بنیادی صفحہ » الیکشن »

انور سیف اللہ

Try WordPress Hosting Free for 30 Days | Cloudaccess.net

انور سیف اللہ

سینئر رہنما و سیاستدان
انور سیف اللہ 7 جون 1946 کو پشاور صوبہ خیبر پختونخوا میں ایک نامور سیاسی خانوادے میں پیدا ہوئے۔ بنیادی طور پر ان کا تعلق لکی مروت غزنی خیل سے ہے۔ بیگم کلثوم سیف اللہ کے فرزند اور سابق صدر مملکت غلام اسحاق خان کے داماد ہیں۔
انھوں نے پشاور یونیورسٹی سے ایم سیاسیات کی ڈگری حاصل کی اور اعلی تعلیم کے حصول کے لیے انگلستان چلے گئے۔ وہاں جامعہ آکسفورڈ سے فلسفہ اور سیاسیات میں بی اے آنرز کی ڈگری حاصل کی اور بعد ازاں امریکہ جاکر جنوبی کیلیفورنیا کی یونیورسٹی سے پبلک ایڈمنسٹریشن میں ایم اے کیا۔ تکمیل تعلیم کے بعد 1970 میں پاکستان کی سول سروس میں شامل ہوئے اور 1980 تک مختلف اضلاع میں مختلف انتظامی عہدوں پر کام کرتے رہے۔ 1980 تا 1984 کینیڈا میں پاکستان کے قونصل جنرل رہے۔
انہوں نے اپنی سیاسی زندگی کا آغاز مسلم لیگ کے پلیٹ فارم سے کیا۔ 1988 کے عام انتخابات میں بنوں کے حلقے سے مسلم لیگ کے ٹکٹ پر قومی اسمبلی کے رکن منتخب ہوئے۔ دسمبر 1990 میں سینٹ کے ضمنی انتخابات میں وہ صوبہ سرحد سے بلا مقابلہ سینٹ کے رکن منتخب ہوئے۔ یہ نشست ان کے بھائی سلیم سیف اللہ کے صوبائی اسمبلی کا رکن بننے کی وجہ سے خالی ہوئی تھی۔ مارچ 1991 میں وہ ایک مرتبہ پھر چھ سال کے لیے سینٹ کے رکن منتخب ہوئے۔
نواز شریف حکومت میں شہری امور اور ماحولیات کے وفاقی وزیر بنائے گئے۔28 مارچ 1993 کو انہوں نے وزیر اعظم نواز شریف کو مسلم لیگ کا صدر نامزد کرنے کے فیصلے پر احتجاج کرتے ہوئے اپنا استعفیٰ صدر مملکت کو پیش کر دیا۔ یہیں سے وفاقی اور صوبائی وزراءکے استعفوں کا ایک ایسا سلسلہ شروع ہوا جو بالاخر نواز شریف کی حکومت کے خاتمے پر منتج ہوا۔
نگران وزیر اعظم میر بلخ شیر مزاری کی کابینہ میں ایک مرتبہ پھر وفاقی وزیر بنے۔ جنوری 1994 میں ایک مرتبہ پھر بینظیر بھٹو کی وفاقی کابینہ میں بطور وزیر پیٹرولیم مقرر ہوئے لیکن 6 نومبر 1996 کو بینظیر حکومت کے خاتمے کے ساتھی ہی ان کی وزارت ختم ہوئی۔
فروری 2008 میں ہونے والے الیکشن میں لکی مروت کی صوبائی اسمبلی کی نشست سے صوبائی اسمبلی کے ارکان بنے۔ ان کے خاندان کو پاکستان کی سیاست میں کافی اہمیت حاصل ہے۔ اس خاندان کو کنک میکر بھی کہا جاتا ہے۔ جو ہر حکومت کے ساتھ ہوتی ہے۔
آجکل قومی احتساب بیورو خیبرپختونخوا نے سیف اللہ برادران اور خاندان کے دیگر افراد کے خلاف تحقیقات کاآغا زکیا ہوا ہے،۔ذرائع ابلاغ کے مطابق سابق وفاقی وزراءسلیم سیف اللہ اور انور سیف اللہ نیب کے تحقیقاتی ٹیم کے سامنے پیش ہوئے۔نیب کی تحقیقاتی ٹیم نے سیف اللہ برادران سے انکے آف شور کمپنیوں سے متعلق ابتدائی معلومات حاصل کی ، تحقیقاتی ٹیم نے سیف اللہ برادران کو اثاثہ جات سے متعلق پروفارما بھی حوالے کیا۔
نیب ذرائع کے مطابق سیف اللہ برادران مقررہ وقت کے اندر اثاثہ جات کی تفصیلات پر مشتمل پروفارما نیب میں جمع کرائینگے۔ نیب خیبر پختونخوا سیف اللہ خاندان کے سات افراد کے خلاف 34 آف شور کمپنیوں میں تحقیقاتی کررہی ہے۔ سلیم سیف اللہ ، انورسیف اللہ کے علاوہ سینیٹر عثمان سیف اللہ اور ہمایون سیف اللہ سے تحقیقات جاری ہے، دیگر افراد میں اقبال سیف اللہ، جاوید سیف اللہ اور جہانگیر سیف اللہ شامل ہیں۔

اپنی رائے دیں

%d bloggers like this: