بنیادی صفحہ » الیکشن »

پاکستان کی انتخابی تاریخ ( حصہ دوئم)

Try WordPress Hosting Free for 30 Days | Cloudaccess.net

پاکستان کی انتخابی تاریخ ( حصہ دوئم)

منصور مہدی

1993ء کے انتخابات
کچھ ہی عرصے میں صدر غلام اسحاق خان اور نواز شریف کے درمیان اختلافات پیدا ہونے لگے جس کے نتیجے میں نواز شریف کا دور حکومت 1993ءکو ختم ہوگیا اور ساتھ ہی صدر نے بھی استعفیٰ دے دیا، اس وقت کے سینیٹ کے چیئرمین وسیم سجاد نے بحیثیت صدر اور معین قریشی نے قائم مقام وزیر اعظم کی حیثیت سے حلف اٹھایا۔

ان انتخابات میں نواز شریف اور ان کے حامیوں نے پاکستان مسلم لیگ نواز گروپ کی حیثیت سے الیکشن میں حصہ لیا، کچھ لوگ جنہوں نے نواز گروپ سے علیحدگی اختیار کر لی تھی، انہوں نے پاکستان مسلم لیگ، جونیجو گروپ کا نام اختیار کیا۔
یہ انتخابات 6 اکتوبر 1993ءکو منعقد ہوئے، جس میں پیپلز پارٹی نے قومی اسمبلی کی کافی نشستیں حاصل کیں، مگر وہ اتنی نہ تھیں کہ پیپلز پارٹی اپنی حکومت بنا سکے۔ چنانچہ پیپلز پارٹی نے قومی اسمبلی کی دوسری چھوٹی جماعتوں کے ساتھ اتحاد بنا کر اپنی حکومت قائم کرلی اور بے نظیر دوسری بار ملک کی وزیر اعظم بنیں۔ مسلم لیگ نون نے بےنظیر حکومت میں حزب مخالف کا کردار سنبھال لیا۔
فاروق احمد خان لغاری ملک کے صدر منتخب ہوئے، جنہوں نے بے نظیر کی حکومت کو پیپلز پارٹی کی صدر اور ان کے خاوند آصف علی زرداری پر بد عنوانی کے الزامات لگا کر بر طرف کردیا۔


1997ء کے انتخابات
بےنظیر حکومت کی برطرفی کے بعد صدر نے 6 فروری 1997ءکو انتخابات کے انعقاد کا اعلان کر دیا، اس کے ساتھ ہی مسلم لیگ نون اور پیپلز پارٹی کے مابین انتخابی جنگ شروع ہو گئی،ان انتخابات میں پاکستان مسلم لیگ نون نے قومی اسمبلی میں 135 نشستیں حاصل کیں جبکہ پیپلز پارٹی بمشکل 18 نشستیں حاصل کر پائی، متحدہ قومی موومنٹ نے 12 اور عوامی نیشنل پارٹی نے 9 نشستیں حاصل کیں۔
مسلم لیگ نون نے اپنی حکومت قائم کی اور پیپلزپارٹی کی شکست کے کچھ ماہ بعد بینظیر نے ملک چھوڑ دیا اور خود ساختہ جلاوطنی اختیار کر لی۔

2002ء کے انتخابات
نواز شریف کی 1997ء کی فتح مختصرثابت ہوئی، جنرل پرویز مشرف کی قیادت میں فوجی انقلاب ان کی حکومت کا خاتمہ کردیا، یہ فوجی انقلاب نواز شریف اور ان کے منتخب کردہ آرمی چیف کے درمیان مہینوں سے پروان چڑھنے والے اختلافات کا نتیجہ تھا۔

اس انقلاب کے ڈیڑھ سال بعد جنرل مشرف نے 10 اکتوبر ، 2002ءکو انتخابات کے انعقاد کا اعلان کیا،ان انتخابات میںتقریباً پچاس کے قریب جماعتوں نے حصہ لیا، قومی اسمبلی کے انتخابات میں مسلم لیگ ق نے 118 نشستیں اور پیپلز پارٹی نے 81 نشستیں حاصل کیں، متحدہ مجلس عمل نے 60 ، مسلم لیگ نون 19، متحدہ قومی موومنٹ نے 17 اور عمران خان کی تحریک انصاف نے ایک نشست حاصل کی، مسلم لیگ ق نے متحدہ مجلس عمل کو ساتھ ملا کر حکومت کر لی، جس کے حقیقی قائد جنرل مشرف خود تھے، انہوں نے نئی حکومت کا آغاز نسبتاً اچھی شہرت کے ساتھ کیا مگر ان چند واقعات خاص طور سے اکبر بگٹی کا قتل، لال مسجد آپریشن، بینظیر کا قتل اور سپریم کورٹ کے جج صاحبان کی برطرفی نے عوام کی نظر میں شہرت کو نقصان پہنچایا۔
فوجی حکمران نے نومبر 2007ء کو ملک میں ایمرجنسی نافذ کرنے اور قومی میڈیا پی پابندی عائد کرنے کا حکم جاری کر دیا، حالات ایسے ہو گئے کہ انھیں چیف آف آرمی اسٹاف کے عہدے سے مستعفی ہونا پڑا، ساتھ ہی 8 جنوری 2008ء کو انتخابات کا اعلان بھی کر دیا گیا۔


2008ء کے انتخابات
انتخابات جو کہ بینظیر کے قتل کے ایک ماہ بعد ہوئے ، وہ پیپلزپارٹی کے حق میں ثابت ہوئے، پاکستان پیپلز پارٹی نےنے 122 نشستیں حاصل کیں، نواز گروپ نے 92 نشستیں، 25 نشستیں متحدہ قومی موومنٹ نے اور عوامی نیشنل پارٹی نے 13 نشستیں حاصل کیں۔

پیپلز پارٹی نے مرکز میں دوسری جماعتوں خاص طور سے مسلم لیگ نون کے اشتراک سے حکومت بنائی،ن لیگ کے ساتھ اتحاد زیادہ عرصہ قائم نہ رہ سکا، لیکن متحدہ قومی موومنٹ اور عوامی نیشنل پارٹی کئی سال تک پیپلز پارٹی کے ساتھ رہی جبکہ مسلم لیگ قاف بہت بعد میں حکومت کے ساتھ اتحاد میں شامل ہوئی، اس کے علاوہ یہ کہ مشرف کے استعفے کے بعد زرداری کو ملک کا صدر منتخب کر لیا گیا۔ آصف علی زرداری نے اپنے دورِ صدارت میں کچھ ایسے فیصلے کئے جو سراہے جانے کے قابل ہیں، مثلاً 8 اپریل 2010ءکو اٹھارویں ترمیم منظور کر کے تمام اختیارات وزیراعظم کو منتقل کر دئیے۔

7 نومبر 2009ءکو گلگت بلتستان کو خود مختاری دی،اس طرح علاقے کی شناخت بحال کی گئی، بے نظیر بھٹو انکم سپورٹ پروگرام شروع کیا۔ 13 اگست 2009ءکو دیر میں بے نظیر بھٹو شہید یونیورسٹی کا اعلان کیا، ٹھٹھہ میں نئے شہر ذوالفقار آباد کے قیام کی منظوری دی، 17 مارچ 2010ءکو صدر نے انسانی اعضا و ٹشوز کی پیوند کاری کا ایکٹ منظور کیااور اس موقع پر انہوں نے اپنے تمام اعضا عطیہ کرنے کا اعلان کیا، اقتدار سنبھالنے کے فوراً بعد مفاہمتی پالیسی اختیار کی اور پانچ سال اس مفاہمتی پالیسی پر عمل کیا۔ آئین کے آرٹیکل کے تحت مسلح افواج کا کمان اینڈ کنٹرول وفاقی حکومت کو دے دیا گیا، صدر صرف سپریم کمانڈر مسلح افواج رہے۔ شمال مغربی صوبے کا نام خیبر پختونخوا رکھنے کی منظوری دی۔

پیپلز پارٹی کے دور حکومت میں دو وزیر اعظم آئے، یوسف رضا گیلانی جن کو عدالت کی توہین پر نا اہل قرار دے دیا گیا تھا، دوسرے راجہ پرویز اشرف جن کو گیلانی کی برطرفی کے بعد وزیر اعظم منتخب کیا گیا۔
ملکی تاریخ میں یہ پہلی منتخب غیر فوجی حکومت تھی جس نے اپنی معیاد پوری کی اور اس دوران کسی قسم کی فوجی مداخلت نہیں ہوئی۔


2013ءکے انتخابات
2013 میں نئی اسمبلی کے انتخاب کے لیے11 مئی کو انتخابات کا اعلان کیا ،پاکستان پیپلز پارٹی کی تیسری منتخب حکومت پاکستان کی وہ پہلی حکومت تھی جس نے اپنی کل جمہوری مدت پوری کی، اور 16 مارچ 2013ءکو اپنی مدت مکمل کی، چنانچہ آئین کے آرٹیکل 52 کے تحت 17 مارچ کو قومی اسمبلی کی تحلیل ہو گئی اور 19 مارچ کو صوبائی اسمبلیوں کی بھی تحلیل ہو گئی۔

انتخابات سے قبل جب اسمبلیوں کی تحلیل کی جا رہی تھی تو ایک نگران حکومت کا قیام بھی کیا گیا، حکومت اور حزب اختلاف میں بیٹھی پارٹیوں سے مشاورت کے بعد، 24 مارچ 2013ء کو الیکشن کمیشن نے سابقہ جج اور سیاستدان میر ہزار خان کھوسو کو عبوری وزیر اعظم مقرر کر دیا۔

ان انتخابات میں جن بڑی جماعتیں حصہ لیا ان میںپاکستان پیپلز پارٹی،پاکستان مسلم لیگ ن،پاکستان تحریک انصاف، پاکستان مسلم لیگ ق، متحدہ قومی موومنٹ اور عوامی نیشنل پارٹی اور دیگر شامل تھیں، ان انتخابات میں ملک میں جاری بدامنی اوردہشت گردانہ حملوں کی وجہ سے انتخابی مہم چلانا کافی دشوار ہو گیا تھا، خاص طور سے پاکستان پیپلز پارٹی، عوامی نیشنل پارٹی اور ایم کیو ایم کے امیدواروں پرقاتلانہ حملے جاری رہے۔
ان انتخابات میں تقریباً 8.6 کروڑ ووٹروں نے قومی و صوبائی اسمبلیوں کے کم و بیش 1,000 اراکین کا انتخاب کیا۔

الیکشن کمیشن نے انتخابات کے آخری مراحل میں ہی انتخابی عمل میں ایک گھنٹہ بڑھا دیا، اس پر کافی جماعتوں نے احتجاج بھی درج کروایا کیونکہ اس وقت تک انتخابات کے غیرحتمی نتائج میڈیا کے ذریعہ نشر ہونا شروع ہو گئے تھے۔

مجموعی طور پر انتخابی عمل پرامن رہا، ماسوائے چند مقامات کے جہاں تشدد کی کاروائیاں ہوئیں یا پھر دھاندلی کی شکایات اور ثبوت و شواہد ملے، الیکشن کمیشن کو سب سے زیادہ شکایات حلقہ این اے250 سے ملیں اور ساتھ میں 40 سے زائد اور مقامات پر پولنگ ملتوی کر کے 18 مئی 2013ء کو رکھ دی گئی۔

کراچی اور حیدرآباد میں دھاندلی کی شکایات اور شواہد کے مدنظر پاکستان تحریک انصاف کے کارکن اور حامی سڑکوں پر نکل آئے، کراچی کے علاقے دو تلوار پر یہ لوگ 12 مئی 2013ءکو دن بھر اور رات گزرے احتجاج کرتے رہے، انہوں نے عہد کر لیا کہ احتجاج تب تک ختم نہ کریں گے جب تک الیکشن کمیشن انکے مطالبے پر توجہ نہ دھرے۔

پنجاب میں بھی پاکستان تحریک انصاف نے 25 نششتوں پر دوبادہ گنتی کا مطالبہ کیا، بلوچستان میں بہت کم ووٹ پڑے اور اسطرح جمہوری عمل متاثر ہوا۔

تاہم ان انتخابات میں پاکستان مسلم لیگ ن نے قومی اسمبلی میں سب سے زیادہکل جنرل سیٹوں272میں سے130 نشستیں لیں، جبکہ آزاد حیثیت سے کامیاب ہونے والے17امیدواروں نے بھی مسلم لیگ ن کو جوائن کر لیا، اقلیتی سیٹیوں پر6اور خواتین کی مخصوص نشستوں میں سے35سیٹیں لیکر قومی اسمبلی میں مسلم لیگ ن کی تعداد188ہو گئی، دوسرے نمبر پر پاکستان پیپلز پارٹی رہی جن کے کل ممبران کی تعداد46، پاکستان تحریک انصاف کے کل ممبران کی تعداد 33اور ایم کیو ایم کی تعداد24رہی۔

صوبائی اسمبلیوں کو اگر دیکھا جائے تو خیبرپختونخواہ میں مسلم لیگ ن کی کل تعداد15، پیپلز پارٹی4، پاکستان تحریک انصاف نے48سیٹیں حاصل کیں، پنجاب میں مسلم لیگ ن ٹوٹل371میں سے313سیٹیں حاصل کیں، پاکستان پیپلز پارٹی نے8اورپاکستان تحریک انصاف نے30نشستیں حاصل کیں، سندھ میں مسلم لیگ ن کو صرف6نشستیں مل سکیں جبکہ پاکستان پیپلز پارٹی نے91، پاکستان تحریک انصاف نے4اور ایم کیو ایم نے51سیٹیں حاصل کیں، بلوچستان میں مسلم لیگ ن19پیپلز پارٹی زیرہ، تحریک انصاف زیرواور پاکستان مسلم لیگ6 نشستیں لیں۔

ایک تبصرہ

اپنی رائے دیں

%d bloggers like this: