بلور خاندان

پاکستان کے حکمران خاندان
اس خاندان نے حکمرانی کیساتھ ملک کیلئے جانیں بھی قربان کیں
منصور مہدی
پاکستان کے حکمران خاندانوں میں بھٹو خاندان کے بعد بلور دوسرا ایسا خاندان ہے کہ جس نے اس ملک اور جمہوریت کیلئے اپنی جانیں بھی قربان کیں۔ اس خاندان کا سپوت بشیراحمد بلورکو پشاور سمیت سارے صوبے میں انتہائی قدر کی نگاہ سے دیکھا جاتا تھا، جو 22دسمبر 2012کو دہشت گردوں کی بھینٹ چڑھ گیا۔
بشیر احمد بلور یکم اگست 1943کو قیام پاکستان سے چار سال قبل پشاور میںپیدا ہوئے ، انھوں قانون میں گریجویٹ کیا اور پشاور ہائیکورٹ بار کے رکن بنے۔ 1970 میں اے این پی جو اس وقت این اے پی کے نام سے زیر قائم تھی اس میں شمولیت اختیار کی۔ دو مرتبہ اے این پی کے صوبائی صدر بھی رہے۔ 2008کے عام انتخابات میں وہ صوبائی حلقہ پی ایف تھری پشاور سے صوبائی اسمبلی کے رکن منتخب ہوئے اور بعد ازاں چوتھی مرتبہ اے این پی کے سینئر صوبائی وزیر کی حیثیت سے حلف لیا۔
ان کے بڑے بھائی غلام احمد بلور پاکستان کے ان سیاستدانوں میں شمار ہوتے ہیں کہ جن کے بارے میں اگر یہ کہا جائے کہ یہ پیدائشی سیاستدان ہیں تو کچھ غلط نہ ہو گا، غلام احمد بلور 5مرتبہ قومی اسمبلی کے ممبر منتخب ہوئے جبکہ 3مرتبہ وفاقی وزارت کے عہدہ پر براجمان رہ چکے ہیں، عوامی نیشنل پارٹی (اے این پی) کے ساتھ ان کی وابستگی پارٹی کے تمام سرگرم کارکنوں سے پرانی ہے۔
غلام احمد بلور 25دسمبر 1939کو پشاور میں پیدا ہوئے ، انھوں نے اپنی ابتدائی تعلیم خداد ماڈل سکول اور اسلامیہ سکول پشاور اور ایڈورڈ کالج سے حاصل کی۔
1965میں انھوں نے ایوب خان کے خلاف محترمہ فاطمہ جناح کی صدارتی انتخابی مہم چلا کر اپنی عملی سیاست کا آغاز کیا، 1970میں انھوں نے عوامی نیشنل پارٹی میں شمولیت اختیار کر لی، 2002میں ہونے والے انتخابات کے علاوہ غلام محمد بلور نے 1988سے اب تک ہونے والے تمام انتخابات میں حصہ لیا، ان کا انتخابی حلقہ پشاور میں ہے۔
1988میں انھیں آفتاب احمد شیرپاﺅ کے ہاتھوں شکست ہوئی، لیکن جب شیر پاﺅنے وزارت اعلیٰ کیلئے قومی اسمبلی کی سیٹ چھوڑی تو ضمنی انتخاب میں بلور کامیاب ہو گئے، 1990کے انتخابات میں انھوں نے محترمہ بینظیر بھٹو کو شکست دی، 1993کے انتخابات میں پیپلز پارٹی کے رہنما ظفر علی شاہ سے شکست کھا گئے،1997کے انتخابات میں بھی یہ جیت گئے، 2002کے انتخابات میں انھوں نے حصہ نہیں لیا، 2008کے انتخابات میں پھر این اے 1پشاور 1سے پیپلز پارٹی کے امیدوار کو شکست دیکر کامیاب ہو گئے، 2013کے انتخابات میں عمران خان سے شکست کھا گئے مگر جب عمران خان نے یہ سیٹ چھوڑی تو ضمنی انتخاب میں بلور پھر کامیاب ہو گئے۔
1990میں منتخب ہونے کے بعد1991سے 1993تک بلور کو وفاقی کابینہ میں شامل کرتے ہوئے وزارتِ ریلوے کا قلمدان سونپا گیا، لیکن انھیں اپنی وزارت کے دوران ریلوے کے بدترین مالی بحران اور بدعنوانی کے حوالے سے شدید تنقید کا سامنا رہا، انھیں ریلوے میں بدعنوانی کے اسکینڈل میں بھی ملوث کیا گیا، 2008میں کامیابی کے بعد وفاقی وزیر برائے لوکل گورنمنٹ اینڈ رورل ڈویلپمنٹ رہے اور پھر وفاقی وزیر ریلوے مقرر ہوئے۔
ان کے ایک اور بھائی الیاس احمد بلور ہیں، جو سیاستدان ہونے کیساتھ صنعت کار بھی ہیں۔ یہ تاجروں کی سیاست کے سرخیل بنے، یہ 9 جنوری 1940 کو پشاور میں پیدا ہوئے۔ ابتدائی تعلیم پشاور میں پائی۔ جامعہ کراچی سے گریجویشن کیا۔ عملی سیاست کا آغاز نیشنل عوامی پارٹی کی رکنیت سے کیا۔ آج بھی اپنے خاندان کے دوسرے افراد کی طرح صوبائی اور مرکزی جنرل باڈی کے رکن ہیں۔
سیاست سے زیادہ ان کی توجہ تجارت اور صنعت کے شعبوں پر مرکوز رہی ہے۔ چنانچہ کافی عرصے سے کامرس اور انڈسٹری کے مختلف چیمبروں کے اعلی منتخب عہدوں پر کام کرتے رہے۔ روالپنڈی چیمبر آف کامرس کے صدر۔ فیڈریشن آف پاکستان چیبمرز آف کامرس اینڈ انڈسٹری کی مجلس عاملہ کے رکن اور سرحد چیمبر آف کامرس اینڈ انڈسٹری پشاور کے صدر رہے ہیں۔ قومی اسمبلی کے رکن بھی رہے ہیں۔ مارچ 1994 میں چھ سال کے لیے سینٹ کے رکن منتخب ہوئے۔ جبکہ2012میں بھی سینٹر منتخب ہوئے۔
ان کے ایک اور بھائی عزیز احمد بلور ہیں، جنہوں نے سول سروس میں نام کمایا۔

جواب لکھیں

آپ کا ای میل شائع نہیں کیا جائے گا۔نشانذدہ خانہ ضروری ہے *

*

%d bloggers like this: