بنیادی صفحہ » الیکشن »

پاکستان کی انتخابی تاریخ ( حصہ اول)

Try WordPress Hosting Free for 30 Days | Cloudaccess.net

پاکستان کی انتخابی تاریخ ( حصہ اول)

منصور مہدی

رواں برس2018میں ہونے والاانتخاب پاکستان کی تاریخ میں سولہواں انتخاب ہوگا، آزادی پاکستان کے بعد پہلاصوبائی سطح پر ہونے والا الیکشن 10مارچ1951کو پنجاب میں ہوا، جس میں197سیٹوں کیلئے 7سیاسی پارٹیوں نے حصہ لیا،اور939امیدوار میدان میں آئے، کل ووٹرز کی تعداد 10لاکھ کے قریب تھی، لاہور میں ٹرن آﺅٹ 30فیصد رہا جبکہ دیہی علاقوں میں شرح اس سے بھی بہت کم رہی، 8دسمبر1951کو پاکستان کی تاریخ کا دوسرا الیکشن شمال مغربی سرحدی صوبہ ( خیبر پختونخوا) میں ہوا، جبکہ تیسرا مئی1953میں سندھ میں ہوا۔

پاکستانی پارلیمانی تاریخ کا چوتھا اور پہلا عام انتخاب اپریل1954میں ہوا، تاہم یہ انتخابات بالواسطہ تھے، جس میں پاکستان مسلم لیگ کو کامیابی ملی، اسی طرح پانچواں انتخاب بالواسطہ طریقہ سے 1962میں ہوا، اس میں بھی پاکستان مسلم لیگ کو کامیابی ملی۔


1970ءکے انتخابات
یہ الیکشن پاکستانی تاریخ کا چھٹا انتخاب تھا، تاہم یہ بالغ حق رائے دہی کی بنیاد پر پہلا انتخاب تھا، یہ ملکی تاریخ میں ہونے والے سب سے زیادہ منصفانہ اور شفاف انتخاباتتھے، قومی اسمبلی کی نشستوں کے لیے پولنگ 7 دسمبر، 1970ء جبکہ صوبائی اسمبلی کے لیے پولنگ 17 دسمبر کو ہوئی، یہ انتخابات یحیٰ خان کے لیگل فریم ورک آرڈر(ایل ایف او)برائے تیس مارچ 1970ءکے تحت منعقد کیے گئے،جس میں رائے دہی کے حوالے سے اصول بھی طے کیے گئے، مشرقی پاکستان سے شیخ مجیب الرحمٰن کی عوامی لیگ اور مغربی پاکستان سے ذولفقار علی بھٹو کی پاکستان پیپلز پارٹی انتخابی مہم میں صف اول پر تھیں،عوامی لیگ نے قومی اسمبلی کی تین سو تیرہ نشستوں میں سے 167 نشستیں حاصل کر کے میدان مار لیا تو مغربی پاکستان میں سب حیران رہ گئے کہ اب کیا ہوگا؟ اس لیے کہ ذوالفقار علی بھٹو کی پاکستان پیپلز پارٹی جو عوامی لیگ کے مدمقابل تھی، قومی اسمبلی کی 80 نشستیں ہی حاصل کر پائی تھی، اس وقت کی مقتدر طاقتوں نے ایک نیا کھیل شروع کردیا، عوامی لیگ کو حق رکھنے کے باوجودحکومت نہیں بنانے دی گئی، ظاہر ہے کہ جس کا نتیجہ پاکستان کے مشرقی حصے میں احتجاج کی صورت میں ہی نکلنا تھا، یہ احتجاج بڑھتے بڑھتے خانہ جنگی میں تبدیل ہوگیا جو بالآخر پاکستان کو دو لخت کرنے کا سبب بنی اور بنگلہ دیش ایک آزاد ریاست بن کر دسمبر 1970ء کو دنیا کے نقشے پر ابھرا۔

مغربی پاکستان میں صدارت بھٹو کے سپرد کر دی گئی، 1972ءمیں انہوں نے مختصر مدتی قومی اسمبلی کو ایک دستور ساز اسمبلی میں تبدیل کرنے کا حکم جاری کیا، جو کہ مغربی پاکستان میں قومی اسمبلی کی نشستوں پر منتخب ہونے والے 138 ارکان، خواتین کی نشستوں سے 6، اور مشرقی پاکستان کی نشستوں پر منتخب ہونے والے 2 ارکان، جن کا تعلق عوامی لیگ سے نہیں تھا، پر مشتمل تھی، بالآخر وہ اسمبلی جس نے ذوالفقار علی بھٹو کو وزیر اعظم منتخب کیا اور 1973ء کے آئین کا مسودہ تیار کیا، کی مدت 1977ءتک بڑھادی گئی۔

1977ءکے انتخابات
ذوالفقار علی بھٹو نے جنوری 1977ء میں قومی اور صوبائی اسمبلی کی تحلیل کے ساتھ 7 مارچ کو انتخابات کا اعلان کر دیا، اس وقت دائیں بازو کی نو سیاسی جماعتوں کا اتحاد پاکستان نیشنل الائنس بھٹو کے مدّمقابل تھا، یہ سیاسی ومذہبی جماعتیں 1977ء کے انتخابات میں پیپلز پارٹی کو بھاری اکثریت حاصل کرنے سے روکنے کے لیے اس کے خلاف متحد ہوگئی تھیں، انہوں نے بھٹو اور ان کے ساتھیوں پر بدعنوانی، بد انتظامی اور ملک کو بحران میں مبتلا کرنے کا الزام عائد کیا، پی این اے نے مذہب کو اپنا بنیادی نعرہ بنایا تھا اور ساتھ ہی بھٹو کے خلاف مہم بھی جاری رکھی، ان کی تنقید کا ہدف ذوالفقار علی بھٹو کی ذاتی خامیاں تھیں۔


جب 1977ء انتخابات کے نتائج سامنے آئے تو پیپلز پارٹی ایک بڑی اکثریت کے ساتھ جیت گئی، اس نے قومی اسمبلی کی 200 نشستوں میں سے 100 پر کامیابی حاصل کی۔ پی این اے جس نے صوبائی انتخابات کا بائیکاٹ کر دیا تھا، اس نے قومی اسمبلی میں صرف 36 نشستیں حاصل کیں۔ الائنس نے انتخابات کے نتائج کو مسترد کر دیا اور ایک بڑی سول نافرمانی کی ملک گیر مہم شروع کردی۔ انہوں نے پیپلز پارٹی پر انتخابات میں دھاندلی کا الزام لگایا ۔
ابتداء میں تو بھٹو نے قومی اتحاد کے مطالبات مسترد کر دیے، لیکن بعد میں ان کے ساتھ مذاکرات پر آمادگی ظاہر کی، دونوں جانب سے گفت و شنید کے سلسلے کے بعد انتخابات دوبارہ کرانے پر اتفاق کی کچھ ا±مید پیدا ہوئی تو اس وقت کے چیف آف آرمی اسٹاف ضیاءالحق نے جولائی 1977ء کو ایک فوجی بغاوت کے ذریعے اقتدار پر قبضہ کر لیا۔ بھٹو کو گرفتار کر لیا گیا اور بعد ازاں قتل کے ایک مقدمے میں پھانسی دے دی گئی۔

1985ءکے غیر جماعتی انتخابات
جنرل ضیاء کے دور حکومت میں تمام سیاسی جماعتوں پر پابندی عائد کر دی گئی اور فروری 1985ء میں فوج کی نگرانی میں انتخابات کروانے کا اعلان کیا گیا، مختلف سیاسی جماعتوں کے کارکنان کو گرفتار کیا گیا اور قید میں ڈال دیا گیا جو جمہوریت کی بحالی کے لیے تحریک چلا رہے تھے، ان سیاسی جماعتوں نے جنرل ضیاءکی آمریت کے خلاف اتحاد تشکیل دے دیا تھا۔

انتخابات سے پہلے بہت سے قوانین اور قواعد میں تبدیلیاں کی گئیں، جداگانہ انتخابات کا طریقہ کار متعارف کرایا گیا، ووٹ رجسٹریشن کی درخواست میں ایمان کی شہادت کو لازمی قرار دیا گیا، عوام کی نظر میں ان انتخابات کا مقصد ایک نمائندہ حکومت کے قیام کے برعکس، ضیاء الحق کے اقتدار کو قانونی حیثیت دینا تھا اور یہ خیال ا±س وقت درست ثابت ہوگیا جب انتخابات کے بعد اختیارات پارلیمنٹ سے صدر یعنی ضیاء الحق کو منتقل ہو گئے، اختیارات کی منتقلی آئین میں آٹھویں ترمیم کے ذریعے ہوئی جس کو اس سال کی منتخب قومی اسمبلی نے منظور کیا تھا۔

1988ءکے انتخابات
29مئی، 1988ء کو ضیاءالحق نے آئین کے آرٹیکل 58 ٹو بی کے تحت اسمبلیوں کو تحلیل کر دیا، بعد میں انہوں نے نومبر 1988ءکو ملک گیر غیر جماعتی انتخابات کرانے کا اعلان کیا، لیکن مطلق العنان فوجی حکمران کو اپنے اس اعلان پر عمل ہوتے ہوئے دیکھنے کا موقع نہ مل سکا، ان کا ہیلی کاپٹر حادثے کا شکار ہوگیا اور ان کے ساتھ امریکی سفیر آرنلڈ رافیل بھی جان سے ہاتھ دھو بیٹھے۔

ضیائالحق کے فیصلے مطابق 1988ءکے انتخابات غیر جماعتی ہونا تھے، لیکن ذوالفقار علی بھٹو کی بیٹی بے نظیر بھٹو کی طرف سے دائر کی گئی پٹیشن کے جواب میں سپریم کورٹ نے ضیاءکے فیصلے کو مسترد کر دیا، چنانچہ سیاسی جماعتوں کیلئے میدان صاف ہو گیا،ملک میں قومی اور صوبائی اسمبلیوں کے انتخابات 16 اور 19 نومبر 1988ءکو یکے بعد دیگرے منعقد ہوئے، پیپلز پارٹی کے سیاسی میدان میں واپسی کے ساتھ ہی ایک انتخابی اتحاد اسلامی جمہوری اتحاد کے نام سے تشکیل دے دیا گیا، یہ جماعت پیپلز پارٹی کے اثرورسوخ کا مقابلہ کرنے کے لیے مختلف جماعتوں نے مل کر بنائی تھی، اس کے نمایاں ارکان جماعت اسلامی اور مسلم لیگ تھے۔

پیپلز پارٹی نے قومی اسمبلی کی 204 نشستوں میں سے 93 نشستیں حاصل کیں اور دوسری چھوٹی جماعتوں کے ساتھ اتحاد کر کے ایک مخلوط حکومت قائم کی، 4 دسمبر 1988ءکو بے نظیر ملک کی پہلی خاتون وزیر اعظم کا حلف اٹھایا۔


1990ء کے انتخابات
بے نظیر کو اس وقت کے صدر غلام اسحاق خان نے بد عنوانی اور لاقانونیت کے الزامات عائد کرتے ہوئے انہیں بر طرف کر دیا، 24 اکتوبر 1990ء کے انتخابات کے اعلان کے ساتھ ہی بے نظیر نے ملک گیر جلسے منعقد کرنے شروع کر دیے، اسی دوران نواز شریف نے بھی انتخابی مہم کے تحت عوامی جلسے شروع کر دیے، اس بار پیپلز پارٹی نے پاکستان جمہوری اتحاد کے جھنڈے تلے انتخابات لڑنے کا فیصلہ کیا،جس میں اصغر خان کی تحریک استقلال ، تحریک نفاذ فقہ جعفریہ اور پاکستان مسلم لیگ کا ملک قاسم گروپ شامل تھے، حالانکہ بےنظیر کی جماعت کے حامی کافی زیادہ تھے لیکن انتخابات میں دیکھا گیا کہ آئی جے آئی جیسی قدامت پسند جماعت نے قومی اسمبلی میں 105 نشستیں جیتیں جب کہ پی ڈی اے نے صرف 44 نشستیں حاصل کیں،چنا نچہ نواز شریف نے اسلام آباد میں حکومت قائم کی۔

کافی عرصے کے بعد 1996ء میں اصغر خان نے آئی ایس آئی کے خلاف مقدمہ دائر کیا، جس میں انہوں نے الزام لگایا کہ 1990ء کے انتخابات میں پی ڈی اے کو ہرانے کے لئے آئی ایس آئی نے سیاست دانوں کو بھاری رقوم بطور رشوت دی تھی، حال ہی میں سپریم کورٹ نے اس کیس کا فیصلہ سنایا ہے، جس کے مطابق 1990ء کے انتخابات غیر منصفانہ اور بدعنوانی پر مبنی تھے۔ اس کے علاوہ یہ بھی تسلیم کیا گیا کہ بعض سیاسی رہنماو¿ں کو رشوت دی گئی تھی تا کہ عوام اپنے نمائندوں کا آزادانہ انتخاب نہ کر سکیں۔
Continue …….

اپنی رائے دیں

%d bloggers like this: