بنیادی صفحہ » الیکشن »

شازیہ مری

Try WordPress Hosting Free for 30 Days | Cloudaccess.net

شازیہ مری

پاکستان کی خواتین سیاستدان

یہ سیاست کے ساتھ سماجی کاموں میں بڑے ذوق و شوق سے حصہ لیتی ہیں

منصور مہدی

شازیہ مری انتخابات 2002 اور 2008 میں پی ایس 133سے صوبائی اسمبلی سندھ کے پاکستان پیپلز پارٹی کی خواتین کی مخصوص سیٹوں پر ممبر منتخب ہوئیں۔ یہ صوبائی وزیر اطلاعات اور وزیر سیاحت کے عہدے پر بھی فائز رہ چکی ہیں۔

شازیہ مری کا تعلق بھی سندھ کے ایک سیاسی گھرانے سے ہے۔ ان کے والد عطا محمد مری 1990 اور 1993 کے انتخابات میں سندھ اسمبلی کے ممبر منتخب ہوئے، جبکہ 2013کے انتخابات میں وہ حلقہ این اے 235سے پاکستان پیپلز پارٹی کے ٹکٹ پر ممبر قومی اسمبلی منتخب ہو گئیں۔ان کے دادا حاجی علی محمد مری 1944-45 میں سندھ لیجسلیٹو اسمبلی کے ممبر اور ڈپٹی سپیکر رہ چکے ہیں۔ ان کی والدہ پروین مری بھی سندھ اسمبلی کی ممبر رہ چکی ہیں جبکہ فوزیہ وہاب کی وفات کے بعد ان کی سیٹ سے قومی اسمبلی کی ممبر بن گئیںتھیں۔ ابھی حال ہی میں شازیہ کی والدہ نے پاکستان پیپلز پارٹی چھوڑ کر پاکستان مسلم لیگ ق میں شمولیت اختیار کر لی ہے۔

شازیہ 8اکتوبر1972کو کراچی میںپیدا ہوئیں۔ انھوں نے ابتدائی تعلیم کراچی میں حاصل کی۔ اپنے دور وزارت میں انھوں نے سندھ اور خصوصاً اپنے حلقے میں بڑے کام کیے ہیں۔ شازیہ مری سیاستدان ہونے کے علاوہ سماجی کارکن بھی ہیں اور سماجی کاموں اورایسی سرگرمیوں میں بڑے ذوق و شوق سے حصہ لیتی ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ یہ اپنے حلقے کی عوام میں بڑی مقبولیت رکھتی ہیں۔
تاہم الیکشن کے بعد ان کے مد مقابل امیدوار عطاء محمد چانیو نے شازیہ مری کی بی اے کی ڈگری سندھ ہائیکورٹ میں چیلنج کر دی۔جس میں عطاء محمد چانیو نے موقف اختیار کیا ہے کہ این اے 235 سانگھڑ سے کامیاب ہونے والی پیپلز پارٹی کی رکن قومی اسمبلی شازیہ مری کی بی اے کی ڈگری جعلی ہے۔

درخواست کے مطابق شازیہ مری نے کراچی کے علاقے آگرہ تاج میں اپنی ہم نام شازیہ جنت مری کی ڈگری حاصل کر رکھی ہے۔ دونوں کا نام اور ولدیت ایک ہے لیکن تاریخ پیدائش مختلف ہے۔ درخواست میں موقف اختیار کیا ہے کہ شازیہ مری کو نااہل قرار دیا جائے۔

یہ مقدمہ چلتا رہا جس میں شازیہ مری نے درخواست گزار کے موقف کو غلط قرار دیا، درخواست گزار کے وکیل نے جعلی ڈگری کے حوالہ سے شازیہ مری کے خلاف ثبوت اور تحریری دستاویزات سندھ ہائیکورٹ میں جمع کرا ئیں۔درخواست گزار کے وکیل نے موقف اختیار کیا کہ شازیہ مری نے 2002 کے عام انتخابات میں کراچی یونیورسٹی سے شازیہ نامی لڑکی کی ڈگری پر الیکشن لڑا۔ شازیہ مری نے جعل سازی سے ڈگری نکلوائی، ڈگری سے مماثلت رکھنے والا جعلی شناختی کارڈ بھی بنوایا۔وکیل نے استدعا کی کہ شازیہ مری کی ڈگری کو جعلی اور انہیں اسمبلی کی رکنیت سے نااہل قرار دیا جائے۔ تاہم عدالت نے کیس کا فیصلہ محفوظ کرلیا۔

اپنی رائے دیں

%d bloggers like this: