بنیادی صفحہ » Shehzad Ahmed »

جو شہر سوکھ گیا ہے وہ ہرا کیسے ہو

Try WordPress Hosting Free for 30 Days | Cloudaccess.net

جو شہر سوکھ گیا ہے وہ ہرا کیسے ہو

جو شہر سوکھ گیا ہے وہ ہرا کیسے ہو
میں پیمبر تو نہیں میرا کہا کیسے ہو
دل کے ہر ذرے پہ ہے نقش محبت اس کی
نور آنکھوں کا ہے آنکھوں سے جدا کیسے ہو
جس کو جانا ہی نہیں اس کو خدا کیوں مانیں
اور جسے جان چکے ہیں وہ خدا کیسے ہو
عمر ساری تو اندھیرے میں نہیں کٹ سکتی
ہم اگر دل نہ جلائیں تو ضیا کیسے ہو
جس سے دو روز بھی کھل کر نہ ملاقات ہوئی
مدتوں بعد ملے بھی تو گلہ کیسے ہو
دور سے دیکھ کے میں نے اسے پہچان لیا
اس نے اتنا بھی نہیں مجھ سے کہا ’’کیسے ہو!‘‘
وہ بھی اک دور تھا جب میں نے تجھے چاہا تھا
دل کا دروازہ ہے ہر وقت کھلا کیسے ہو

اپنی رائے دیں

%d bloggers like this: