بنیادی صفحہ » الیکشن »

مخدوم شہاب الدین

Try WordPress Hosting Free for 30 Days | Cloudaccess.net

مخدوم شہاب الدین

سینئر رہنما و سیاستدان
مخدوم شہاب الدین کا تعلق جنوبی پنجاب کے ضلع رحیم یار خان کے ایک با اثر خاندان سے ہے۔ وہ پیپلز پارٹی کے مرکزی رہنماو¿ں میں سے ایک ہیں۔ پارٹی کی سینٹرل ایگزیکیوٹیو کمیٹی کے رکن ہونے کے علاوہ وہ پاکستان پیپلز پارٹی کے جنوبی پنجاب کے صدر بھی رہ چکے ہیں۔
مخدوم شہاب الدین کا تعلق سابق وزیراعظم یوسف رضا گیلانی کی طرح جنوبی پنجاب سے ہے۔ وہ یوسف رضا گیلانی کی کابینہ میں ٹیکسٹائل کے وزیر کے عہدے پر فائز تھے اور اس کے علاوہ انہیں فنانس اور صحت کے وفاقی وزیر بھی رہ چکے ہیں۔
انہوں نے 1990 میں اس وقت پارلیمانی نشست جیتی تھی جب پورے پنجاب میں پیپلز پارٹی بری طرح ہار گئی تھی۔ 1993 میں وہ دوبارہ قومی اسمبلی کے رکن منتخب ہوئے اور بینظیر بھٹو کی کابینہ میں انہیں سٹیٹ منسٹر فارفنانس بنا دیا گیا۔ 2002 میں سابق فوجی جنرل پرویز مشرف کے دوراقتدار میں مخدوم شہاب الدین کو ان کے رشتہ دار مخدوم خسرو بختیار نے شکست دی۔ خسرو لندن سکول آف اکنامکس کے تعلیم یافتہ تھے۔
2008 میں ایک مرتبہ پھر مخدوم شہاب الدین اپنے آبائی حلقہ سے الیکشن جیت گئے اور انہیں پلاننگ اینڈ ڈیویلپمنٹ کا وفاقی وزیر بنا دیا گیا۔ دسمبر 2009 میں انہیں وزیر صحت کا چارج بھی دے دیا گیا۔
دسمبر 2010 میں کابینہ میں ایک مرتبہ پھر تبدیلی کی گئی اور اس مرتبہ انہیں ڈیفنس پروڈکشن کا وفاقی وزیر بنایا گیا اور فروری 2011 میں ٹیکسٹائل کی وزارت بھی سونپ دی گئی۔
سابق وزیراعظم یوسف رضا گیلانی کی نا اہلیت کے بعد پاکستان پیپلز پارٹی کے شریک صدر و صدر پاکستان آصف علی زرداری کی طرف سے انہیں وزات عظمیٰ کا امیدواربنایا گیا۔
جون 2017سے ذرائع ابلاغ میں یہ خبریں گردش کرتی چلی آ رہی ہیں کہ مخدوم شہاب الدین جلد ہی پاکستان پیپلز پارٹی کو چھوڑ کر پاکستان تحریک انصاف میں شمولیت اختیار کر لیں گے، اگرچہ ایسا اب تک نہیں ہو سکا مگر ذرائع ابلاغ کے مطابق پاکستان پیپلز پارٹی سے تقریباً 40سالہ رفاقت رکھنے والے ذوالفقار علی بھٹو کے قریبی ساتھی سابق وفاقی وزیر مخدوم شہاب الدین نے اپنے ساتھیوں سمیت پاکستان تحریک انصاف میں شمولیت کا فیصلہ کر لیاہے۔
اخبارات کے مطابق مخدوم شہاب الدین کو جب کچھ عرصہ قبل پاکستان پیپلز پارٹی جنوبی پنجاب کی صدارت سے ہٹا کر پیپلز پارٹی میں کچھ عرصہ قبل ہی شامل ہونے والے مخدوم سید احمد محمود کو پاکستان پیپلز پارٹی جنوبی پنجاب کا صدر بنایا گیا تو مخدوم شہاب الدین کی پیپلز پارٹی سے دوریاں شروع ہو گئیں جس کا اظہار انہوں نے چیئر مین ضلع کونسل کے انتخابات میں بھی کرتے ہوئے پاکستان پیپلز پارٹی کے امیدوار برائے ضلع کونسل مخدوم سید علی محمود جو مخدوم سید احمد محمود کے صاحبزادے ہیں کے خلاف اپنے گروپ کے ووٹ کاسٹ کرائے تھے۔
اب جبکہ پاکستان پیپلز پارٹی نے آئندہ عام انتخابات میں ضلع بھر میں پارٹی ٹکٹیں دینے کا اختیار مخدوم سید احمد محمود کو دینے کا فیصلہ کیا ہے جس سے دلبرداشتہ ہو کر مخدوم شہاب الدین نے اپنے بھتیجے سابق ایم پی اے مخدوم ارتضیٰ محمود اور اپنے ساتھیوں سمیت پی ٹی آئی میں شمولیت کا فیصلہ کیا ہے جسے ضلعی سیاست میں ایک ڈرامائی موڑ قرار دیا جا رہا ہے۔

اپنی رائے دیں

%d bloggers like this: