بنیادی صفحہ » الیکشن »

سردار ایاز صادق

Try WordPress Hosting Free for 30 Days | Cloudaccess.net

سردار ایاز صادق

سینئر رہنما و سیاستدان

سردار ایاز صادق 9 نومبر 2015 میں 268 ووٹ لے کر پاکستان قومی اسمبلی کے دوبارہ اسپیکر منتخب ہوئے ہیں۔ انہوں نے نئی پارلیمانی تاریخ رقم کی ہے اور ایک ہی مدت ک دوران اسمبلی کے دو بار اسپیکر منتخب ہوئے ہیں۔
سردار ایاز صادق 17 اکتوبر 1954 کو لاہور میں ایک معروف کاروباری خاندان میں پیدا ہوئے۔ ان کے والد شیخ محمد صادق نے نہ صرف ایک کامیاب کاروباری شخصیت تھے بلکہ ایک عوام دوست شخصیت بھی تھے، سردار ایاز صادق کے دادا شیخ سردار محمد اپنے وقت کے اصلاح پسند تھے ،لاہور میں شیخ سردار گرلز ہائی سکول کے نام سے مسلمان بچیوں کے پہلے سکول کے قیام کا سہرا ان ہی کے سر ہے۔
شیخ سردار محمد ساٹھ کے دہائی کے اوائل میں شہر کے ڈپٹی میئر بھی منتخب ہوئے تھے۔ 16 اکتوبر 1994 میں ان کے خاندان نے ان کی یاد میں ”سردار ٹرسٹ آئی ہسپتال ‘’کے نام سے آنکھوں کا ایک رفاہی ہسپتال تعمیر کیا۔
ایاز صادق ایچی سن کالج لاہور سے تعلیم حاصل کی، سینئر کیمبرج کے بعد کامرس میں بیچلرز مکمل کرنے کے لئے ہیلے کالج آف کامرس میں چلے گئے۔ ان کو کالج کی کرکٹ اور ہاکی ٹیم کے ممبر ہونے کے ساتھ ساتھ لاہور کے جونیئر ٹیبل ٹینس چیمپئن ہونے کی وجہ سے ایک پرجوش کھلاڑی کے طور پر یاد کیا جاتا ہے۔
اپنی تعلیم مکمل کرنے کے بعد سردار ایاز صادق نے خاندانی کاروبار میں شمولیت اختیار کی۔ اس کے ساتھ ساتھ انہوں نے سماجی بہبود کی سرگرمیوں میں بھی گہری دلچسپی لینی شروع کر دی۔انہوں نے 1997 میں باقاعدہ طور پر عملی سیاست میں قدم رکھا اور یکم فروری 2001 میں مسلم لیگ نواز میں شمولیت اختیار کی۔
پارلیمنٹ میں ان کی اولین شمولیت 2002 میں ہوئی ،جب وہ بیک وقت قومی اور صوبائی اسمبلی کے لاہور سے رکن منتخب ہوئے۔انہوں نے قومی اسمبلی کے رکن کے طور پر حلف اٹھانے کا فیصلہ کیا اور فنانس ، ریلوے اور دفاعی پیداوار کی سٹینڈنگ کمیٹیوں کے ممبر کے طور پر خدمات سر انجام دیں۔
2008 میں وہ دوسری مدت کے لئے قومی اسمبلی میں کامیابی سے واپس آئے اور ریلوے کی سٹینڈنگ کمیٹی کے چیئرمین منتخب ہوئے۔ انہوں نے مکمل طور پر با اختیار پبلک اکاونٹس کمیٹی اور پارلیمانی کمیٹی برائے کشمیر کے رکن کے طور پر بھی خدمات سر انجام دیں۔ 2013 کے انتخابات میں شاندار کامیابی حاصل کر کے مسلسل تیسری دفعہ پارلیمنٹ کے رکن منتخب ہوئے۔ پارٹی اور پارلیمنٹ کے لئے ان کی خدمات کو مدنظر رکھتے ہوئے ان کو اسپیکر کے عہدے کے لئے نامزد کیا گیا۔ وہ اس آئینی عہدے کے لئے دو تہائی اکثریت کے ساتھ منتخب ہوئے۔
سپیکر کے طور پر انہوں نے ایوان اور سیکریٹیریٹ کی قانون سازی اور انتظامی سرگرمیوں میں اصلاحات کے لئے کئی منصوبوں کا آغاز کیا ہے۔ ان میں پارلیمانی معاملات کی خودکاری ، کمیٹی نظام کو موثر بنانا ، مقابلے کے امتحانات کے ذریعے سخت میرٹ کی بنیاد پر بھرتی کےپالیسی نظام کو متعارف کرانا اور قومی اسمبلی میں ہیومن ریسورس ڈیپارٹمنٹ کا قیام شامل ہے۔
اسپیکر کے طور پر سردار ایاز صادق کا ایک اہم کام اقوام متحدہ کے پوسٹ میلینئم ترقیاتی اہداف ( ایم ڈی جیز ) کے ایجنڈے کے تناظر میں پائیدار ترقی کے اہداف) ایس ڈی جیز ( پر پارلیمانی ٹاسک فورس کا قیام ہے اس سے پاکستان کی پارلیمنٹ دنیا کی پہلی پارلیمان بن گئی ہے جس نے ترقیاتی ایجنڈے کو انتہائی ترجیح دی ہے جس کو مختلف فورموں پر “رول ماڈل” کے طور پر بیان کیا جاتا ہے۔
سپیکر کے آئینی عہدے کے حامل ہونے کے طور پر انہوں نے صدر اور چیئرمین سینٹ کی عدم موجودگی میں کئی بار پاکستان کے قائم مقام صدر کے طور پر ذمہ داریاں سر انجام دی ہیں۔

اپنی رائے دیں

%d bloggers like this: