بنیادی صفحہ » خبریں »

سعودی عرب حکومتی پالیسی کے خلاف بیان پر امام کعبہ گرفتار

Try WordPress Hosting Free for 30 Days | Cloudaccess.net

سعودی عرب حکومتی پالیسی کے خلاف بیان پر امام کعبہ گرفتار

 

معاشرتی برائیوں کےخلاف عوامی سطح پر آواز بلند کرنے کی اسلامی ذمہ داری کے حوالے سے وعظ پر گرفتاری عمل میں آئی

گرفتار ہونے کے چند گھنٹوں بعد ہی ان کا انگریزی اور عربی ٹویٹر اکاؤنٹ بھی ڈی ایکٹویٹ ہوگیاٜ پریزنر آف کنسائینس

سعودی عرب نے امام کعبہ شیخ ڈاکٹر صالح الطالب کو مبینہ طور پر حکومتی پالیسیوں کو تنقید کا نشانہ بنانے پر گرفتار کرلیا گیا۔ غےر ملکی نشریاتی ادارے نے امام کعبہ کی حراست کی تصدیق کےلئے سعودی عرب میں قیدیوں کے حقوق کےلئے کام کرنے والے ایک گروپ کے سوشل میڈیا پر جاری بیان کا حوالہ دیا۔

پریزنر آف کنسائینس نامی یہ گروپ سعودی عرب میں مذہبی شخصیات، علما اور مبلغین کی گرفتاری کی نگرانی کرتا ہے اور اس حوالے سے دستاویزات مرتب کرتا ہے۔ مذکورہ گروپ نے امام کعبہ کی حراست کے پیچھے موجود وجوہات کے بارے میں بتایا گیا کہ انہیں عام طور پر رائج برائیوں کے خلاف عوامی سطح پر آواز بلند کرنے کی اسلامی ذمہ داری کے حوالے سے دیئے گئے ایک وعظ کے باعث گرفتار کیا گیا، انہےں اپنی تقریر میں کنسرٹس اور تفریحاتی تقریبات میں نامحرم مردوں و خواتین کے گھلنے ملنے کو تنقید کا نشانہ بنایا تھا۔

تاہم انہوں نے براہ راست سعودی حکام پر کوئی تنقید نہیں کی تھی، خیال رہے کہ ان کی گرفتاری کے چند گھنٹوں بعد ہی ان کا انگریزی اور عربی ٹویٹر اکاؤنٹ بھی ڈی ایکٹویٹ ہوگیا تھا۔ یاد رہے کہ سعودی ولی عہد محمد بن سلمان کی سربراہی میں سعودی عرب کے قدامت پسند معاشرے میں کئی جدید اصلاحات متعارف کروائی گئیں ہیں، جس کے تحت خواتین کو عوامی اجتماعات میں شرکت کی اجازت کے لیے قوانین میں نرمی بھی کی گئی۔ سعودی فرماں رواں شاہ سلمان کے بیٹے محمد بن سلمان کے ولی عہد مقرر ہونے کے بعد سے جون 2017 سے اب تک درجنوں مساجد کے اماموں، خواتین کے حقوق کے لیے کام کرنے والے رضاکاروں اور شاہی خاندان سے تعلق رکھنے والے افراد کو گرفتار کیا جا چکا ہے۔

 

اپنی رائے دیں

%d bloggers like this: