بنیادی صفحہ » الیکشن »

نوجوانوں میں حق رائے دہی کے استعمال کی آگاہی ضروری ہے

Try WordPress Hosting Free for 30 Days | Cloudaccess.net

نوجوانوں میں حق رائے دہی کے استعمال کی آگاہی ضروری ہے


نوجوان ووٹر اپنے حق رائے دہی کا درست استعمال کر کے حقیقی عوامی نمائندہ حکومت میں لا سکتے ہیں
منصور مہدی
پاکستان کی قومی یوتھ پالیسی کی دستاویز کے آغاز میں کہا گیا ہے کہ نوجوان ہمارا اثاثہ ہے، اس میں کوئی شک نہیں کہ نوجوان کسی بھی ملک کی ترقی میں ریڈھ کی ہڈی کی حیثیت رکھتے ہیں، نوجوان طبقہ کا زیادہ پڑھا لکھا اور فنی تعلیم وتربیت کا حامل ہونا مسابقت کے اس دور میں ملک کو کہیں اونچا مقام مہیا کرسکتا ہے، اسی لئے تو دنیا بھر میں نوجوانوں کی صلاحیتوں سے بہتر استفادہ کی ہر ممکن کوشش کی جاتی ہے، دنیا کے تمام ممالک کی حکومتیں ایسی پالیسیوں تشکیل دیتی ہیں اور ایسے اقدامات کرتی ہیں کہ جن کی بدولت نوجوانوں طبقہ زیادہ سے زیادہ ملکی تعمیر میں شرکت کا باعث بنیں، کوئی بھی شعبہ صنعت وحرفت، زراعت و لائیوسٹاک ، صحت وتعلیم، روزگار، سائنس و ٹیکنالوجی ، ملکی دفاعی شعبہ یا سیاست کا میدان ہو ان سب میں نوجوانوں کی عملی شرکت کو یقینی بنانے پر خصوصی توجہ دی جاتی ہے۔
ہمارے پاکستان کے لئے نوجوانوں کی اہمیت اور بھیزیادہ ہے کیونکہ ہمارا ملک اس وقت دنیامیں نوجوانوں کی پانچویں بڑی تعدادکے حامل ملک ہے، ایک اندازے کے مطابق پاکستان کے آٹھ کروڑ سے زائد رائے دہندگان میں تقریباً چار کروڑ کے لگ بھگ ووٹرز ایسے ہیں جن کی عمریں اٹھارہ سے پینتیس سال کے درمیان ہیں، ایک کروڑ باسٹھ لاکھ ووٹرز کی عمریں اٹھارہ سے پچیس سال کے درمیان اور دو کروڑ اڑتیس لاکھ چھبیس سے پینتیس سال کی درمیانی عمر کے ہیں۔
پاکستان کی بڑی جماعتیں ان نوجوان ووٹروں کی حمایت حاصل کرنے کے لیے آج کل خصوصی سرگرمیاں جاری رکھے ہوئے ہیں، کہیں نوجوانوں کے میلے منعقد ہو رہے ہیں اور کوئی نوجوانوں میں لیپ ٹاپ تقسیم کیے جا رہے ہیں، کوئی یوتھ پالیسی کا اعلان کر رہا ہے اور کوئی اپنے منشور میں نوجوانوں کی بہتری کے لیے بڑے بڑے منصوبے لا رہا ہے، انہی نوجوان ووٹروں تک اپنا پیغام پہنچانے کے لیے تمام بڑی سیاسی جماعتوں نے اپنے اپنے میڈیا سیلز میں سوشل میڈیا کے شعبے بھی کھول دیے ہیں۔
پاکستان تحریک انصاف نے حال ہی میں نوجوانوں کوانتخابات2018 ءمیں کم از کم پچیس فی صد نشستیں دینے کا اعلان کیاہوا ہے اور کہا ہے کہ وہ قابل اور اہل نوجوان جو انتخابی اخراجات برداشت کرنے کی سکت نہیں رکھتے ہوں گے، ان کوپارٹی مالی معاونت بھی فراہم کرے گی، تحریک انصاف کے اس اقدام کا مقصد جمود کے حامی روایتی سیاست دانوں کے بجائے تبدیلی کے خواہشمند اہل اور قابل نوجوانوں کو سامنے لانا ہے، کیونکہ پارٹی کا کہنا ہے کہ یہی نوجوان طبقہ تبدیلی کا پیش خیمہ بنے گا۔
پاکستان کی موجودہ سیاست کو دیکھا جائے، تو ایسا صاف نظر آ رہا ہے کہ1970 کے بعد پہلی مرتبہ نوجوان پرجوش طریقے سے سیاسی سرگرمیوں میں حصہ لیتے دکھائی دے رہے ہیں، لیکن قابل نوجوانوں کے انتخابات میں حصہ نہ لینے کی بڑی وجہ ان کے پاس وسائل کا نہ ہونا ہے اور سیاسی جماعتیں بھی امیروں کو ہی ٹکٹ دیتی رہی ہیں، تاہم پاکستان تحریک انصاف کا نوجوانوں کو الیکشن لڑوانا اور انھیں انتخابی مہم کے لیے وسائل فراہم کرنا ایک خوش آئند بات ہے، اس طرح ملکی سیاست پر اچھے اثرات مرتب ہوں گے اور اگر نوجوان ووٹرز کسی پلیٹ فارم پر متحد ہو گئے تو وہ انتخابی نتائج میں سپرائز بھی دے سکتے ہیں، کیونکہ نوجوان ووٹر اپنے حق رائے دہی کا درست استعمال کر کے حقیقی عوامی نمائندہ حکومت میں لا سکتے ہیں۔
اگر عوامی مزاج کی بات کی جائے تو قیامِ پاکستان سے آج تک نہ تو ہمیں جمہوریت پسند آئی اور نہ ہی آمریت، کبھی ہم نے آمریت کو خوش آمدید کہا تو کبھی جمہوریت کیلئے سڑکوں پر نکل آئے، لیکن اب اس بات میں کوئی شک نہیں کہ ووٹ ہی وہ واحد راستہ ہے جس سے حکومت کی تشکیل ہونی چاہیے اور حکومت بنانے میں عام عوام سے زیادہ اہم کردار اور کوئی نہیں ادا نہیں کر سکتا، اگر انتخابات کے دن ووٹ کا درست استعمال کیا جائے تو عام آدمی اپنی مرضی کی ایسی حکومت بنا سکتا ہے جو اس کے مسائل حل کر سکے۔
تا ہم ابھی جمہوری نظام میں اس مقام تک نہیں پہنچ سکے کہ جس میں عام ووٹر اپنے ووٹ کو قوم کی امانت سمجھ سکے، اس مقام تک پہنچنے میں شاید ابھی کچھ عرصہ اور لگ جائے ، تاہم ابھی سے اس مقصد کو پانے کیلئے کوشش شروع کرنا ہو گی، عام آدی خصوصاً نوجوان طبقہ کو ووٹ کی اہمیت اور اس کے بہتر استعمال کے بارے میں زیادہ سے زیادہ آگاہی دینے ضرورت ہے، اگرچہ اس کام کی ذمہ داری آئینی طور پر تو الیکشن کمیشن آف پاکستان کی ہے لیکن سیاسی جماعتوں کو میدان عمل میں نکلنا ہوگا۔
لیکن اگر ہم گذشتہ دس برسوں کی سیاسی تاریخ کو دیکھیں تو ایسا نظر آتا ہے کہ اب نوجوان طبقہ سیاست اور جمہوری نظام میں دلچسپی لے رہا ہے اوراپنا ووٹ رجسٹرڈ کرواکر اسے استعمال کرنا چاہتا ہے،نوجوان طبقہ کی اس دلچسپی کو دیکھتے ہوئے کہا جا سکتا ہے کہ انتخابات2018میں ناصرف نوجوانوں ووٹرز ٹرن آو¿ٹ میں اضافہ ہو گا بلکہ زیادہ تر نوجوان ذات برادری اور گروہ بندی سے ہٹ کر نظریے اور منشور کے مطابق ووٹ دیں گے۔
 

اپنی رائے دیں

%d bloggers like this: