بنیادی صفحہ » تجزیہ »

پاکستان کو اس کی زبان میں سمجھانے کا وقت آگیا، بھارتی آرمی چیف کی دھمکی

Try WordPress Hosting Free for 30 Days | Cloudaccess.net

پاکستان کو اس کی زبان میں سمجھانے کا وقت آگیا، بھارتی آرمی چیف کی دھمکی

بھارتی آرمی چیف بیپین روات کا کہنا ہے کہ انڈیا کو پاکستان کے خلاف سخت کارروائی کرنے کی ضرورت ہے اور ان کی فوج اور دہشت گردوں کی کارروائیوں کا جواب دینا ہوگا۔

انڈیا ٹی وی نیوز کی رپورٹ کے مطابق بھارتی جنرل نے کہا کہ انڈیا کو پاکستان کو انہی کی زبان میں جواب دینا چاہیے۔

جنرل بیپین روات کا کہنا تھا کہ ‘ہمیں پاکستانی فوج اور دہشت گردوں کی جانب سے کیے جانے والے اقدامات کے جواب میں سخت کارروائی کرنی چاہیے، جی ہاں اب وقت آگیا ہے کہ پاکستان کو ان کی زبان میں سمجھایا جائے’۔

بھارتی آرمی چیف نے مزید کہا کہ ‘لیکن میں سمجھتا ہوں کہ دوسری جانب بھی ایسا ہی درد محسوس ہونا چاہیے’۔

انہوں نے بھارتی حکومت کی جانب سے وزرائے خارجہ کی سطح پر ملاقات کی منسوخ کرنے کی حمایت کرتے ہوئے کہا کہ ‘مذاکرات اور دہشت گردی ایک ساتھ جاری نہیں رہ سکتے’۔

بھارتی آرمی چیف کا کہنا تھا کہ ‘میں سمجھتا ہوں کہ ہماری حکومت کی پالیسی اس حوالے سے واضح ہے اور ہمیں اس بات میں کسی قسم کی ہچکچاہٹ نہیں کہ دہشت گردی اور مذاکرات ایک ساتھ جاری نہیں رہ سکتے’۔

انہوں نے ایک مرتبہ پھر پاکستان پر دہشت گردوں کی حمایت کا الزام لگاتے ہوئے کہا کہ ‘پاکستان کو دہشت گردوں کے ٹھکانے ختم کرنے ہوں گے’۔

اس سے قبل سماجی رابطے کی ویب سائٹ ٹوئٹر پر ایک ٹوئٹ کرتے ہوئے وزیر اعظم عمران خان کا کہنا تھا کہ میری طرف سے بھارت کو امن مذاکرات کی بحالی کی دعوت دی گئی تھی لیکن اس پر منفی جواب سے مایوسی ہوئی ہے۔

وزیر اعظم عمران خان نے کہا تھا کہ امن مذاکرات کی بحالی کی دعوت کے جواب میں بھارت کا منفی اور متکبر رویہ باعث افسوس ہے۔

واضح رہے کہ وزیر اعظم عمران خان نے وزارت عظمیٰ کا منصب سنبھالنے سے قبل ہی بھارت کو امن مذاکرات کی دعوت دی تھی اور کہا تھا کہ بھارت ایک قدم ہماری طرف بڑھائے گا تو ہم 2 قدم آگے بڑھیں گے۔

بعد ازاں وزارت عظمیٰ کا منصب سنبھالنے کے بعد باضابطہ طور پر بھارت کو مذاکرات کی دعوت دی تھی اور اقوام متحدہ کے اجلاس میں دونوں ممالک کے وزرائے خارجہ کی ملاقات کی درخواست کے لیے وزیر اعظم عمران خان اور وزیر خارجہ شاہ محمود قریشی کی جانب سے بھارتی حکام کو 2 علیحدہ خطوط لکھے گئے تھے۔

20 ستمبر کو ان خطوط کے جواب میں بھارت نے اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی کے اجلاس میں پاک ۔ بھارت وزرائے خارجہ کی ملاقات پر رضامندی ظاہر کی تھی اور کہا تھا کہ اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی کے اجلاس کی سائڈ لائن میں باہمی طور پر طے کردہ تاریخ اور وقت پر ہوگی۔

تاہم اس جواب کے ایک روز بعد 21 ستمبر کو ہی بھارت اپنے بیان سے مکر گیا اور پاک-بھارت وزرائے خارجہ ملاقات منسوخ کردی۔

بھارتی دفتر خارجہ کے ترجمان رویش کمار نے فیصلے سے آگاہ کرتے ہوئے بیان دیا کہ ‘حالیہ واقعات یہ ظاہر کرتے ہیں کہ پاکستان سے کسی بھی طرح کے مذاکرات بے معنی ہیں’۔

انہوں نے کہا تھا کہ ‘پاکستان کی جانب سے تعلقات کے نئے آغاز کے لیے مذاکرات کی تجویز کے پیچھے چھپا اس کا مکروہ ایجنڈا سامنے آگیا ہے اور وزیر اعظم عمران خان کا اصل چہرہ پوری دنیا نے دیکھ لیا ہے’۔

ساتھ ہی بھارت نے اس ملاقات کی منسوخی کی وجہ مقبوضہ کشمیر میں 3 سیکیورٹی فورسز کے اہلکاروں کی ہلاکت اور پاکستان کی جانب سے کشمیری مجاہد برہان وانی کی تصویر کے پوسٹل اسٹیمپس جاری کرنے کو قرار دیا تھا۔

دوسری جانب وزیر خارجہ شاہ محمود قریشی نے بھارت کا اقوام متحدہ کے جنرل اسمبلی کے اجلاس میں ہم منصب سے ملاقات سے معذرت پر حیرانی کا اظہار کیا تھا۔

ان کا کہنا تھا کہ ’پاکستان خطے کی بہتری چاہتا ہے، خبر سن کر افسوس ہوا، لگتا ہے کہ پاکستان کا مثبت رویہ بھارت میں سیاست کی نذر ہوگیا‘۔

وزیر خارجہ کا کہنا تھا کہ بھارت کے اس فیصلے سے ظاہر ہوتا ہے کہ بھارت میں آنے والے انتخابات کی تیاری کی جارہی ہے، ہندوستان اپنے خول سے باہر نہیں نکل پارہا ہے۔

اپنی رائے دیں

%d bloggers like this: