پارٹی رہنماﺅں کا کہنا ہے کہ پاکستان کسان اتحاد بنانے کا مقصدعام اور چھوٹے کسان کو ریلیف لے کر دیناہے۔ملک میں پیداواری لاگت بڑھ گئی ہے۔ پوری دنیا کے ممالک نے کسانوں کو سبسڈی دے کر پیداواری لاگت کم کر دی، سستی کھادیں، پیسٹی سائیڈز کسانوں کو فراہم کر کے سستی خوراک پیدا کی لیکن بد قسمتی سے پاکستان میں زراعت پر توجہ نہیں دی جا رہی ہے۔
کسانوں کو اپنے مطالبات کے حق میں بار بار احتجاج کا راستہ اختیا ر کرنا پڑ رہا ہے جس کی بڑی وجہ یہ ہے کہ حکومتی ایوان میں بیٹھے پالیسی بنانے والوں کا زراعت سے دور دور تک کوئی تعلق نہیں ہے اور یہی وجہ سے آج کسان اپنے حقوق سے محروم ہیں۔
کھیت کے علاوہ مارکیٹ میں بھی کسانوں کو بہت سے مسائل کا سامنا رہتا ہے، جیسے جب کسان کی اجناس تیار ہو کر فروخت کے لیے غلہ منڈی میں آتی ہے تو مڈل مین ناپ تول کے ذریعے اسکی 10 من اجناس غائب کر دیتا ہے۔آج کے جدید دور میں بھی غلہ منڈیوں میں کمپیوٹر کانٹا کی بجائے ہاتھ سے ناپ تول کیا جا رہا ہے اور کسان سے چونگی کی مد میں 20 کلو سے 40 کلو تک اجناس کی کٹوتی کی جا رہی ہے ۔ ان تمام مسائل کے حل کیلئے ایک مایسے پلیٹ فارم کی ضرورت تھی کہ جہاں سے مشترکہ آواز ایوانوں تک پہنچائی جا سکے۔کسانوں کے مطالبات تک ہماری جدوجہد جاری رہے گی۔

اپنی رائے دیں

%d bloggers like this: