چاند میری طرح پگھلتا رہا

0

چاند میری طرح پگھلتا رہا
نیند میں ساری رات چلتا رہا

جانے کس دُکھ سے دل گرفتہ تھا
مُنہ پہ بادل کی راکھ ملتا رہا

میں تو پاؤں کے کانٹے چُنتی رہی
اور وہ راستہ بدلتا رہا

رات گلیوں میں جب بھٹکتی تھی
کوئی تو تھا جو ساتھ چلتا رہا

موسمی بیل تھی مَیں ، سُوکھ گئی
وہ تناور درخت، پَھلتا رہا

سَرد رُت میں ، مُسافروں کے لیے
پیڑ ، بن کر الاؤ ، جلتا رہا

اپنی رائے دیں

%d bloggers like this: