بنیادی صفحہ » ادب » برطانیہ میں ای بکس کی فروخت میں 17 فیصد کمی
Try WordPress Hosting Free for 30 Days | Cloudaccess.net

برطانیہ میں ای بکس کی فروخت میں 17 فیصد کمی

انٹرنیٹ کی آمد کے بعد کاغذ پر شائع ہونے والی کتب اور رسائل پر مصیبت آن پڑی۔انٹرنیٹ پر پڑھنے کو اتنا زیادہ مواد مل جاتا کہ کتابوں اور رسالوں کی فروخت متاثر ہونے لگی۔اسی طرح جیسے ای میل کی آمد نے کاغذ پر لکھے خطوط اور ڈاک کے سلسلوں کو کم کر دیا تھا،اس رجحان کو دیکھتے ہوئے کہا جانے لگا کہ جلد شائع شدہ کتب ناپید ہو جائیں گی،کاغذ پر چھپنے والی کتابوں کی جگہ ای بکس نے لے لی جنہیں انٹرنیٹ پر فروخت کیا جاتا تھا،تاہم اب لگتا ہے کہ کتب بین ای بکس سے تھک سے گئے ہیں،نئے اعدوشمار کچھ ایسا ہی ظاہر کر رہے ہیں۔
2016ء میں برطانیہ میں ای بکس کی فروخت میں 17 فیصد کمی ہوئی،اسی دوران میں کاغذ پر چھپنے والی کتابوں کی فروخت میں سات فیصد اضافہ ہوا اور بچوں کی کتابوں میں یہ بڑھوتری 16 فیصد رہی،امریکا میں بھی یہ رجحان دیکھا جا رہا ہے،2016ء کے پہلے نو ماہ میں وہاں ای بکس کی فروخت میں 18.7 فیصد کمی ہوئی،پیپر بیک یا بغیر جلد کتب کی فروخت میں اضافہ 7.5 اور مجلد کتابوں میں 4.1 فیصد ریکارڈ کیا گیا،بچے عام طور پر ای بکس زیادہ پسند نہیں کرتے،ان کی خواہش ہوتی ہے کہ وہ کتاب کو ہاتھوں میں پکڑ سکیں اور اس سے کھیل سکیں،اسی لیے ای بکس بچوں میں مقبول نہیں رہیں،اسی طرح پکوان بنانے کی ترکیبوں کی کتب بھی ای فارمیٹ میں پسند نہیں کی جاتیں،آج کل رنگین کتابوں کا رجحان زیادہ ہے اور یہ سکرین سے زیادہ ہاتھوں میں بھلی اور دلکش لگتی ہیں،اس نئے رجحان کی وجہ سے آلات بنانے والی کمپنیوں کو مشکل درپیش ہے،اسی بکس کو پڑھنے کے لیے استعمال ہونے والے ای ریڈرز کی فروخت میں نمایاں کمی واقع ہوئی ہے،حیرت انگیز طور پر 2011ء سے 2016ء کے درمیان ان کی فروخت میں40 فیصد کمی واقع ہوئی،2011ء تک ان کا استعمال بڑھتا رہا لیکن اس کے بعد حالات بدل گئے۔
پیو ریسرچ سینٹر کے مطابق گزشتہ برس 65 فیصد امریکیوں نے کہا کہ وہ کاغذ پر شائع شدہ کتب پڑھتے ہیں،اس کے مقابلے میں 28 فیصد نے کہا کہ وہ ای بکس کا مطالعہ کرتے ہیں،ایک چوتھائی امریکی آبادی کے مطابق وہ کسی قسم کی کتاب نہیں پڑھتی،اگر اس کا تقابل پاکستان سے کیا جائے تو کتب بین آبادی آٹے میں نمک کے برابر ہوگی۔

جواب لکھیں

آپ کا ای میل شائع نہیں کیا جائے گا۔نشانذدہ خانہ ضروری ہے *

*