بنیادی صفحہ » الیکشن »

راجہ محمد ظفرالحق

راجہ محمد ظفرالحق

سینئر رہنما و سیاستدان
راجہ ظفرالحق پاکستان مسلم لیگ (ن) کے چیئرمین وموتمر عالم اسلامی کے سیکرٹری راجہ ظفرالحق کا تعلق راولپنڈی کی تحصیل کہوٹہ کے نواحی علاقہ مٹور سے ہے، وہ 1935میں مٹور میں پیدا ہوئے ،آپ کے والد کا نام راجہ فضل داد خان ہے۔
انہوں نے 1956میں گورنمنٹ کالج لاہور سے گریجویشن کی اور اس کے بعد پاکستان مسلم لیگ میں شمولیت کرلی اور پنجاب یونیورسٹی لاہور سے سیاسیات میں ماسٹر کرنے کے بعد 1958میں پنجاب لا کالج لاہور سے ایل ایل بی کا امتحان پاس کیا۔ انہوں نے 1958 سے 1981 تک وکالت کی اور 1987سے اب تک سپریم کورٹ کے وکیل ہیں۔
راجہ ظفر الحق نے 1963 سے1971 تک پاکستان مسلم لیگ ضلع راولپنڈی کی جنرل سیکرٹری کی ذمہ داریا ں نبھائی اور 1971 سے 1981 تک پاکستان مسلم لیگ ضلع راولپنڈی کے صدر رہے۔ 1973 میں وہ پاکستان مسلم لیگ کی سنٹرل ورکنگ کیمٹی کے ممبر بھی منتخب ہوئے۔
1977 میں راولپنڈی بار ایسوسی ایشن کے صدر منتخب ہوئے اور 1981 میں ہائی کورٹ بار کے نائب صدر منتخب ہوئے۔ ضیاء الحق کے دورحکومت میں 1981 سے 1985 تک وفاقی وزیر اطلاعات ونشریات اور وزرات مذہبی امور کا قلمدان ان کے سپرد رہا اور 1985 میں ایک سال کے لیے مصر میں پاکستان کے سفیر رہے۔
1986 میں وفاقی وزیر کی حیشیت سے وزیر اعظم پاکستان محمد خان جو نیجوکے سیاسی مشیر بنے۔ 1990 میں اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی کے پنتا لیسویں سیشن میں پاکستان کی نمائندگی کرنے کا بھی اعزاز حاصل کیا۔
1991 میں پہلی دفعہ چھ سال کے لیے پاکستان سینٹ کے ممبر منتخب ہوئے اور نواز شریف کے دور حکومت میں 1991 سے1994 تک سینٹ میں مذہبی امور اور قانون کی سٹیڈنگ کیمٹی کی بطور چیئرمین کی ذمہ داریاں سرانجام دیں۔
1992 سے 1997 تک انٹرنیشنل اسلامی یونیورسٹی اسلام آباد کے بورڈ آف ٹرسٹی کے ممبر بھی رہے۔ 1992 میں راجہ ظفر الحق پہلی بار موتمر عالم اسلام کے جنرل سیکرٹری منتخب ہوئے اور اور اب تک مسلسل پانچویں مرتبہ بھی منتخب ہونے کا اعزاز برقرار رکھا ہوا ہے۔
1996 میں پاکستان مسلم لیگ ن کے مرکزی نائب صدر بنے۔ نواز شریف کے دور حکومت 1997 سے 1999 تک سینٹ میں قائد ایوان کے ساتھ ساتھ وفاقی وزیر مذہبی امور کی ورزات کا عہدہ بھی آپ کے پاس رہا ۔
2000 میں وہ پاکستان مسلم لیگ ن کے چیئرمین منتخب ہوگئے۔ راجہ ظفرالحق گزشتہ پچاس سال سے پاکستان مسلم لیگ سے وابسطہ ہیں۔ اس دوران وہ متعدد اہم عہدوں پر فائز رہے۔ ان کی بے داغ سیاست کی مثال دی جاتی ہے۔
2009میں سینٹ کے ممبر منتخب ہوئے، اور چھ پارلیمانی پارٹیوں کے مشترکہ اتحاد کی طرف سے اپوزیشن لیڈر منتخب ہوئے۔ 2015میں2021تک کیلئے پھر سینٹ کے ممبر منتخب ہوئے ۔

جواب لکھیں

آپ کا ای میل شائع نہیں کیا جائے گا۔نشانذدہ خانہ ضروری ہے *

*

%d bloggers like this: