جو شہر سوکھ گیا ہے وہ ہرا کیسے ہو

0
2

جو شہر سوکھ گیا ہے وہ ہرا کیسے ہو
میں پیمبر تو نہیں میرا کہا کیسے ہو
دل کے ہر ذرے پہ ہے نقش محبت اس کی
نور آنکھوں کا ہے آنکھوں سے جدا کیسے ہو
جس کو جانا ہی نہیں اس کو خدا کیوں مانیں
اور جسے جان چکے ہیں وہ خدا کیسے ہو
عمر ساری تو اندھیرے میں نہیں کٹ سکتی
ہم اگر دل نہ جلائیں تو ضیا کیسے ہو
جس سے دو روز بھی کھل کر نہ ملاقات ہوئی
مدتوں بعد ملے بھی تو گلہ کیسے ہو
دور سے دیکھ کے میں نے اسے پہچان لیا
اس نے اتنا بھی نہیں مجھ سے کہا ’’کیسے ہو!‘‘
وہ بھی اک دور تھا جب میں نے تجھے چاہا تھا
دل کا دروازہ ہے ہر وقت کھلا کیسے ہو

LEAVE A REPLY

Please enter your comment!
Please enter your name here