Try WordPress Hosting Free for 30 Days | Cloudaccess.net

بہرام خان خاندان

پاکستان کے حکمران خاندان
 
منصور مہدی
بہرام خان خاندان کے پہلے فرد جو باقاعدہ طور پر سیاست میں آئے وہ ان کے بیٹے خان عبدالغفار خان تھے، جو پختونوں کے سیاسی راہنما کے طور پر مشہور شخصیت ہیں، جنھوں نے برطانوی دور میں عدم تشدد کے فلسفے کا پرچار کیا۔ آپ کے مداحوں میں آپ کو باچا خان کے طور پر پکارا جاتا ہے۔
آپ پہلے اپنے خاندان کے افراد کے دباو¿ پر برطانوی فوج میں شامل ہوئے، لیکن ایک برطانوی افسر کے ناروا رویے اور نسل پرستی کی وجہ سے فوج کی نوکری چھوڑ دی۔ بعد میں انگلستان میں تعلیم حاصل کرنے کا ارادہ اپنی والدہ کے کہنے پر موخر کیا۔ برطانوی راج کے خلاف کئی بار جب تحاریک کو ناکامی کا سامنا کرنا پڑا تو خان عبدالغفار خان نے عمرانی تحریک چلانے اور پختون قبائل میں اصلاحات کو اپنا مقصد حیات بنا لیا۔
اس تحریک کے دوران انھیں اور ان کے ساتھیوں کو کئی بار تشدد کا نشانہ بنایا گیا اور پابند سلاسل کیا گیا۔ جنوبی ایشیاءکی آزادی کے بعد خان عبدالغفار خان کو امن کے نوبل انعام کے لیے بھی نامزد کیا گیاتھا۔
اس خاندان کے سیاست میں دوسرے فرد خان عبدالغفار خان کے بھائی خان عبدالجبار خان تھے، جنہوں نے پشاور کے مشن کالج میں تعلیم پائی۔ اعلی طبی تعلیم لنڈن میڈیکل سکول میں حاصل کی۔ اس کے بعد ہندوستانی فوج میں ملازم ہوئے۔ ملازمت سے سبگدوش ہو کر میڈیکل پریکٹس شروع کی۔ 1930 میں عملی سیاسیات میں حصہ لینا شروع کیا اور سات سال بعد صوبہ سرحد میں پہلی کانگرسی وزارت قائم کی۔ جب کانگرس نے وزارتوں سے الگ ہونے کا فیصلہ کیا تو مستعفی ہو گئے۔ بعد ازاں صوبہ سرحد کی دوسری کانگرسی وزارت بنائی۔
اس خاندان کے تیسرے فرد خان عبدالولی خان تھے، جو خان عبدالغفار خان کے بیٹے تھے۔ضلع چارسدہ میں اتمانزئی کے مقام پر پیدا ہوئے تھے۔ انہوں نے اپنی تمام زندگی سیاست میں بسر کر دی۔سیاست کا آغاز تقریباً ستر برس قبل خدائی خدمتگار تحریک میں شمولیت سے کیا تھا۔
اس کے علاوہ وہ نیپ اور اے این پی کے بھی صدر منتخب ہوئے۔ اپنی سیاسی زندگی کے دوران میں وہ کئی مرتبہ پابند سلاسل بھی ہوئے۔قید کے دوران میں ایک کتاب ’فیکٹس آر فیکٹس‘ بھی لکھی تھی۔ وہ ایک نڈر اور اصول پسند سیاستدان تھے۔ولی خان نے 1990 میں مولانا حسن جان کے ہاتھوں عام انتخابات میں شکست کے بعد عملی سیاست کو خیرآباد کہہ دیا۔
ان کے بعد ان کی بیگم نسیم ولی خان سیاست میں آئی اور ان کے بیٹے اسفند یار ولی خان سیاست میں ہیں جو عوامی نیشنل پارٹی کے سربراہ بھی ہیں، ان خاندان کے افراد متعدد مرتبہ ارکان اسمبلی اور مختلف عہدوں پر فائز رہے۔

اپنی رائے دیں

%d bloggers like this: