بنیادی صفحہ » الیکشن »

رو ڈ ٹو جنرل الیکشن2018

رو ڈ ٹو جنرل الیکشن2018


الیکشن کمیشن آف پاکستان کی دستاویز
منصور مہدی
الیکشن کمیشن آف پاکستان نے عام انتخابات 2018 میں آخری وقت میں کسی بھی مسئلے کا سامنے کرنے سے بچنے کے لیے ابھی سے بھرپور انداز میں کام کا آغاز کر دیا ہے، الیکشن کمیشن آف پاکستان کی ویب سائٹ پر جاری کردہ ’روڈ ٹو الیکشن 2018‘ کے نام سے دستاویز کے مطابق تمام صوبائی چیف سیکریٹریز، سیکریٹری اسٹیبلشمنٹ ڈویڑن اور وفاقی اداروں کے سربراہوں کو ان افراد کی فہرست فراہم کرنے کا کہا گیا تھا، جو جنوری 2018سے الیکشن کے انعقاد تک دستیاب ہوں گے۔
اس حکم میں کہا گیا کہ جن مطلوبہ افراد کوالیکشن کے حوالہ سے تربیت دی جائے گی ان کی عمر 55 برس سے کم ہو، کمپیوٹر کی تعلیم رکھتے ہوں، سمارٹ فونز کا استعمال جاننے کے ساتھ ساتھ اچھی شہرت کے بھیحامل ہوں،دستاویزات کے مطابق وفاقی اور صوبائی حکومت کی جانب سے 50 ہزار افسران کے نام موصول ہوچکے ہیں،اس حوالہ سے تیارکردہ ڈیٹا اس جانب اشارہ کرتا ہے کہ تفصیلات اور افسران کو منصوبے کے تحت استعمال کیا جاسکتا ہے۔
اس حوالے سے تربیتی مواد اور لاجسٹک انتظامات کے لیے اسٹیک ہولڈرز سے مشاورت جاری ہے، فیڈرل الیکشن اکیڈمی پوسٹل اسٹاف کالج اسلام آباد میں الیکشن کمیشن کے ریگولر عملے اور افسران کی تربیت کا آغاز کردیا ہے۔
الیکشن کمیشن کی جانب سے گریڈ 8 سے گریڈ 21 کے تمام 1649 افسران اور ملازمین کو 2018 کے عام انتخابات سے قبل تربیت دینے کا منصوبہ بنایا گیا ہے، اس حوالے سے ایک ٹریننگ ونگ بھی قائم کیا گیا ہے جو فعال طور پر اندرون و بیرون ملک کے تربیتی اداروں اور تحقیق سے منسلک اداروں سے رابطے میں ہے، جس سے امید ہے کہ عملے کی صلاحیت بڑھانے میں مدد ملے گی۔
انتخابی فہرستوں پر نظرثانی
15جنوری سے الیکشن کمیشن نے 2018 کےلئے انتخابی فہرستوں پر نظرثانی کا آغازکر دیا ہے، الیکشن کمیشن آف پاکستان کے مطابق 2018 کے انتخابات کے لئے پہلے مرحلے میں تصدیقی عمل مکمل کیا جائے گا، جس کے دوران رائے دہندگان انتخابی فہرستوں میں اندراج، منتقلی یا درستگی کروا سکیں گے۔
الیکشن کمیشن آف پاکستان کا کہنا ہے کہ تصدیقی عمل کے بعد ملک بھر میں 73 لاکھ 60 ہزار نئے ووٹرز شامل کیے جائیں گے۔ پنجاب میں 41 لاکھ 13 ہزار 595 نئے ووٹرز، سندھ میں 14 لاکھ 54 ہزار 398، خیبر پختونخوا میں 10 لاکھ 15 ہزار 327، بلوچستان میں 4 لاکھ 52 ہزار 143، فاٹا میں 2 لاکھ 88 ہزار اور اسلام آباد میں 35 ہزار نئے ووٹرز رجسٹرکیے جائیں گے جب کہ نئے رجسٹر ہونے والے ووٹرز میں 40 لاکھ 72ہزار مرد اور 32 لاکھ87 ہزارخواتین ووٹرز شامل ہوں گی۔
الیکشن کمیشن کے مطابق نئے ووٹرزکی رجسٹریشن گھرگھر تصدیقی مہم کے بعد ہوگی۔ پنجاب میں41 لاکھ13ہزار 595 نئے ووٹرز رجسٹر کیے جائیں گے۔ اسی طرح سندھ میں 14 لاکھ 54 ہزار398، خیبرپختونخوا میں 10 لاکھ 15 ہزار 327، بلوچستان میں4 لاکھ 52 ہزار 143، فاٹا میں 2 لاکھ 88 ہزار اور وفاقی دارالحکومت اسلام آباد میں35ہزار نئے ووٹر جسٹرکیے جائیں گے۔
الیکشن کمیشن کا کہنا تھا کہ نئے رجسٹرڈ ہونے والے ووٹرز میں40 لاکھ 72ہزار مرد اور 32 لاکھ87 ہزارخواتین ووٹرز شامل ہوںگی، وفات پا جانے والے 9 لاکھ 23 ہزار ووٹرزکو انتخابی فہرستوں سے خارج کیا جائے گا۔
الیکشن کمیشن کے مطابق دوسرے مرحلے میں تمام انتخابی فہرستوں کو ہر مقرر کردہ سینٹرز میں آویزاں کیا جائے گا جب کہ نظر ثانی کے بعد انتخابی فہرستوں میں درج رائے دہندگان کی تعداد 10کروڑ 40 لاکھ سے تجاوز کر جائے گی۔
الیکشن کمیشن نے محکمہ شماریات سے حالیہ مردم شماری کے ڈیٹا سمیت تمام ریکارڈ چاروں صوبوں کے 137 اضلاع اور حلقہ بندیوں کے لئے بنائی گئی پانچ کمیٹیوں کو فراہم کر دیا ہے جبکہ ضلعی اور ریجنل دفاتر حلقہ بندیوں کی کام کی تکمیل تک کھلے رہیں گے۔
رپورٹ کے مطابق حلقہ بندیوں کا پہلا مرحلہ تین مارچ کومکمل کیا جائے گا جبکہ حلقہ بندیوں کا ابتدائی ڈیٹا ضلعی دفاتر میں تین اپریل تک آویزاں کر دیا جائے گا، جس پر عوام ایک ماہ تک اپنے اعتراضات دائر کر سکیں گے، جنہیں الیکشن کمیشن تین مئی تک سنے گا او رتمام اعتراضاات کو نمٹانے کے بعد حلقہ بندیوں کا نوٹیفکیشن جاری کر کے سابقہ حلقہ بندیوں کو کالعدم قرا ردیدیا جائے گا۔
حلقہ بندیوں کے عمل کا آغاز
الیکشن کمیشن آف پاکستان نے عام انتخابات کی حلقہ بندیوں کے عمل کا بھی باقاعدہ آغاز کر دیا ہے، صوبوں اور محکمہ مردم شماری سے متعلقہ ڈیٹا کا حصول شروع کر دیا،حکام کے مطابق الیکشن کمیشن نے صوبوں اور محکمہ مردم شماری سے اضلاع اور تحصیلوں کے نقشوں، شماریاتی چا ر جز ، سرکلز اور بلاکس کے نوٹیفیکیشن کا حصول شروع کر دیا ہے، میٹروپولیٹن کارپوریشنز، ٹاون کمیٹیوں، میونسپل کمیٹیوں کے شماریاتی چارجز، سرکلز ا و ر بلاکس کی تفصیلات بھی طلب کی گئی ہیں، تمام اضلاع اور تحصیلوں کے سرکلز اور بلاکس کی سطح کا ڈیٹا سافٹ کاپی میں بھی مانگا گیا ہے، الیکشن کمیشن نے محکمہ مردم شماری کو شماریات بلاکس میں رونما ہونیوالی تبدیلیوں کا ڈیٹا 5جنوری تک فراہم کرنیکی ڈیڈ لائن دی تھی۔ 10جنوری تک حلقہ بندیوں سے متعلق دستاویزات کے حصول کا کام مکمل کر لیا گیا،اب 15جنوری سے 28فروری تک حلقہ بندیوں کی ٹرافٹ پر پو ز ل تیار کر کے الیکشن کمیشن کو دی جائے گی، 5 مارچ سے 3 اپریل تک ٹرافٹ پرپوزل پر اعتراضات وصول کئے جائیں گے جبکہ 4اپریل سے 3مئی تک اعتراضات کو نمٹایا جائے گا۔
ٹیکنالوجی کا استعمال
الیکشن کمیشن آف پاکستان کا کہنا ہے کہ ٹیکنالوجی کے استعمال سے غیر متعلقہ حکام کی جانب سے پولنگ اسٹیشنز کو تبدیل کرنے جیسے صوابدیدی اختیارات کو ختم کرنے میں مدد ملے گی، جب کہ منظور کیے گئے پولنگ اسٹیشن کی معلومات کو الیکشن کمیشن کے عوامی معلومات کے نمبر 8300 سے بھی منسلک کیا جائے گا، الیکشن کمیشن کے اپنے کمپیوٹرائزڈ الیکٹرول رولز سسٹم (سی ای آر ایس) کی تیاری کے بعد ووٹ کے اندراج اور ان میں اصلاحات شروع کر دی گئیں ہیں( جو اب تک مکمل ہو چکی ہو گی)، جب کہ اس سسٹم کا نظام سیکریٹریٹ، صوبوں اور ضلعی الیکشن کمیشن کے دفاتر میں نصب کیا جارہا ہے، نظام کو نصب کیے جانے کے بعد تمام دفاتر اس سے انٹرنیٹ سروس کے ذریعے منسلک ہوجائیں گے، جس کے بعد نظام میں موجود ایپلی کیشن کے ذریعے تمام ضلعی متعلقہ حکام نئے ووٹوں کے اندراج سمیت درج ووٹوں میں کسی بھی طرح کی تبدیلی کرکے ڈیٹا بینک میں منتقل کردیں گے۔
خصوصی مانیٹرنگ ونگ کا قیام
الیکشن کمیشن آف پاکستان میں الیکٹرول سرگرمیوں پر نظر رکھنے کے لیے خصوصی مانیٹرنگ ونگ قائم کیاگیا ہے، جو پولنگ سے پہلے، پولنگ کے دن اور پولنگ کے بعد کی سرگرمیوں کا جائزہ بھی لے گا، اس حوالے سے مانیٹرنگ ونگ سمیت فنانشل اور لاجسٹک کے لیے 141 نئے عہدوں کی جگہ بنانے اور ان پر تقرریوں کے لیے حکومت سے رابطہ کیا گیا ہے۔
الیکشن کمیشن آٓئندہ عام انتخابات کے دوران ملٹی الیکٹرول ٹیکنالوجیز استعمال کرنے کا ارادہ رکھتی ہے ،اس حوالے سے ضمنی انتخابات کے دوران موبائل ایپ کو نتائج کے مو¿ثر روابط کے لیے رزلٹس مینجمنٹ سسٹم (آر ایم ایس) کے تحت ٹیسٹ بھی کیا گیا، جب کہ اس مقصد کے لیے 200 گیگابائٹ (جی بی) کا ایک سرورآپریشنل بھی ہے۔
الیکشن کمیشن آف پاکستان کی دستاویز میں یہ بھیکہا گیا کہ کیبنٹ ڈویڑن نے 20 کروڑ بیلٹ پیپرز کی چھپائی کے لیے پرنٹنگ کارپوریشن آف پاکستان کی استعداد بڑھانے اور نئی مشینری خریدنے کے لیے 86 کروڑ 40 لاکھ روپے فنڈز کی سمری منظوری کے لیے وزیر اعطم کو بھیجی تھی۔
ریونیو باو¿نڈریز منجمد کرنے کا فیصلہ
انتخابات 2018کے حوالہ سے الیکشن کمشن آف پاکستان کا گذشتہ دنوں اجلاس ہوا تھا میں اہم اجلاس ہوا تھا جس میںچاروں صوبائی چیف سیکرٹریز، چیئرمین نادرا، سیکریٹری شماریات اور صوبائی الیکشن کمشنرزنے شرکت کی۔اجلاس کے بعد میڈیا سے بات کرتے ہوئے سیکرٹری الیکشن کمشن بابریعقوب فتح محمد نے بتایا کہ چیف الیکشن کمشنر کی سربراہی میںیہ اجلاس عام انتخابات2018 کی تیاریوں کی پہلی کڑی تھا، الیکشن کی تیاریوں کا کام شروع کردیا گیا ہے تاہم الیکشن کی تاریخ کا اعلان ابھی نہیں کرسکتے۔ الیکشن کمشن نے اس اجلاس کے بعد ملک بھر میں ریونیو باو¿نڈریز منجمد کرنے کا فیصلہ کیا ۔جس میں 2018 کے عام انتخابات تک اس میں تبدیلی نہیں کی جا سکے گی۔
تارکین وطن کے ووٹ
بیرون ملک ووٹنگ سے متعلق یہ دستاویزات اقوام متحدہ کے ذیلی ادارے یونائیٹڈ نیشنز ڈیولپمنٹ پروگرام (یو این ڈی پی) کی رپورٹ کا حوالہ دیتے ہیں، جس میں کہا گیا ہے کہ 2018 کے عام انتخابات میں پاکستان کے پاس بیرون ملک ووٹنگ کرانے کے لیے محدود آپشن ہیں۔اس حوالہ سے رپورٹ کثیر قانونی، مالی اور لاجسٹک معاملات کا تقاضہ کرتی ہے، رپورٹ یہ بھی لکھا ہے کہ بیرون ملک کے ووٹ خریدنا یا ووٹ کے لیے کسی کو مجبور کرنے کا عمل فرضی شخصیت جیسے عوامل اور دھاندلی کا سبب بن سکتاہے۔
رپورٹ کہتی ہے کہ سوئٹزرلینڈ نے اپنے ایک لاکھ 32 ہزار ووٹرز کے لیے سال 2000 سے اس وقت تک 229 سروے کرائے جب تک بیرون ملک ووٹنگ کے لیے انٹرنیٹ متعارف نہیں کرائی گئی اور ملک کی فیڈرل کونسل نے بھی انٹرنیٹ متعارف کرانے سے قبل سب سے پہلے سیکیورٹی کو بنیادی اہمیت قرار دیا۔دستاویزمیں کہا گیا ہے کہ نیشنل ڈیٹابیس اینڈ رجسٹریشن اتھارٹی(نادرا) اورالیکشن کمیشن کی جانب سے قانونی، آپریشنل اور سیکیورٹی معاملات کا جائزہ لینے کے بعد ان مسائل پرپارلیمنٹ میں فزیبلی رپورٹ پیش کی جائے گی۔

جواب لکھیں

آپ کا ای میل شائع نہیں کیا جائے گا۔نشانذدہ خانہ ضروری ہے *

*

%d bloggers like this: