بنیادی صفحہ » الیکشن »

پاکستان جسٹس اینڈ ڈیمو کریٹک پارٹی

پاکستان جسٹس اینڈ ڈیمو کریٹک پارٹی

الیکشن کمیشن کے پاس رجسٹرڈ جماعتیں
 
پاکستان جسٹس اینڈ ڈیمو کریٹک پارٹی بھی الیکشن کمیشن آف پاکستان کے پاس رجسٹرڈ ہے، یہ جماعت 25دسمبر 2015کو پاکستان کے سابق چیف جسٹس ( ر ) افتخار محمد چوہدری نے بنائی۔ پارٹی کے صدر خود افتخار محمد چوہدری ہیں ،سینئر نائب صدرشیخ احسان الدین ایڈووکیٹ ہیں۔
یہ پارٹی اس لحاظ سے منفرد ہے کہ پاکستان کی تاریخ میں پہلی بار کسی سابق چیف جسٹس نے سیاسی پارٹی بنا کر سیاست میں حصہ لیا ہے۔ اپنی جماعت پاکستان جسٹس اینڈ ڈیموکریٹک پارٹی کے قیام کے وقت چیف جسٹس ( ر ) افتخار محمد چوہدری کا کہنا تھا کہ ان کی جماعت عدل و انصاف کے ساتھ ساتھ احتساب کو یقینی بنائے گی تاکہ ان کے بقول ملک کے عوام کے مسائل کو حقیقی طور پر حل کیا جا سکتے۔ انھوں نے کہا کہ عدل ایسا لے کر آئیں گے کہ لوگوں کو پتا چلے کہ انصاف کیسے کیا جاتا ہے۔ دوسرا ہمارا جو اصول ہوگا وہ ہوگا احتساب کہ جب ہم لوگ اقتدار میں آئیں گے تو بے رحمانہ احتساب کریں گے۔
واضع رہے کہ افتخار محمد چودھری دسمبر 2013 میں ملک کے اٹھارہویں چیف جسٹس کے عہدے سے سبکدوش ہوئے تھے۔2007 میں اس وقت کے فوجی صدر جنرل پرویز مشرف کی طرف سے معزول کیے جانے کے بعد انھوں نے نہ صرف اپنے خلاف حکومتی الزامات کو مسترد کیا بلکہ وکلا کے ساتھ مل کر عدلیہ کی آزادی کے نام سے ایک تحریک میں بھی بھرپور حصہ لیا۔ وہ 2009 میں اپنے عہدے پر بحال ہوئے تھے۔
افتخار محمد چودھری 12 دسمبر 1948کو پیدا ہوئے، وہ پاکستان کی تاریخ میں بلوچستان سے تعلق رکھنے والے پاکستان کے پہلے چیف جسٹستھے 9 مارچ 2007 کو صدر پاکستان جنرل پرویز مشرف نے بدعنوانی کے الزامات کے تحت انہیں ان کے عہدے سے معطل کر دیا۔ اس معطلی کے لیے "غیر فعال” کی اصطلاح استعمال کی گئی۔
معطلی کے خلاف افتخار چودھری نے عدالت اعظمٰی میں مقدمہ دائر کیا۔ 20 جولائی 2007 کو عدالت نے تارٰیخ ساز فیصلے میں افتخار محمد چوہدری کو عہدے پر بحال کر دیا اور صدارتی ریفرنس کو غیر قانونی قرار دیتے ہوئے کالعدم قرار دے دیا۔ اس کے نتیجہ میں افتخار چودھری اپنے عہدے پر دوبارہ فائز ہو گئے۔
3 نومبر 2007 کو صدر پرویز مشرف کی طرف سے ملک میں ہنگامی حالت کا نفاذ کر دیا گیا اور افتخار چودھری سمیت متعدد ججوں کو معطل کر دیا گیا۔ اس کے خلاف وکلا اور دیگر سیاسی جماعتوں نے جدوجہد کا آغاز کیا۔ بالآخر مارچ 2009 میں وزیر اعظم سید یوسف رضا گیلانی نے ان کی بجالی کا اعلان کیا، جس کے نتیجہ میں 21 مارچ 2009کو نصف شب افتخار چودھری نے تیسری مرتبہچیف جسٹس کا عہدہ سنبھالا۔
افتخار محمد چوہدری کو بطور چیف جسٹس ایسے معاملات پر از خود نوٹس لینے سے شہرت ملی جن کا تعلق عوامی مسائل یا انتظامیہ کی عدم توجہ یا غفلت سے ہوتا تھا۔
لیکن ساتھ ہی ساتھ انھیں اپنے بیٹے ارسلان افتخار پر لگنے والے بدعنوانی کے الزامات کے باعث شدید تنقید کا بھی سامنا رہا۔

جواب لکھیں

آپ کا ای میل شائع نہیں کیا جائے گا۔نشانذدہ خانہ ضروری ہے *

*

%d bloggers like this: